12

بس ٹیپو سلطان بننا باقی ہے…..جاوید چوھدری

ہم ٹیپو سلطان کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ حکمران‘ سپاہی اور منتظم‘ وہ حکمرانی میں کمال شخص تھا‘ 1782ءمیں حکمران بنا اور اس نے جنگ وجدل‘ محلاتی سازشوں اوربحرانوں کے باوجود ملک کو معاشی طاقت بنا دیا‘ملک کو نیا ریونیو سسٹم دیا‘ کاٹن اور ریشم کو صنعت بنایا‘ بے روزگاری ختم کر دی اور ہندوستان میں بینکنگ اور انشورنس کا نظام متعارف کرایا‘آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی بھارت اور پاکستان میں بینک بنانے والے تمام خاندانوں کا تعلق ٹیپو سلطان کی ریاست میسور سے تھا۔ یہ خاندان نقل مکانی کر کے برصغیر کے مختلف علاقوں میں سیٹل ہوتے رہے اور اپنے آباﺅ اجداد کے جینز کے تحت بینک بناتے رہے‘ ہمارے حبیب بینک کے بانیان بھی میسور ریاست سے تعلق رکھتے تھے‘ ٹیپو سلطان نے چاند اور سورج کے تعلق کو سامنے رکھ کر ہندوستان میں نیا کیلینڈر بھی متعارف کرایا تھا‘ اس نے راکٹ بھی ایجاد کیا اور یہ دنیا کا پہلا حکمران تھا جس نے اپنی فوج میں ”راکٹ کیولری“ بنائی‘ ہندوستان میں نیوی کا پہلا فلیٹ بھی ٹیپو سلطان نے بنایا تھا‘ یہ برصغیر کا پہلا حکمران تھا جس نے یورپ کی اندرونی لڑائیوں کو سمجھا‘ نپولین بونا پارٹ کے ساتھ تعلقات استوار کیے‘ فرنچ جنرل ملازم رکھے اور اپنی آرمی کو فرنچ ماہرین سے ٹریننگ دلوائی اور یہ ہندوستان میں سب سے بڑے توپ خانے کا مالک بھی تھا‘ آپ اٹھارہویں صدی میں میسور کی معاشی بلندی کا اندازہ لگایے‘ ریاست کے لوگوں کا لیونگ سٹینڈر پوری دنیا سے بلند تھا‘ لوگوں کی قوت خرید بھی دنیا میں پہلے نمبر پر تھی‘ ریاست برصغیر میں زرعی اور صنعتی پیداوار میں بھی اول نمبر پر تھی‘ میسور جنوبی ایشیا میں سوتی اور ریشمی کپڑے کا سب سے بڑا مینوفیکچرر تھا اور میسور کی فی کس آمدنی ہالینڈ‘ فرانس اور برطانیہ تینوں سے پانچ گنا زیادہ تھی‘ ٹیپو سلطان کی ریاست دنیا کی خوش حال ترین سٹیٹ تھی‘ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے بیک وقت مغل دربار‘ افغان حکمرانوں‘ عثمانی خلیفہ‘ ایران اور یورپ کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے‘ اس نے نپولین بونا پارٹ کو قرآن مجید اور اسلام کا مطالعہ کرنے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کی زندگی کا دوسرا پہلو عسکری تھا‘ وہ ایک شان دار اور بہادر جنرل تھا‘ گھڑ سواری ہو‘ تلوار بازی ہو یا پھر بندوق داغنے کا فن ہو وہ گوروں کو حیران کر دیتا تھا‘ وہ کس قدر بہادر انسان تھا آپ دو واقعات ملاحظہ کیجیے‘ ٹیپو سلطان کی زندگی کی آخری جنگ 1799ءمیں ہوئی‘ یہ تاریخ میں چوتھی اینگلو میسور جنگ کہلاتی ہے‘ ٹیپو سلطان یہ جنگ ہار رہا تھا‘ انگریز نے دارالحکومت سرنگا پٹم کا محاصرہ کر لیا تھا‘ پوری دنیا کو نظر آ رہا تھا ٹیپو سلطان اور اس کا ملک نہیں بچ سکے گا۔ اس کے فرنچ ایڈوائزر نے اسے مشورہ دیا ”آپ خفیہ راستے سے نکل جائیں‘ ہم نیا لشکر بنائیں گے اور انگریزوں سے اپنا ملک واپس لے لیں گے“ ٹیپو سلطان اس وقت زرہ بکتر باندھ رہا تھا‘ اس نے اس وقت فرنچ ایڈوائزر کو دیکھ کر وہ تاریخی فقرہ کہاجو بعد ازاں عمران خان سمیت دنیا کے ہر حکمران نے جنگ سے پہلے اپنے عوام کو سنایا ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے“ وہ گھوڑے پرسوار ہوا‘ قلعے کا گیٹ کھلوایا‘ انگریز سپاہیوں سے لڑنا شروع کیا اور قلعے کے گیٹ پر شہید ہوگیا۔ اس کی بہادری کا دوسرا واقعہ اس کی شہادت کے بعد پیش آیا‘ وہ گرتے گرتے بھی دشمن کے دو سپاہیوں کی گردنیں اتار گیا تھا‘ وہ شہید ہو چکا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں تلوار موجود تھی‘ دشمن کا کوئی سپاہی اس تلوار کی موجودگی میں اس کے قریب جانے کے لیے تیار نہیں تھا‘ یہ اس کی دہشت‘ اس کی بہادری کی انوکھی مثال تھی‘ ٹیپو سلطان کو سکاٹش یونٹ نے شکست دی تھی لہٰذا اس کی تلوار سکاٹش کے حصے آ گئی‘ یہ تلوار1800ءسے 2003ء تک ایڈنبرا کے قلعے میں پڑی رہی یہاں تک کہ یہ ستمبر 2003ءمیں بھارت کے مشہور بزنس مین وجے مالیانے ڈیڑھ کروڑ روپے میں خرید لی‘یہ اب وجے مالیا کے ڈرائنگ روم میں پڑی ہے۔ اور ٹیپو سلطان کی زندگی کا تیسرا اور آخری پہلو اس کی کم زور انتظامی صلاحیتیں تھیں۔وہ بے شک شان دار حکمران اور بہادر سپاہی تھا لیکن وہ بدقسمتی سے اچھا منتظم نہیں تھا‘ وہ دوستوں اور مشیروں کے معاملے میں بھی مار کھا جاتا تھا اور وہ اکثر اوقات چھوٹے چھوٹے ایشوز کو پہاڑ جتنا بلندبھی کر لیتا تھا مثلاً انگریز نے صرف ایک اصول کے ذریعے پورے ہندوستان پر قبضہ کیا اور وہ اصول تھا ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا یہ داﺅ ٹیپو سلطان پر بھی استعمال کیا‘ اس نے اسے مقامی لڑائیوں میں الجھا دیا۔ ٹیپو سلطان نے مراٹھوں اور نظام آف حیدرآباد سے جنگ چھیڑ لی‘ یہ جنگیں اس کا خزانہ بھی نگل گئیں‘ گولہ بارود بھی اور فوج بھی‘ وہ ہمسایوں سے لڑتے لڑتے اتناکم زور ہو گیا کہ انگریز نے اسے چوتھی اینگلو میسور جنگ میں چت کر دیا‘ وہ اپنے قریب موجود لوگوں پر اندھا اعتماد کرتا تھا‘ یہ علت حکمرانوں کو کبھی سوٹ نہیں کرتی‘ دنیا کی تمام بڑی حکومتیں‘ تمام بڑی سلطنتیں مشیروں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں‘ میسور کو بھی ٹیپو سلطان کے مشیر نگل گئے‘ وہ یہ اندازہ نہ کر سکا اس کے دربار میں میر صادق جیسے لوگ موجود ہیں۔ میر صادق نے آخر میں غداری کی‘ انگریز کو قلعے میں داخل ہونے کے راستے بتا دیے اور دشمن قلعے کی دیواریں توڑ کر سرنگا پٹم میں داخل ہو گئے اور یوں برصغیر پاک وہند کی عبرت ناک ٹریجڈی وقوع پذیر ہوئی۔ٹیپو سلطان بے شک بہادر انسان تھا‘ وہ ایک شان دار حکمران بھی تھا لیکن اس نے اپنی دو کم زوریوں کی وجہ سے معاشی لحاظ سے دنیا کی مضبوط ترین ریاست بھی تباہ کرا لی اور انگریز کو پورے ہندوستان پر قابض ہونے کا موقع بھی دے دیا۔ کاش وہ نپولین بونا پارٹ کی جگہ اپنے ہمسایوں پر توجہ دیتا‘ وہ ان کو دوست بنا لیتا‘ وہ ان سے جنگوں کی غلطی نہ کرتا اور دوسرا وہ اپنے مصاحبوں‘ اپنے وزراءاور اپنے مشیروں کے باطن میں جھانک لیتا‘ وہ بھیڑوں کی کھالوں میں چھپے بھیڑیوں کی شناخت کر لیتا تو تاریخ آج اسے کسی اور زاویے‘ کسی اور اینگل سے دیکھ رہی ہوتی‘ جنگوں میں مرنا بہادری نہیں ہوتا‘ جنگیں جیتنا بہادری ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ٹیپو سلطان اپنی تمام تر بہادری‘ اپنی شاندار فوج‘ دنیا کی پہلی راکٹ کیولری اور برصغیر کی پہلی نیوی کے باوجود چوتھی اینگلو میسور جنگ ہار گیا اور اس ہار کے بعد اس کی بہادری کی نشانی اس کی تلوار نیلام ہوتی رہی۔ بے شک شیر کی زندگی کا ایک دن گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتا ہے لیکن ہم نے کبھی سوچا شیر کا ایک دن گیدڑ وں کے سو دن سے کیوں بہتر ہوتا ہے؟کیوں کہ شیر کبھی ہارتا نہیں اور گیدڑ کبھی جیتتے نہیں‘ شیر کی جیت اسے شیر اور گیدڑوں کی ہار انہیں گیدڑ بناتی ہے‘ کاش کوئی یہ نکتہ ہمارے وزیراعظم کو بھی سمجھا دے۔میں نے چھ اگست کو عمران خان کو پارلیمنٹ میں بھارت کو للکارتے ہوئے سنا‘ یہ کہہ رہے تھے ہم ٹیپو سلطان ثابت ہوں گے‘ ہم گیدڑوں کی سو سالہ زندگی پر شیر کے ایک دن کو فوقیت دیں گے۔ میں یہ سن کر مسکرانے پر مجبور ہو گیا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے منہ سے نکل رہے تھے جس نے پاکستان کے نازک ترین وقت میں پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلایا‘ ہم نے اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے بھارت اور پوری دنیا کو پیغام دینا تھا پاکستان کے 20 کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ہمیں آنسوﺅں کا تحفہ دینا پڑا تو دیں گے‘ لہو گرانا پڑا تو گرائیں گے اور سو سال لڑنا پڑا تو لڑیں گے لیکن کشمیر کے ایک انچ سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ دنیا ہمیں کشمیریوں کے آگے اور پیچھے دونوں سائیڈوں پر دیکھے گی لیکن وزیراعظم اس سیشن میں خود چارگھنٹے لیٹ تشریف لائے جبکہ وزیر خارجہ حج پر تشریف لے جا چکے تھے۔آپ ہماری سنجیدگی کا عالم دیکھیے‘ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی 4 اگست کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے‘ یہ کمیٹی میں بار بار ”ہم یہ کریں گے‘ ہم وہ کریں گے“ کے نعرے لگاتے رہے لیکن جب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کمیٹی کو بتایا ”شاہ صاحب آج رات حج پر روانہ ہو رہے ہیں“ تو ارکان حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ شاہ صاحب نے بڑے اعتماد سے فرمایا ”میرا دفتر ایکٹو ہے‘ ہمارے فارن آفس میں بھی بہت ماہر لوگ موجود ہیں‘ میں حج کے دوران او آئی سی کو بھی متحرک کرتا رہوں گا اور ٹیلی فون کے ذریعے وزیراعظم سے بھی رابطے میں رہوں گا“ یہ فرمان کمیٹی کے لیے مزید حیران کن تھا‘ بہرحال وزیر خارجہ حج پر تشریف لے گئے اور ان کا ایکٹو آفس پریس ریلیز اور ٹویٹس کی گولہ باری میں مشغول ہو گیا اور پیچھے رہ گئی اپوزیشن تو یہ پچھلے دو دنوں سے عمران خان کو عمران احمد خان نیازی ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ یہ ہماری اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی صورت حال ہے‘ وزیراعظم جوائنٹ سیشن میں پہنچنے کی بجائے ٹیپو سلطان کی تلوار تلاش کرتے رہ گئے‘ شاہ محمود قریشی کو عین قیام کے وقت سجدہ یاد آ گیا اور اپوزیشن نے پوری دنیا کے سامنے اپنے گندے کچھے دھونا شروع کر دیے اور یہ ہے قوم کی وہ لیڈر شپ جس نے کشمیر کا مقدمہ بھی لڑنا ہے‘ جس نے خود کو ٹیپو سلطان بھی ثابت کرنا ہے اور جس نے نریندر مودی کے گریبان میں بھی ہاتھ ڈالنا ہے۔ ہمارے کشمیر کا اب کیا بنتا ہے میں نہیں جانتا تاہم میں اتنا جانتا ہوں وہ لوگ جو اپنی پارلیمنٹ سے اتفاق اور تہذیب کے ساتھ ایک قرارداد پاس نہیں کر سکتے‘ جو وقت پر ایوان میں نہیں آ سکتے اور جو ضرورت کے وقت حج پر روانہ ہو جاتے ہیں وہ جنگ ہار تو سکتے ہیں لیکن وہ لڑ اور جیت نہیں سکتے اور ہم اپنی پارلیمنٹ میں کشمیر کی جنگ ہار چکے ہیں بس ٹیپو سلطان بننا باقی ہے اور اگر ہمارے لچھن یہی رہے تو مجھے خطرہ ہے ہمارا یہ شوق بھی بہت جلد پورا ہو جائے گا‘ ہماری تلواریں بھی نیلام گھروں میں فروخت ہوں گی‘ جناب وزیراعظم! جنگیں ہارنے اور مرنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں زندہ رہنے اور جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں