داد بیداد .....ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ......روا داری اور خود احتسابی کی مہم | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / داد بیداد …..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……روا داری اور خود احتسابی کی مہم

داد بیداد …..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……روا داری اور خود احتسابی کی مہم

”پاکستان پیس کولیکٹیو“ کے پلیٹ فارم سے وزارت اطلاعات و نشریات نے ملک میں خود احتسابی اور رواداری کے فروغ کے لئے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ فورم کے چیف ایگزیکٹو افیسر شبیر انور نے اسلام آباد میں سنئیر صحافیوں اور دانشوروں کو اس اہم مہم کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس کا پس منظر بیان کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عدم بر داشت کے مظاہرے اخبارات میں لیگی وژن اور سو شل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آتے ہیں۔ ان سے نئی نسل بھی اثر لیتی ہے اور ہمارے نو جوانوں میں عدم بر داشت کا نفسیاتی عارضہ پیدا ہو جا تا ہے۔ جو معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔ اس رجحان کو نئی نسل کی ذہنی اور نفسیاتی تر بیت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے خود احتسابی اور رواداری کی مہم کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقوں کے ساتھ رابطہ کیا جا ئے گا اور صحت مند سر گرمیوں کے ذریعے عدم بر داشت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا ئے گی۔اس سلسلے میں پاکستان پیس کولیکٹیو کے اعلیٰ عہدیدار نے معاشرے کے جن طبقوں کو مخاطب کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ان میں طلبہ، اساتذہ، والدین، میڈیا کے نمائندے وغیرہ شامل ہیں۔ جن سٹیک ہولڈر ز کا نام لیا گیا ہے وہ سب ”متاثرین‘ہیں عدم برداشت کا سر چشمہ نہیں۔ عدم بر داشت کا منبع نہیں۔ عدم بر داشت کو بتدریج ختم کرکے معاشرے کو نفرتوں سے نجات دلانے کے لئے اس کے شر چشمہ اور منبع کو قابو میں لانے کی ضرورت ہے۔ عدم بر داشت اور نفرت دو ذرایع سے پھیلتا ہے۔ پہلا ذریعہ لاوڈ سپیکر ہے۔ اسلامی ملکوں میں کئی ممالک نے نماز کے سوا کسی اور مقصد کے لئے لاوڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگاتی ہے۔ بعض ملکوں میں لاوڈ سپیکر پر پابندی کے ساتھ ساتھ خطیبوں کو لکھا ہوا خطبہ دیا جا تا ہے۔ اس خطبے سے ایک جملہ زیادہ نہیں بول سکتے۔ جب وہ نہیں بو لینگے تو نفرت نہیں پھیلے گی جب نفرت کا پر چار نہیں ہو گا تو عدم برداشت بھی ختم ہو جائیگی۔ ایک دوسرے کو بر داشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ پاکستان پیس کو لیکٹیو کے پہلے مخاطبین علماء ہونے چاہئیں۔ پیشہ ور خطیب اور واعظین ہونے چاہئیں۔ معاشرے میں نفرت، منافرت اور عدم برادشت کو ہوا دینے کا دوسرا ذریعہ پارلیمنٹ، صوبائی، اسمبلیاں اور لو کل گورنمنٹ کے ادارے ہیں۔ ابتدائی مر حلے میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعے نشر اور شائع کرنے پر پا بندی لگانی چاہئیے۔قومی اسمبلی سنیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی کاوروائی میڈیا پر نہیں آئے گی تو منافرت۔ بعض، حسد اور ہٹ دھرمی کی تعلیم کا ایک اور دروازہ بند ہو جا ئے گا۔ اسمبلیوں میں پڑھے لکھے، مہذب، شائستہ اور معزز لوگوں کی کمی نہیں۔ لیکن ہر سیاسی جماعت یہ کوشش کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کی جگہ بازاری زبان استعمال کرنے والوں کو آگے لایا جا ئے۔ اس طرح چند غیر سنجیدہ عناصر کے ہاتھوں میں اسمبلیاں یر غمال بن جا تی ہیں۔ جن لوگوں کو مہذب معاشرے میں بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ وہ نقار خانے میں خاموش رہنے کو تر جیح دیتے ہیں۔ پاکستان پیس کولیکٹیو کا نعرہ ”ہماری پہچان پُر امن پاکستان“ ہے یہ نعرہ صرف اس صورت میں حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بولنے والوں کو اکم از کم 4 سالوں تک خاموش کرکے اپنی عزت بچانے کے لئے خاموشی اختیارکرنے والوں کو مائیک دیا جا ئے۔ بد امنی منافرت اور عدم بر داشت کی ساری ہوائیں پارلیمنٹ سے چلتی ہیں۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کو ذاتی دشمنی کا نشانہ بناتے ہو ئے ”چور اور ڈاکو“ کہا جا تا ہے حزب اقتدار کی کر سیوں پر بیٹھنے والوں کو سلیکٹیڈ چن کر دہ اور نا لائق یا نا اہل کا طعنہ دیا جا تا ہے۔ اسمبلیوں سے یہ انداز بیان سیاسی جلسوں اور میٹنگوں میں آتی ہے۔ جلسوں اور تقریبات میں جو زبان استعمال ہو تی ہے وہ پارٹی کارکنوں کو ازبر ہو جا تی ہے پھر کا رکن اس سلوب کو سوشل میڈیا پر اچھا لتے ہیں ایک دوسرے کو ”پٹواری“ اور ”یو تھی“ کے القابات سے نواز تے ہیں۔پھر یہ میلان یا ٹرینڈ منافرت اور عدم برداشت کا باعث بنتا ہے۔ ہماری پہچان پر امن پاکستان بیحد پُر کشش نعرہ ہے اس نعرے کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مساجد کے منبروں، واعظین کے خطبوں اور اسمبلیوں میں ہونے والی تقریروں کا اسلوب بدلنا شر ط اول ہے۔ جب تک ان کا سلوب نہیں بدلے گا تب تک کوئی خوشبو نہیں آسکیگی۔ محبت اور امن کا پھول نفرت، حسد، بعض اور کینہ کے درخت پر کھبی نہیں کھلتا۔ جب تک مساجد کے منبروں پر مولانا محمد الیاس، مولانامحمد زکریہ کی طرح محبتیں بانٹنے والے لوگ خطبہ نہیں دیتے تب تک لاوڈ سپیکر کے استعمال پر پا بندی لگنی چا ہییے۔ آڈیو ویڈیو ریکارنگ کی ممانعت ہو نی چاہیئے۔ جب اسمبلیوں میں اسلامی تہذیب لوگ مائیک نہیں سنبھالتے تب تک اسمبلیوں کی کاروائی کو اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو اور سو شل میڈیا پر لانے کی سختی سے ممانعت ہو نی چا ہیئے۔رواداری اور عدم برداشت کو ختم کرنے کے یہی دو طریقے ہیں۔

error: Content is protected !!