59

ضلعی دفاتر بونی سے قاق لشٹ منتقلی کی بھر انداز مین امخالفت..ضلع ِاپر چترال کے عمائدین

بونی( نمائندہ آوازچترال)گذشتہ روز ضلع ِاپر چترال کے عمائدین کا ایک اہم اور مشترکہ اجلاس بونی میں منعقد ہوا۔جس میں اپر چترال بونی کے علاوہ موڑکھو،مستوج اور تور کھو کے عمائدین نے شرکت کی۔ اجلاس کا ایجینڈہ صرف ضلعی دفاتر کی قاق لشٹ منتقلی کی تجویز پر علاقے کے لوگوں کی رائے اور ائیندہ کا لایحہ عمل تھا۔مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر علاقے کے اکثر معززین،ناظمین، کونسلرز اور سیاسی شخصیات اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔صدارت تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف نے کی جبکہ مہمانِ خاص مستوج کے نامی گرامی،سیاسی و سماجی شخصیت سید مولائی دین شاہ تھے۔اجلاس میں شریک ذیل حضرات نے اپنے رائے کا اظہار کیے۔جو کہ بونی سے سابق تحصیل ناظم اور علاقے کی معتبر شخصیت شمس الرحمن لال،مولانا فدا الرحمن، نائب تحصیل ناظم فخرالدین(لوٹ اویر)، میرایوب موردیر،شیخ عبد اللہ میراگرام نمبر ۱،پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے جنرل سکرٹری حمید جلال موڑکھو،سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل سیف الاسلام تریچ،قساڈو مستوج کے چیر مین سعادت جان،ڈاکٹر علی مراد بونی،محی الدین حاتم موڑکھو،سلطان نگاہ بونی، عبد الحسین موڑکھو،لیڈی کونسلر حصول بیگم بونی، امیرِ جماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید،پی۔ٹی۔آئی۔ رہنما حبیب اللہ چوئینج مستوج،ناظم ویلج کونسل کھوژ نور عجم، بزرگ سیاسی شخصیت دُردانہ شاہ بونی،صدر پی۔پی۔پی اپر چترال امیر اللہ ریشن،سید مولائی دین شاہ مستوج، وا تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف موڑٖکھو۔ جبکہ تورکھو کے عمائدین باامرِ مجبوری شریک ہونے سے رہے تھے جن میں سابق ناظم ڈسٹرکٹ کونسل عبد القیوم بیگ،سابق چیرمین عظمت اللہ،کونسلر شرافتی،حسین زرین، وغیرہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ان کے پیغامات ذاکر زخمی نے شرکاء اجلاس تک پہنچائی ان کے علاوہ مختلف مکا تبِ فکر کے لوگ بڑی تعداد میں اجلاس میں موجود تھے انہوں نے بھی حاضریں کی رائے سے مکمل اتفاق کا اظہار کیا ۔انجامِ کار ان تمام کے شرکاء اور مقررین کے رائے کی روشنی میں اجلاس کے اختیتام پر ایک متفقہ قرارداد عمل میں لایا گیا۔ جس کے رو سے ضلعی دفاتر بونی سے قاق لشٹ منتقلی کی بھر انداز مین امخالفت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا گیا اور مطالبہ کی کہ حکومتِ کے۔پی۔کے کے نوٹیفکشن کے روشنی میں تمام ضلعی دفاتر بونی ہی میں تعمیر کی جائے۔ اس میں خلل ڈال کرعوامِ اپر چترال کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش نہ جائے۔بلکہ اس پاسماندہ علاقے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دیکر اپر چترال کے لیے مربوط منصوبہ بندی کر کے اسے ایک مثالی ضلع بنایا جائے۔ شرکاء کی اکثریت اس بات پر بھی زور دی کہ وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخواہ محمود خان صاحب اپر چترال کا دورہ کرکے خصوصی پیکیج اس ضلع کے لیے اعلان کریں تا کہ ان کے دورِ حکومت میں ان کے بنائے ہوئے ضلع ترقی کی منازل طے کرسکے اور دفاتر کے ایشو کھڑا کرکے مزید اس ضلع کو مسائل سے دوچار نہ کریں۔

Facebook Comments