ضلع کونسل چترال کے بجٹ اجلاس کی جھلکیاں ...... مرتب: ظہیر الدین | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / ضلع کونسل چترال کے بجٹ اجلاس کی جھلکیاں …… مرتب: ظہیر الدین

ضلع کونسل چترال کے بجٹ اجلاس کی جھلکیاں …… مرتب: ظہیر الدین

٭اجلاس حسب روایت ایک گھنٹے کی تاخیر سے صبح 9کے بجائے 10بجے شروع ہوا۔
٭ضلع ناظم مغفرت شاہ اجلاس سے پہلے ضلع کونسل کی لابی میں مختلف اراکین کونسل کے ساتھ گفتگو میں مصروف دیکھائی دئیے۔
٭اجلاس کا کورم بمشکل پورا ہواجب 38کے ہاؤس میں صرف 17ارکان حاضر ہوئے۔
٭ہاؤس کے 8خواتین ارکان میں سے صرف صفت گل حاضر تھی۔
٭جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے ارکان کی اکثریت نے شرکت کی۔
٭اپر چترال ضلع کے افسران تمام حاضر تھے جن میں ڈی۔ سی شاہ مسعود کے علاوہ سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن اپر چترال کے ایکسین انجینئر ریاض ولی شاہ، ڈی ای او (مردانہ) محمود غزنوی، ڈی ای او (زنانہ) غزالہ انجم اور ٹی ایم اے مستوج کے ٹی ایم او کریم اللہ اور موڑکھو کے ٹی ایم او شفیق احمد شامل تھے۔
٭ڈپٹی کمشنر لویر چترال نوید احمد،ڈی ایف سی فضل باری اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر حیدر الملک کے سوا لویر چترال ضلعے کا کوئی افسر موجود نہیں تھا۔
٭تلاوت کلام پاک کے فوراً بعد ضلع ناظم نے بجٹ تقریر شروع کردی لیکن بجٹ تقریر کی کوئی کاپی دستیاب نہیں تھی جنہیں بعد میں مہیا کئے گئے۔ الحاج رحمت غازی نے اپنی تقریر میں اس بات کی طرف نشاندہی کراتے ہوئے کہاکہ یہ اعدادوشمار ہمیں چند دن پہلے ہی مہیا کئے جانے تھے۔
٭ڈی سی لویر چترال نوید احمدبجٹ تقریر کے دوران عقبی دروازے سے ہال میں داخل ہوئے جس کے کچھ دیر بعد ایم پی اے وزیر زادہ پی ٹی آئی کے کارکنان کے جلو میں ہال کے برامدہ والی دروازے سے داخل ہوئے جبکہ ڈی سی اپر چترال شاہ سعود عقبی دروازے سے ہال میں داخل ہوا۔ تینوں کی آمد پر ارکان کونسل کھڑے ہوکر اورڈیسک بجا بجاکر ان کا استقبال کیا۔
٭اکثر ارکان کونسل بجٹ پر بحث کی بجائے ڈی سی لویر چترال کے سامنے اپنے اپنے حلقوں کے تمام مسائل بیان کرنا شروع کردیاجس پر ضلع ناظم نے کہا کہ یہ مسائل لے کر کسی بھی وقت ڈی سی صاحبان کے دفتروں میں جاکر ان کے گوش گزار کرسکتے ہیں اور اس وقت ایوان کی کاروائی کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔
٭ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) حیات شاہ اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر انجینئر فہیم الجلال بھی افیسرز گیلری میں موجود تھے۔
٭الحاج رحمت غازی، رحمت الٰہی، حاجی شیر محمد (شیشی کوہ) اور غلام مصطفی(مستوج) پر مشتمل بجٹ کمیٹی ایوان سے باہر چلے گئے اور تقریباً 13منٹ بعدواپس آنے کے بعد بجٹ تجاویز کو من وعن منظور کرنے کا مشورہ دیا۔
٭اجلاس نے بلا تردد بجٹ کی منظوری دے دی۔ اس موقع پر الحاج رحمت غازی نے کہاکہ "جو ہوا سو ہوا ہم منظور کرتے ہیں "۔
٭اجلاس کے دوران ضلع ناظم نے ٹی ایم اے چترال کی طرف سے کسی ذمہ دار کی موجودگی کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ ٹی ایم او سمیت کوئی افسر یا اہلکار اجلاس میں موجود نہیں تھا۔
٭اے پی ایم ایل کے پلیٹ فارم سے منتخب شہزادہ خالد پرویز گزشتہ کئی سالوں اجلاسوں کی طرح اس اجلاس سے بھی غیر حاضر تھے جبکہ جے یو آئی کے امیر مولانا عبدالرحمن کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیاجوکہ ہلکی پھلکی مزاحیہ باتوں سے ایوان کو زعفران زار بناتے رہتے تھے۔
٭ضلع ناظم نے اپنی تقریر میں ایم پی اے وزیر زادہ کو خراج تحسین پیش کی اور کہاکہ براہ راست علاقے سے منتخب نہ ہونے کے باوجود وہ علاقے کی ترقی میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اورضلعی حکومت کو درپیش کئی مسائل کو صوبائی حکومت سے حل کروائے جس کے لئے وہ ایوان کو لے کر ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔
٭جب ضلع ناظم دوسری مرتبہ تقریر کے لئے اٹھے تو الحاج رحمت غازی نے اسے آخری تقریر قرار دیا (ان کا اشارہ ضلع کونسل کے آخری اجلاس کی طرف تھا)۔
٭ضلع ناظم نے گزشتہ چار سالوں کے دوران تعاون پر اپنے پرسنل اسٹاف اور خصوصاً پرسنل اسٹاف افیسر عبیدا لرحمن کی خدمات کا ذکر کیا۔
٭پی ٹی آئی کی طرف سے اقلیتی رکن کونسل نبیک ایڈوکیٹ نے کہاکہ وہ پی ٹی آئی کا کالاش ہے جبکہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے بھی بھی اپنے اپنے کالاش ہیں (ان کا اشارہ ان جماعتوں کی طرف سے نامزد کردہ ارکان کونسل کی طرف تھا)۔ اس پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔
٭کریم آباد سے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر منتخب رکن کونسل یعقوب خان اپنے حلقے کے مسائل تفصیل سے ڈی سی لویر چترال کو سناتے رہے اور انہی کو مخاطب کرتے رہے اور ڈیزاسٹر فنڈز سے محرومی پر دلبرداشتگی کا مظاہرہ کرتے رہے۔
ئ ٭ریاض احمد دیوان بیگی نے جب لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کی پرائیویٹائزیشن کے خلاف قرارداد پیش کرنے لگے توڈی سی لویر چترال نوید احمد نے کہاکہ مسئلہ پہلے سے حل ہے کیونکہ حال ہی میں پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس میں سکول کو پرائیویٹائز نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
٭اراکین کونسل، ایم پی اے وزیر زادہ، ڈی سی لویر، ڈی اپر، اجلاس میں شریک مختلف محکمہ جات کے افسران کو گورنرز کاٹج میں ظہرانے کے لئے دعوت دی گئی۔

error: Content is protected !!