54

خیبر پختونخوا کابینہ کا اہم اجلاس ٗ مختلف بلوں کی منظوری

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)خیبر پختونخوا کابینہ نے قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو تحلیل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ادارے کے ملازمین کو مختلف محکموں میں کھپانے اور جاری منصوبوں کے تمام اثاثے متعلقہ محکموں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضم اضلاع سے گزرنے والی 383کلو میٹر طویل ہائی ویز بھی پراونشل ہائی ویز اتھارٹی کو منتقل کر دی گئی ہے ٗ کابینہ نے مستحق خواتین جوخاندانی جھگڑوں کے کیسوں میں وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں انہیں مفت لیگل ایڈ فراہم کرنے کے قانونی مسودے کی منظوری دی ہے ٗصوبائی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر مبنی کتابچہ شائع کرنے اور 10منٹ کی ڈاکو منٹری بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کابینہ نے لیگل ایڈ بل ٗ پروڈکٹیو ہیلتھ کیئر اینڈ رائٹس سمیت مختلف بلوں کی منظوری دی ہے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے جمعہ کے روز صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا لیگل ایڈ بل 2019ء کے مسودے کی منظوری دی ہے اس قانون کے تحت صوبے میں ایک لیگل ایڈ ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔ یہ ایجنسی سینئر وکلاء کا ایک پینل بنائے گی جو صوبے میں مستحق خواتین کو جوخاندانی جھگڑوں کی کیسز میں وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں مفت لیگل ایڈ فراہم کریں گے۔مفت لیگل ایڈ حاصل کرنے کیلئے مستحق افراد کا تعین کرنے کیلئے ایک مکینزم بنایا جائیگا۔ لیگل ایڈ حاصل کرنے کیلئے لیگل ایڈ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس درخواست جمع کرنا ہوگا جس کے ساتھaffidavitاور دیگر ضروری دستاویزات لگانا ہوں گے۔ وفاقی حکومت نے مسلم فیملی لاز ترمیمی ایکٹ2019 قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جس میں مذکورہ ایکٹ کے شق۔4 اور7 میں ترامیم تجویز کی گئیں ہیں۔ وفاقی حکومت کے اس ترمیمی قانون کا دائرہ اختیار وفاقی دارالخلافہ تک محدود ہوگا تاہم آئین کی دفعہ 144کے تحت صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے احکامات کی روشنی میں محکمہ بلدیات نے ان قوانین میں ترامیم کا مسودہ منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی۔ واضح رہے کہ اس ترمیمی قانون کا اطلاق خصوصی طور پر اہل تشیع پر ہوگا۔۴ ستمبر2015ء کو انسانی حقوق سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے محکمہ بلدیات نے ویسٹ پاکستان رولز1961 کے شق۔ 8کے تحت بنائی گئی نکاح فارم کو ری نوٹیفائی کرنے اور اس میں شق۔32 کا اضافہ کرنے کی تجویز کابینہ کے سامنے پیش کی۔ اس اضافی شق میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھنے والا جوڑا زچہ و بچہ کی بہتر صحت کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کا پورا ادراک رکھتا ہو۔کابینہ نے اس نکاح فارم کو ری نوٹیفائی کرنے کی منظوری دیدی۔انہوں نے کہا کہ ضلع پشاور، ہری پور، صوابی اور بنوں کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورمنٹس نے محکمہ بلدیات کو رپورٹ دی تھی کہ ان اضلاع کے بعض ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں ممبران کی سادہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کونسلوں کا سال2018-19 کا بجٹ منظور نہیں کیا جا سکا۔ان ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں مندوزئی ہزار خوانی پشاور، باندی میاں پیرداد ہری پور، جاگل ہری پور، اسماعیلہ نظر صوابی، کھندر خان خیل، پنجال۔ 11بنوں اور میوہ خیل بنوں شامل ہیں۔متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے اپنے اپنے یونین کونسلوں کے اب تک ہونے والے اخراجات کیلئے بجٹ کا مسودہ تیار کرکے (ex-post approvalمنظوری کے صوبائی حکومت کو ارسال کی تھی۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 کی رو سے کسی بھی ویلج کونسل کا بجٹ منظور نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت اس کونسل کا بجٹ بنا کر اس کی منظوری دے گی۔ معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا جن کی کابینہ نے منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا نےReproductive Healthcare & Rights Bill-2019 کی منظوری دیدی ہے جسے بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جائیگا۔ اس بل کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کی جائے گی۔اس بل کے ذریعے زیادہ زور شعور و آگہی پر دیا گیا ہے۔ محکمہ اس سلسلے میں عوام کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی۔ بل کے ذریعے ہر شخص کو آزادی دی گئی ہے اور وہ آزادانہ طور پر بچوں کے بارے میں فیصلے کرے۔کسی پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔انہوں نے کہاکہ محکمہ داخلہ کی طرف سے سی آر پی سی1898 کے شق۔14-A میں ترامیم کا مسودہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیاگیا۔ ان ترامیم کے ذریعے اسپیشل مجسٹریٹس کو جنگلات، معدنیات، اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، سرکاری زمینوں، سڑکوں اور نالوں پر تجاوزات، میونسپل سروسز، بلڈنگ کنٹرول اور موٹر وہیکلز سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں اور جرائم کے کیسز کی سماعت کا اختیار حاصل ہوگا۔ اسپیشل مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے کا مقصد صوبائی حکومت کے گڈ گورننس،اسٹریٹیجی پر بہتر عمل درآمدکو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد سی آر پی سی میں ترامیم کا اختیار صوبائی حکومت کو حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے معاشرے کے محروم طبقوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔بے گھر افراد کیلئے پناہ گاہوں کا قیام بھی اس سلسلے کیایکاہم کڑی ہے۔فی الوقت پشاور میں پانچ پناہ گاہیں قائم کی گئیں ہیں جبکہ صوبے میں مزید پناہ گاہیں بنائی جارہی ہیں۔ان پناہ گاہوں کے معاملات کو ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرزکے تحت صاف اور دفاف انداز چلانے کیلئے قانون کا مسودہ اپریل2019ء کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ کابینہ نے اس قانون کے مسودے کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کو مزید موثر بناکر کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ محکمہ سماجی بہبود نے کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا پناہ گاہ ایکٹ2019ء کا مسودہ منظوری کیلئے دوبارہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی۔

Facebook Comments