داد بیداد ..... ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی .....لو کل گورنمنٹ؟؟ | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / داد بیداد ….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …..لو کل گورنمنٹ؟؟

داد بیداد ….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …..لو کل گورنمنٹ؟؟

اگست کے آخر ی ہفتے میں لو کل گورنمنٹ کی مد ت پوری ہونے کے بعد نا ظمین اور کونسلروں کو فارغ کیا گیا ہے دفاتر، گاڑیاں اور دیگر وسا ئل متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے حوالے کئے گئے ہیں نئے انتخا بات کے لئے ابھی تاریخ نہیں دی گئی حکومت کے سامنے کشمیر اور افغا نستان کے گھمبیر مسائل ہیں الیکشن کمیشن میں بحران ہے چیف الیکشن کمشنر نے دو نئے ممبروں سے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت لو کل باڈیز ایکٹ میں ترا میم لانے والی ہے اسمبلی میں بل پا س ہونے کے بعد انتخا بات کے لئے تا ریخ دی جا ئے گی گویا مطلع صاف نہیں ہے ستھری اور اُجلی تصویر نظر نہیں آرہی ایک بات کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ ضلع نا ظم یا ضلع کونسل کا چیر مین نہیں ہوگا ضلع کونسل نہیں ہو گی ضلع نا ظم یا چیرمین جب آتا تھا وہ ایم پی اے کے برابر پرو ٹو کول مانگتا تھا اس کا عہدہ ختم کر کے تحصیل میو نسپل ایڈ منسٹریشن میں نا ظم یا چیر مین کا عہدہ رکھ دیا گیاہے جو نائب تحصیلدار کی سطح کا عہدہ ہے ایم پی اے کو اس عہدے سے کوئی شکا یت نہیں ہو گی اس لئے لو کل گورنمنٹ پر دو سوالیہ نشانات نما یاں نظر آرہے ہیں پہلا نشان اس سوال کا ہے کہ کیا آنے والی لو کل گورنمنٹ بھی جا نے والی لو کل گورنمنٹ کی طرح بے اختیار اور نا کام لو کل گورنمنٹ ہو گی؟دوسرا نشان اس سوال کا ہے کہ کیا بے اختیار، بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ لو کل گورنمنٹ میں عوام کی کوئی دلچسپی ہو گی؟ غیر سر کاری تنظیموں اور سول سو سائیٹی کے اداروں میں سا لا نہ اہداف مقرر کئے جا تے ہیں جو اہداف حا صل نہ ہو سکیں ان کو سا لا نہ رپورٹ میں ”سبق“ کا نا م دیا جا تا ہے انگریزی میں اس کے لئے ” لیسنزلرنٹ“ (Lessons learnt) کی تر کیب استعمال ہو تی ہے 2015میں لو کل گورنمنٹ کے انتخا بات کے بعد جو حکومتیں قائم ہو ئی تھیں اُن پر وہ لطیفہ صا دق آتا ہے کہ ”کھا یا پیا کچھ نہیں گلا س توڑا چار آنے“ جانے والی لو کل گورنمنٹ کے ساتھ 3زیا دتیاں ہوئیں جن کا حساب کوئی نہیں لے سکے گا پہلی زیا دتی یہ ہوئی کہ اس سسٹم میں ویلج کونسل اور نیبر ہُڈ کونسل کے نا م سے 5000کی آبادی پر بنیا دی اکائی قائم کی گئی تھی یہ بہت اچھا کام تھا اس کا تصور اور وژن بہت اچھا تھا لیکن انتخابات کے 3ماہ بعد اس بنیا د ی اکائی کے اختیارات ڈائریکٹر جنرل لو کل گورنمنٹ کو دیدیے گئے پشاور میں بیٹھا ہوا افیسر شانگلہ، بو نیر اور چترال کے پہا ڑی علا قے میں قائم ویلج کونسل کا حا کم بن گیا تما م فنڈ تمام کام اور تما م اختیا رات ہو ا میں معلق ہوگئے پیدا ئش، اموات اور نکاح، طلا ق کے سر ٹیفیکٹ جاری کرنے کے سوا ویلج کونسل کے پاس کچھ بھی نہ رہا منصو بے خا ک میں مل گئے، تجا ویز در یا بُر د ہوگئیں 33فیصد فنڈ قا نون کے تحت ویلج کونسل کو ملنے تھے وہ ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں پھنس گئے دوسری زیا دتی سیا سی سطح پر تھی انتخا بات کے بعد 8اضلا ع میں تحریک انصاف نے حکومت بنا ئی17دیگر اضلا ع میں دوسری جما عتوں کی حکومتیں بن گئیں جن اضلا ع میں دسری جما عتوں کی حکومتیں بن گئیں ان کو پہلے ہی دن عاق (disown) کر دیا گیا پشاور اور ایبٹ آباد کی طرح جن اضلا ع میں تحریک انصاف نے حکومت بنا ئی وہاں حکومتی پارٹی دو گروپوں میں تقسیم ہوئی چنا نچہ نہ حزب اختلاف والوں کے ہاتھ کچھ آیا نہ حزب اقتدار والوں کو کچھ ملا ”گناہ بے لذت“ میں 4سال گذر گئے تیسری زیا دتی یہ ہوئی کہ ما رچ 2015ء میں لو کل گورنمنٹ کا جو قانون بنا یا گیا تھا اگست 2015ء میں اُس کا نصف حصہ تبدیل کر دیا گیا اُس میں لو کل باڈیز کے منتخب نما ئندوں کے تما م اختیارات ختم کر دیئے گئے اور ضلع نا ظم کو دیئے گئے محکمے واپس لے لئے گئے اختیا رات کی نچلی سطح پر منتقلی کانظا م الٹ دیا گیا اور اختیا رات ڈپٹی کمشنر سے بھی واپس لیکر ڈی جی لو کل گورنمنٹ کو دیدیے گئے ان زیا دیتوں کے بعد نا ظمین کو استغفٰی دے کر لو کل گورنمنٹ کی حقیقت کا پر دہ چاک کر دینا چا ہئیے تھا مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی اب سارا معا ملہ رفت بود ہو گیا ہے تو حکومت کے سامنے دو تجا ویز رکھنے کو جی چاہتا ہے اگر چہ پڑھنے اور سننے والا کوئی نہیں پھر بھی ایک دوات کی سیا ہی خر چ کرنے میں کیا ہر ج ہے! پہلی تجویز یہ ہے کہ یحییٰ خان کے دورکی طرح لو کل گورنمنٹ کا نظام ختم کردیا جائے انتخا بات پر پیسہ ضا ئع نہ کیا جائے، ڈپٹی کمشنر وں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مقامی حکومت کے اختیارات دیدیے جائیں۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، اگر یہ تجویز قابل قبول نہ ہو تو 2001ء کا لو کل گورنمنٹ ایکٹ دوبارہ نا فذ کر کے ضلع کونسل اور تحصیل کونسلوں کے ساتھ ضلع کونسل کے ارا کین کو وہی اختیارات دیدیے جائیں جو جنرل مشرف کے دور میں ان کو دیے گئے تھے اگر یہ ممکن نہ ہو تو جنرل ضیاء الحق کا 1979ولا ایکٹ دوبارہ نا فذ کیا جائے اُس پر بھی کا فی محنت ہوئی تھی اُس ایکٹ کے تحت بلدیاتی اداروں نے نما یاں کام کیا تھا اگر 2015اور 2019کے قوانین کا ملغوبہ لا یا جارہا ہے تو لوکل گورنمنٹ کے انتخا بات ہونے سے ان کا نہ ہونا بہتر ہے

error: Content is protected !!