53

صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے پیچھے ہٹ گئے؟

اسلام آباد(آوازچترال نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان اپنے ایشوز کو دو طرفہ طور پر ہینڈل کر سکتے ہیں، تاہم وہ ان کی مدد کے لیے حاضر ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس میں جی سیون اجلاس کے سائیڈ لائن پر انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے مودی سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’کشمیر ان کے کنٹرول میں ہے۔‘ روئٹرز کے مطابق جب نریندر مودی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہیں گے کہ صدر ٹرمپ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کریں تو انہوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے ایشوز دو طرفہ ہیں۔  مودی نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان کے لیڈر سے کہا ہے کہ انہیں مل کر دنوں ملکوں کے عوام کی فلاح اور بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق فرانس میں ہونے والے جی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائن پر صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے موقع پر مودی نے کہا کہ ہم کشمیر کے معاملے پر کسی تیسرے ملک کو زحمت نہیں دیں گے۔ مودی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ معاملہ ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ انڈیا اور پاکستان کا  بہت ہی اچھا دوست ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر گذشتہ دنوں ایک سے زائد بار کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔  ہندوستان ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان جلد اپنے اختلافات حل کر لیں گے۔  صدر ٹرمپ نے کا کہنا تھا کہ گذشتہ شام انہوں نے مودی کے ساتھ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کی اور ’مودی کا خیال ہے کہ کشمیر کنٹرول میں ہے۔‘ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ انڈیا، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔  واضح رہے کہ اس سال وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیاں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ پاکستان نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا تھا تاہم انڈیا نے کہا تھا کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں

Facebook Comments