اختیارات کا ناجائز استعمال ٗ سینئر سول جج فارغ | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / اختیارات کا ناجائز استعمال ٗ سینئر سول جج فارغ

اختیارات کا ناجائز استعمال ٗ سینئر سول جج فارغ

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔پشاور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پرسینئر سول جج کو ملازمت سے برطرف کردیا جبکہ تین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تنزلی اور تین ریٹائرڈ ججز کی پنشن روک لی گئی ہے، اسی طرح ایک جج کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر انہیں جاری شوکاز نوٹس واپس لیتے ہوئے انہیں الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا۔  اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری الگ الگ اعلامیوں کے مطابق سزا پانے والے ججز کے خلاف انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز2011کے تحت کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں ان ججز کے خلاف ہائی کورٹ کو مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں۔ انکوائری کمیٹیوں نے تمام ثبوتوں اور موقف جاننے کے بعد اپنی سفارشات پیش کی تھیں۔ اعلامیہ کے مطابق سینئر سول جج اصغر علی سلارزئی کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر انہیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ اسی طرح الزامات ثابت ہونے پر گریڈ21 کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوفیہ وقار خٹک کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گریڈ بیس کے عہدے پر دوسال کے عرصہ کیلئے تنزلی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خورشید اقبال کے خلاف الزامات ثابت ہونے پردوسال کے عرصہ کیلئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (گریڈ20) کے عہدے پرتنزلی جبکہ گریڈ21 کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  کی دوسال کے عرصہ کیلئے گریڈ بیس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر تنزلی کردی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ریٹائرڈ) سبحان شیر کے خلاف الزامات ثابت ہوچکے ہیں تاہم ریٹائرڈ ہونے کے باعث انکے خلاف خیبرپختونخوا سول سرونٹ پنشن رولز اینڈ آرڈرز کے تحت کاروائی عمل میں لائی گئی ہے جسکے تحت ان کی پنشن کو چھ ماہ کے عرصہ کیلئے روک دیا گیا ہے۔اسی طرح ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج محمد سلیم خان کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر انکی پنشن پانچ سال کے عرصے کیلئے جبکہ ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج حیات علی شاہ کیخلاف سزا کے طور پر انکی پنشن دو سال کے عرصہ کیلئے روکنے کے احکامات دیئے گئے ہیں پشاور ہائی کورٹ کے ایک اورا علامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عقیل عاجز کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پرمجاز حکام نے ان کوجاری شوکاز نوٹس واپس لیتے ہوئے انہیں الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔

error: Content is protected !!