56

پنجاب حکومت کا ایک سال، دعوئوں ،بیانات، اعلانات اور مراعات لینے پر ہی گزر گیا

لاہور(رپورٹ:محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت کا ایک سال، دعوئوں ،بیانات، اعلانات اور مراعات لینے پر ہی گزر گیا،ایک سال میں تبادلوں،سیاست سمیت محکموں میں 37اہم یوٹرن لئے،سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز سمیت 198افسران کے سیاسی بنیادوں پر تبادلے ہوئے،جس سے کام کچھ نہ ہوا، عوام کےبنیادی مسائل سے متعلق کام کچھ نہ ہوا،صاف پانی کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی، صفائی کا نظام واضح نہ ہو سکا، نہ نوکریاں ملیں اور نہ ہی تھانہ کلچر تبدیل ہو سکا، جرائم و کرائم کی شرح میں 25فیصد تک اضافہ ہوا، ریپ ، گینگ ریپ ، قتل اور دیگر جرائم بھی بڑھ گئے، حکومت کسی بھی دعوے پر پورا نہ اتر سکی ، اتھارٹیز، کمپنیز اور دیگر اہم عہدوں پر سیاسی و سفارشی تعیناتیاں کی گئیں،مسائل کے انبار ہی لگے رہے ۔

پنجاب میں سفری اخراجات میں 50فیصد تک اضافہ ہوا ، حکومتی اخراجات 25سے 30فیصد تک بڑھے،سیاسی مداخلت ہر محکمے ہر سیکشن میں عروج پر دیکھائی دی ،پروٹوکول جس نے چاہا اس نے خوف انجوائے کیا، وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء نے سرکاری دفاتر کے مکمل پروٹوکول کے ساتھ دورے کئے گئے، غیر منتخب نمائندوں کی جانب سے سرکاری مداخلت کی جاتی رہی، سرکاری محکموں میں فائل نکلنے کے بجائے 28ہزار 256فائلیں التواء کا شکار رہیں ،بعض محکموں میں ایک سیکرٹری کے 6بار تک تبادلے ہوئے تو بعض کے صرف تبادلے ہی ہوتے رہے۔پنجاب میں صرف قانون سازی پر مثبت پیش رفت سامنے آئی۔ وزیراعظم عمران خان کے لاہور دوروں میں 95فیصد بیوروکریسی ، وزراء کی جانب سے شکایات پر ایکشن لئے گئے اور ان کو کام کرنے اور معاملات کیسے چلانے ہیں ان سے متعلق احکامات جاری کئے گئے۔

“روزنامہ دنیا “کی جانب سے کی جانیوالی تحقیقات میں سالانہ کارکردگی میں اہم انکشافات سامنےا ٓئے ہیں ، حکومت کی جانب سے پولیس، محکموں میں بہتری لانے، سیاسی مداخلت کے خاتمے، پروٹوکول لینے، رشتہ داروں کو نوازنے سمیت اخراجات کم کرنے سمیت اہم معاملات میں ایک سال کے دوران 37اہم معاملات پر یوٹرن لئے گئے ہیں، کبھی پولیس،تبادلوں، تو کہیں وزراء کی تعیناتی ہو ،تو کہیں سہولیات کے دعوے ہوںیوٹرن ہی یوٹرن دیکھائی دئیے ہیں۔ حکومت نے تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے کئے تو کہیں عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے دعوے کئے گئے تھے،لیکن تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوا، اور نہ ہی عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے، کبھی وردی کی تبدیلی کا شور تو کبھی آئی جی اور پولیس افسران کی تبدیلی کا میلہ بھی لگا رہا ، پولیس اصلاحات سے متعلق 9کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں، لیکن ان تمام کمیٹیوں نےا جلاس کئے اور رزلٹ صفر ہی رہا، تو پھر وزیراعظم نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سطح پر ایک نئی کمیٹی بنا ڈالی ۔

جبکہ پنجاب میں جرائم و کرائم کی شرح میں 25عشاریہ 78فیصد اضافہ ہوا ہے، اگر صرف رواں سال جنوری سے جون تک ہی جرائم کا اندازہ لگایا جا ئے تو چھ ماہ میں 1لاکھ 96ہزار 762جرائم کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور 1ہزار 976افراد قتل ہوئے ہیں، اغواء، اغواء برائے تاوان کے تقریبا 7100کیسز سامنے آئے ہیں، ریپ کے 1ہزار 776کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گینگ ریپ کے 86کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اسی طرح جب سے حکومت آئی ہے 2018سے لیکر 2019تک جرائم کی شرح میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے، تین آئی جیز تبدیل کئے، لیکن پھر بھی کچھ تبدیلی نہ آسکی، پنجاب میں تبادلوں کی بہار رہی،،،ایک برس میں 198افسران کے تبادلے کئے،سیاسی مداخلت پر سیکرٹریز، کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے بھی ہوتے رہے، جس حکومتی ممبران اسمبلی نے جہاں پر اپنے من پسند افسر کی تعیناتی چاہی وہاں ہی اس کو تعینات کرڈالا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سیکرٹری خوراک شوکت علی کا بطور سیکرٹری زراعت تبادلہ کیا گیا، پھر مبینہ سفارش پر واپس کیا، پھر سیکرٹری ہائی ایجوکیشن لگایا، پھر تبادلہ واپس پھر انہیں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو لگایا، سیکرٹری اوقاف ، سیکرٹری ہائی ایجوکیشن، سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری آئی اینڈ سی سمیت، کمشنر ساہیوال، کمشنر فیصل آباد، کمشنر گوجرانوالہ، کمشنر ڈیرہ غازیخان کے بھی تبادلے ہوئے، بعض کے 3بار تک تبادلے ہوئے، اسی حکومت میں 15روز میں اسسٹنٹ کمشنر مظہر علی کا 5بار تبادلہ ہوا، کبھی کس عہدے پر تو کبھی کسی اور عہدے پر جب تک افسر کو عہدہ پسند نہ آیا اس وقت تک کام شروع ہی نہ کیا،ا سی طرح ایک اور اسسٹنٹ کمشنر عابد شوکت کا15 دنوں میں 4مرتبہ تبادلہ ہوا ، گریڈ 17 کے افسر کیپٹن (ر) شاہ میر اقبال کو بھی 3 ہفتوںمیں متعدد بار ایک سے دوسری جگہ تبادلے کئے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنرکلر سیداں علی اکبر سے لیکر اسسٹنٹ کمشنر لاہور تک متعدد افسران تبدیل ہوتے رہے ۔

موجودہ حکومت کے ایک سال میں مزید بھی اہم انکشافات سامنے آئےجس کے مطابق مرغی پال اسکیم کے فو ٹوسیشن ہوئے ابتدائی مرحلہ چلا لیکن اس کے بعد بات آئی گئی ہو گئی،کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہ ہوا ،اورنج لائن ٹرین چلنے کی تاریخ پر تاریخ ملتی رہی ،پنجاب میں حکومت نے گروتھ اسٹریٹیجی بنائی وہ بھی سابقہ پالیسیوں کو دیکھ کر تیار کی گئی، حکومتی تمام پلاننگ اسٹریٹیجی میں 90فیصد سابقہ حکومت کے معاملات ہی رہے ،پرانے منصوبوں پر نئی حکومت کا نام لکھا گیا ، سابقہ دور کے ہی منصوبہ جات شامل کئے موجودہ حکومت نے اپنے سالانہ رپورٹ میں شامل کی گئی، کہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ تو کہیں کمیٹیوں کا لاگ اپناتے رہے لیکن عوام کو تاحال کچھ نہ مل سکا۔

حکومت کا30فیصد ترقیاتی بجٹ بلدیاتی اداروں کو منتقل ہونے کا دعویٰ کیا لیکن کچھ نہ ملا،لاہور سمیت پورے صوبے میں جگہ جگہ کوڑےکے ڈھیر کسی بھی کمپنی اور دیگر انتظامیہ نے تاحال کوئی پلاننگ نہ بنائی ، کمپنیاں ہوں یا اتھارٹیز ہوں یا کوئی بھی محکمہ ہوتعیناتیاں ہوسیاسی،میرٹ پر تعیناتیاں سوالیہ نشان ہی بنی رہیں،اسی طرح جنوبی پنجاب صوبہ بنانے جنوبی پنجاب منی سیکرٹریٹ بنانے کے بھی صرف دعوے ہی رہے ،بیوروکریسی نے ملبہ پھر کاغذی کارروائی تک ہی محدود رکھا اور عوام کولارے ہی دئیے گئے۔

حکومت میں عوام کے مسائل بڑھتے ہی گئے، اورشاہ خرچیاں ، پروٹوکول عروج پر ہی رہا ،کبھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا لاہور، ڈی جی خان،میاں چنوںاور دیگر مقامات کا پروٹوکول کے ہمراہ دورے کئے گئے، تو کہیں غیر منتخب نمائندوں کے ہمراہ پروٹوکول ،عوام سادگی کے دعوئوں کو دیکھنے کے لئے ترستی ہی رہ گئی ،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنے سسرال کے گائوں 3ایٹ آر میں جانا تھاتو وہاں پر بھی انہوں نے پہلے سرکاری ہسپتال کا وزٹ کیا تاکہ بتایا جا سکے کہ وہ سرکاری وزٹ پر ہیں لیکن ہسپتال کے وزٹ کے فوری بعد وہ اپنے سسرال کے گائوں گئےجہاں پر 30سے زائد گاڑیوں کا پروٹوکول تھااو رعثمان بزار خصوصی طورپر اسی لئے وہاں گئے تھے جہاں سے فاتحہ خوانی کرنے کے بعد وہ ہیلی کاپٹر سے روانہ ہوئے تھے، لاہور میں بھی گاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ ساتھ ساتھ لتارہا۔ وزیراعلیٰ آفس، گورنر سیکرٹریٹ ، وزراء ،محکموں کے اخراجات کم نہ ہوئے۔ؕ

حکومتی دعوے تو تھے لیکن سرکاری ریکارڈ نے پھر اخراجات بڑھنے کے دعوئوں کو بے نقاب کر دیا ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دفتر، گھر پر 60کروڑ کے بجائے 78کروڑ 80لاکھ خرچ کر ڈالے،وزیراعلیٰ ہائوس، دفتر کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کئے ،ٰ پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ آفس ، ہائوس کے اخراجات بڑھنے کو بجٹ دستاویزات میں تسلیم کیا گیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے زیر استعمال ہیلی کاپٹرپر کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات کئے گئے، وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر پر اضافی اخراجات 22کروڑ 15لاکھ88ہزارروپے کرڈالے ،ائیرٹرانسپورٹ کی مرمت کی مد میں 2کروڑ 21لاکھ روپے خرچ ہوئے ،وی آئی پی فلائٹ کی دیکھ بھال اور آپریشن سیل پر کروڑوں روپے اضافی خرچ ہوئے ہیں۔

اگر حکومت نے کچھ کام کیا تو قانون سازی کے عمل میں مثبت اور بہتر کام کیا، قوانین تو بنائے لیکن عملدآمد کس نے اور کیسے کرنا ہے کوئی پلان ہی موجود نہیں، حکومت نے قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن اور 9لاکھ کنال زمین واگزار کروائی، حکومت نے ہیلتھ کارڈ متعارف کروایا ،،، لیکن سابقہ حکومت کے نقش قدم پر ہی ، 50لاکھ گھر 5سالوں میں بنانے کے اعلانات تو کئے اس میں بھی پرائیویٹ کمپنیوں کی مبینہ طورپر مداخلت کا شور سامنےا ٓرہا ہے۔ پنجاب حکومت کے تمام محکمے سابقہ حکومتی کارکردگی اور معمول کی رپورٹ کو اپنی کارکردگی بناتی رہی ،پنجا ب میں اگر کہیں کام ہوا تو صرف سیاسی سفارش کو تلاش کرنے پر کام ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ محکمہ اسکولز ہو یا محکمہ ہائیر ایجوکیشن مسائل کےانبار لگے رہے۔

سابقہ حکومتی ٹرانسفر اور ترقی یافتہ پالیسیو ں کو نیا کپڑا پہنا کر اپنی کارکردگی بنا لی گئی، پنجاب میں مسائل ویسے کے ویسے ہی رہے، مسائل کم نہ ہوئے اور نہ ہی محکموں میں بہتری آسکی۔ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو میرٹ پر کام کرنے کی سزا ملی اور اہم شخصیت کے پریشر پر پولیس افسران کو زبردستی پنجاب سے نکالا گیا ، سانحہ ساہیوال پیش آیا بہت پریس کانفرنسیں کیں لیکن پھر معاملہ خاموش ہو گیا، اور ابھی تک کچھ رزلٹ سامنے نہ آیا۔ سابق آئی جی خیبرپختونخواہ کو پنجاب میں اہم ذمہ داری دی گئی لیکن ناصر خان درانی نے معذرت کر لی اور کام کرنے سے صاف ہی انکار کر دیا اور واضح کر دیا کہ پروفیشنل افراد کے ساتھ ہی کام کیا جاسکتا ہے ۔

ڈپٹی کمشنرز راجن پور، چکوال ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت دیگر افسران نے سیاسی مداخلت پرا ٓواز اٹھائی تو انکے خلاف کارروائی شروع کی گئی تو ان کو عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا ۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات فری ملنا ختم کر دی گئیں، آئو ٹ ڈور میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ، ادویات موجود ہی نہیں، ہسپتالوں میں نرسز کی شدید کمی کے باجود بھی کوئی اقدامات نہ کئے گئے، ذرائع کے مطابق پنجاب میں غیر منتخب نمائندے جہانگیر ترین، نعیم الحق سمیت متعدد افراد کی جانب سے سیاسی اور محکموں میں بھی مداخلت کی جاتی رہی، یہاں تک کے ایک سال میں ان کی جانب سے متعدد اجلاسوں کی صدارت بھی کی گئی، جس کے بعد بیوروکریسی کی جانب سے تحفظات سامنے آنے پر ان کو روک دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ایک سال میں سابقہ حکومت کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر ہی توجہ دی گئی جبکہ عوام کے مسائل حل کرنے پر کوئی فوکس نہ کیا گیا۔

اس حوالے سے وزیر قانون راجہ بشارت کہتے ہیں کہ پنجاب میں بہت بہتر اقدامات ہوئے ہیں، قانون سازی بہت زبردست ہوئی، عملی طورپر بہت کام ہوئے ہیں جن کے رزلٹ آئندہ چند ماہ میں سامنےا ٓئیں گے،صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کے ایک سال میں کسی جگہ بھی کرپشن نہیں ہوئی، کہیں پر کوئی غیرقانونی اقدامات نہیں ہوئے، عثمان بزدار کی تعیناتی سے کارکردگی بہتر رہی، اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے، جو اقدامات کئے ہیں وہ مکمل طورپر میرٹ اور قوانین ، پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے گئے، اور کسی جگہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی ہے ۔

Facebook Comments