12

دادبیداد……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …اُلٹے پاوں چلنے والا

انڈو نیشیا کے 43سالہ شہری میڈی با سلو نی 17اگست2019کو الٹے پاوں اپنی پیٹھ کی طرف سفر کر کے 800 کلو میٹر کا فا صلہ طے کر ینگے اور جکارتہ کے ایوانصدرپہنچ کر الٹے پا وں صدر جوکووائیڈ وڈ و سے ملا قات کرینگے 17اگست انڈ ونیشیا ء کی آزادی کا دن ہے اس روز انڈو نیشی قوم اپنا 74واں یوم آزادی منا رہی ہو گی انڈو نیشی صدر اس مو قع پر میڈ ی با سلو نی کو نا یا ب درخت کے بیچوں کا تحفہ دینگے جنہیں وہ قریبی جنگل میں اگائینگے اور قوم کو ما حول کے تحفظ کا پیغام دینگے میڈی با سلونی نے الٹے پاوں چلنے کا سفر 18جو لائی 2018کو شروع کیا تھا وہ روزانہ 30کلو میٹر کا سفر الٹے پاوں چل کر طے کرتے تھے رات مسجدوں،اور پو لیس چو کیوں میں گزار تے تھے انہوں نے 8کلو گرام وزن کا بیگ اٹھا یا ہوا ہے جو اُن کی پُشت پر ہے جیب میں 4ہزار روپے پاکستانی کرنسی یعنی 21ڈالر کے برابر رقم رکھ کر انہوں نے سفر شروع کیا تھا سال بھر کا یہی ان کا خر چہ ہے الٹے پاوں چلنے کے لئے راستہ دیکھنے کا آئینہ وہ ہاتھ میں رکھتے ہیں جہاں ضرورت پڑتی ہے آئینہ دیکھ لیتے ہیں اُن کے ہاتھ میں جو چھڑی یا کھونٹی ہے وہ تانبے کی ہے کیونکہ درخت کی شاخ کو بطور چھڑی یا کھونٹی استعمال کرکے وہ ما حول کو نقصان پہنچا نا نہیں چاہتے درخت پر ایک ہری شاخ مسافر کے ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی سے بہتر ہے اس طرح انہوں نے دنیا بھر کی فو جی قیا دت کو پیغام دیا ہے کہ چھڑیوں کا استعمال کم کرو اگر خواہ مخواہ ڈنڈا ہی دکھا نا ہو تو لوہے یا تانبے کی چھڑی کام دے دسکتی ہے اندھے کے ہاتھ میں سفید چھڑی لکڑی کی نہیں ہو تی فو جی افیسر کی چھڑی بھی اندھے کی چھڑی سے مما ثلت رکھتی ہے اس لئے اندھے کی چھڑی ہی ہو نی چاہئیے میڈی باسلو نی کی خبر اخبارات میں آئی تو شہر سے دور ایک پہاڑی قصبے کے پریس کلب میں ہنگا مہ ہوا پریس کلب کے 32ممبروں نے الٹے پاوں چلنے کی حما یت کی 64ممبروں نے الٹے پاوں چلنے کی مخا لفت کی ووٹ کے ذریعے فیصلہ ہوا تو 64کا گروپ ہار گیا 32کا گروپ کامیاب ہوا پس طے پایا کہ الٹے پاوں چلنے میں برکت ہے اس طرح اقلیت بھی اکثریت کو شکست دے سکتی ہے اقوام متحدہ میں ایسا ہی ہوتا ہے جنرل اسمبلی کے ممبروں کی تعداد 193ہے 5مما لک کے پاس ویٹو پاور ہے ان میں سے ایک ملک سلامتی کونسل میں ویٹو پاور استعمال کرکے 192ممبروں کو شکست دیتاہے اورجمہوریت کا راگ الاپنے والے ممالک تما شا دیکھتے ہیں میڈی باسلو نی کی چھڑی کے برابر اہمیت اُن کے آئینے کو حا صل ہے انہوں نے افغا نستان، روانڈا، اور پاکستان جیسے الٹے پاوں سفر کرنے والے مما لک کو آئینہ دکھا یا ہے کہ الٹے پاوں چل کر بھی سفر طے کیا جا سکتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچا جا سکتا ہے مبارک صادق کا شعرہے ؎ خیال اپنا، مزاج اپنا پسند اپنی کمال کیا ہے جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا کمال یہ ہے ایک سنئیر صحا فی نے نکتہ اُٹھا یا کہ انڈو نیشیا کے میڈی با سلو نی نے کوئی کمال نہیں دکھا یا پاکستانی قوم الٹے پاوں چلنے میں پہلے ہی کمال دکھا چکی ہے آزادی حا صل کئے ہوئے 72سال ہو گئے ہمارا سفر پشت کی جا نب جاری ہے نہ ہمارے ہاتھ میں عصا ہے نہ ہاتھ میں آئینہ، البتہ ہماری پیٹھ پر بد عنوا نی کا بوجھ اور ہماری جیب میں جھوٹ کا تو شہ ہے پاکستا نی قوم پیچھے کی طرف گامزن ہے دوسرے صحا فی نے ٹو کٹے ہوئے پوچھا ہاتھ میں آئینہ کیوں نہیں؟ کیا ہم اندھیرے میں ٹا مک ٹو ئیاں مار رہے ہیں؟ سینئرصحا فی نے کہا ہمارے ہاتھ میں آئینہ ہو تا تو آزادی کے 25سال بعد ہمارا نصف سے زیا دہ ملک کٹ کر ہم سے الگ نہ ہو تا، ہماری فوج دشمن کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتی آج بھی یو ٹیوب پر پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب کا حال دیکھ کر ہم کو خون کے آنسو رونا پڑتا ہے ہمارے ہاتھ میں چھڑی ہوتی تو ہم قدم قدم پر دشمن کے محتاج نہ ہوتے قدم قدم پر امریکہ سے التجا نہ کرتے کہ ہمارا ہاتھ پکڑو اور گہری کھائی میں گرنے سے بچاؤ ہمارا بد ترین دشمن قدم قدم پر اپنا ہاتھ بڑھا کر ہمارا ہاتھ نہ تھامتا پریس کلب کی اس مجلس میں الٹے پاوں چلنے کے حوالے سے سیرحاصل بحث ہوئی نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا میں الٹے قدموں چلنے والے کے لئے اگر کوئی ایوارڈ ہے تو وہ پاکستانی قوم کو ملنا چاہئیے اس قوم نے اُلٹے پاوں چلنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے 1947ء میں انگریز بہترین ریلوے سسٹم چھوڑ کر گیا تھا آج اس کا کباڑ ا نکا ل دیا 1947ء میں در گئی، طورخم،مردان،بنوں، حویلیاں تک ریلوے سروس تھی آج پشاور اور نو شہرہ سے آگے کوئی گاڑی نہیں جا تی 1947ء میں کراچی روشنیوں کا شہر کہلا تاتھا آج یہ شہر کھنڈرات کا منظر دکھا رہا ہے 1947ء میں بلو چستان خوشحال علا قہ تھا آج بلو چستان میں احساس محرومی آخری حدوں کو چھو رہا ہے 1947ء میں سندھ اور سر حد میں محبت، ترقی اور خوشحا لی تھی آج ان صو بوں میں غربت،بے روز گاری اور بد حالی کا ڈیرہ ہے 1947ء میں پاکستانی ایک قوم تھی آج 2019ء میں پاکستانی 10قو موں میں تقسیم ہو چکے ہیں 1947ء میں پاکستان کے مسلما ن ایک ملّت سے تعلق پر فخر کرتے تھے آج پاکستان کے مسلمان 20فر قوں اور 13مسلح جتھوں میں بٹ گئے ہیں ہر گروہ دوسرے کو کافر قرار دے کر جان سے مار دیتا ہے اُلٹے پاوں چلنے کا عمل جاری ہے اب ہمارا نام افغا نستان اور روانڈا کے ساتھ لیا جا رہا ہے ہم مزید پیچھے گئے تو افغانستان اور روانڈا بھی ہمیں اپنی صفوں میں جگہ نہیں دینگے