9

سٹلمنٹ سروے کے دوران تمام شاملات کو سرکاری قرار دی ہے۔ جو کہ چترا ل اور خصوصاً اپر چترال کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصانی کے مترادف ہے۔

 چترال ( آوازچترال نیوز)لینڈ سٹلمنٹ کے سلسلے عرصہ سے تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال اپنی تحفظات کا اظہار کرتے ارہے تھے۔ اس سلسلے کئی کارنر میٹنگ اور اجلاس منعقد کرکے عوام کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہا کرتے ہوئے اسے مسترد کرکے دوبارہ سروے کرنے کا مطالبہ بصورتِ دیگر احتجاج کی دھمکیاں بھی دئیے جا چکے تھے۔حالات کی نازکت اور عوامی مطالبے کی نوعیت کو جانتے ہوئے سٹلمنٹ افیسر چترال سید مظہر علی شاہ اپنے ٹیم کے ساتھ تحصیل میونسپل آفس اپر چترال میں ایک غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی اجلاس تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال کی کال پر بلائی گئی تھی۔ جہاں تحریک کے سرگرم کارکنوں کے علاوہ اپر چترال کے مختلف علاقوں سے نمائیندے شریک ہوئے تھے۔ اجلاس کاآغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا مولانا فدا لرحمٰن تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ صدارت تحریک کے سینئررکن رحمت سلام لال نے کی جبکہ کہ مہمانِ خاص کی کر سی پر ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسرسیدمظہرر علی شاہ موجودتھے۔تحریک کے روحِ روان،علاقے کے متحرک سیاسی و سماجی شخصیت پرویز لال نے نظامت کی فرائض انجام دی۔تحصیل کونسلر سردار حکیم، وی۔سی ناظم چرون، وی۔سی ناظم بونی ٹو سلامت خان وی۔سی نائب ناظم بونی ون پرویزلال تحریک کے صدر مختار لال اور کثیر تعداد میں علاقے کے عمائدین اجلاس میں شریک تھے۔ پرویز لال ابتدا رکرتے ہوئے سیٹلمنٹ میں اب تک کے کئے گئے کام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عومی تحفظات سے سیٹلمنٹ آفیسر اور حاضرین کو اگاہ کیا۔ بحث میں شریک ہوتے ہوئے مختلف شخصیات اپنے حدشات اور تحفظات کا بر ملا اظہار کیا۔ جس میں سرِ فہرست شاملاتِ اور غیر آباد زمینات کو سرکاری قرار دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیئے گئے۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ ایک طرف چترال میں لوگوں کے ساتھ زمینات نہ ہونے کے برابر ہے دوسری طرف سٹلمنٹ سروے کے دوران تمام شاملات کو سرکاری قرار دی ہے۔ جو کہ چترار اور خصوصاً اپر چترال کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصانی کے مترادف ہے۔ علاقہ ریڈ زون میں شامل ہے اور ہمہ وقت سیلاب وغیرہ کے حدشے سے دوچار ہے مگر محکمہ سٹلمنٹ تمام شاملات اور قریبی بنجر اراضی کو سرکاری قرار دیکر عوام کو مزید پریشانی سے دوچار کیا ہوا ہے۔۔۔۔جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ساتھ لینڈ سٹلمنٹ کے عملے سروے کے دوران اکثریتی لوگوں کو اعتماد میں لیے بے غیر اپنی مرضی سے نقشہ وغیرہ بنائے ہوئے جس سے بعد میں انتہائی پریشانی اور انتشار پھیلنے کا حدشہ موجود ہے۔ اس لیے مطالبہ ہے کہ محکمہ سٹلمنٹ اپنے سروے دوبارہ کریں تاکہ اکثریتی عوامی کی پریشانی دور ہوسکے۔
ڈسٹرکٹ سٹلمنٹ آفیسر سید مظہر علی شاہ نے موقع پر حاضرین کے اعتراضات اور حدشات کے جوابات انتہائی تفصیل سے دیکر حاضرین کو باور کرانے کی بھر پور کوشش کی کہ یہ جو کچھ ہوا ہے حرفِ آخر ہر گزنہیں۔ اس میں عوامی حدشات کو مدِ نظر رکھ کرکسی بھی وقت ان کے حدشات د دور کیے جا سکتے ہیں جہاں تک شاملات کا تعلق ہے جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ ہم ضرور کر سکتے ہیں اور جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے ان کے لیے عوامی نمائیندوں کو اگے اکر قانونی جد و جہد کرنا چاہیے۔ ہماری طرف سے ہر ممکن تعاون اور راہ نمائی حاضر ہوگی۔ ڈسٹرکٹ سٹلمنٹ آفیسر سید مظہر علی شاہ صاحب تفصیلاً نکتہ،نکتہ پر بھر پور انداز میں اگاہی دی۔ اور مزید کہا کہ ہم ہر وقت آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے حاضر ہیں اس سلسلے ایک ٹیم ترتیب دی جائیگی جو موزہ وار وزٹ کرکے لوگوں کے تحفظات کا ازلہ کریگی۔ جس سے حاضرین تقریباٍ مطمئن ہو گئے۔ تحریک تحفظ حقوق ِ اپر چترال وقتی طور پر مجوزہ احتجاج موخر کردی۔ اور تحفظات دور کرنے کے لیے سٹلمنٹ کے عملے کے ساتھ قریبی رابطہ میں رہ کام تسلی بخش طریقے کرانے کا فیصلہ کیا۔