55

جھوٹ بولنے کا کوئی ورلڈ کپ ہوتا تو عمران خان ورلڈ چمپئن ہوتے، جماعت اسلامی نے حکومت مخالف مارچ کا اعلان کر دیا

لاہور (  آوازچترال نیوز) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ25اگست کو پشاور میں حکومت کیخلاف عوامی مارچ کریں گے اور یہ مارچ حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگا جس میں ہم اگلا لائحہ عمل دیں گے۔ اگر جھوٹ بولنے کا کوئی ورلڈ کپ ہوتا تو عمران خان ورلڈ چمپئن ہوتے۔ پی ٹی آئی کی حکومت ہر روز قوم سے جھوٹے وعدے کرتی ہے لیکن اپنے منشور، وعدوں اور نعروں پر عمل نہیں کرتی جس کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے۔ پوری کابینہ نااہل ہےجو جنرل مشرف اور پیپلزپارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔پارلیمنٹ   پر قوم کا پیسہ خرچ ہوتاہے مگر ایک سال میں عوامی مفاد میں پی ٹی آئی حکومت نے کو ئی قانون سازی نہیں دی۔ نئے آرمی چیف کا تقرر قانون اور میرٹ پرہونا چاہیے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میاں محمد اسلم،نائب امیرجماعت اسلامی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے مگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔پی ٹی آئی نے عوام کو سبز باغ دکھائے تھے۔ جس طرح وہ تیزی کے ساتھ مقبول ہوئی تھی اسی تیزی کے ساتھ غیر مقبول ہوگئی ہے۔اس کی تمام پالیسیاں ناکام ثابت ہورہی ہیں جن سے 22کڑور عوام پریشان ہیں۔آج عوام کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے چہرے بھی مرجھائے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی اظہار آزادی پر بھی حکومت نے قدغنیں لگا دی ہیں۔پی ٹی آئی نے جس منشور پر ووٹ لیا اور جو منشورقوم کے سامنے پیش کیا، اس سے وہ پیچھے ہٹ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ٹرمپ سے جھوٹ کا مقابلہ جیت سکتے ہیں کیونکہ وہ بڑے لیڈر کی یہ نشانی بتاتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ یوٹرن لے وہی بڑا لیڈر ہے۔ امیر جماعت نے کہاکہ وزیراعظم اعلان کرتے ہیں کہ گیس کے ذخائر دریافت ہوئے مگر اگلے دن پتہ چلا کہ قوم کے 14ارب روپے ڈوب گئے ہیں۔پی ٹی آئی کاپہلا سال عوام کے لیے بہت بھاری ثابت ہوا ہے۔ عمران خان نے خود اعلان کیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض خود کشی ہےمگر 6ارب ڈالر قرض لینے کو کارنامہ بتارہے ہیں اگر یہ کارنامہ ہے تو سابقہ حکمرانوں نے بھی یہ کارنامہ انجام دیا تھا، اب موجودہ حکومت بتائے کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں میں کیا فرق ہے؟سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نئے الیکشن کا مطالبہ قبل از و قت ہے۔ ہم حکومت کو سیاسی شہید نہیں بنانا چاہتے اس لیے پشاور میں مہنگائی کے خلاف 25 اگست کو زبردست سیاسی اور عوامی مارچ کریں گے جو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی روپیہ کی قدرمیں 37 فیصد کمی آئی ہے۔ سلطانی گواہ اسد عمر جو ان کا معاشی افلاطون تھا اب کہہ رہاہے کہ آئی ایم ایف جانا ٹھیک نہیں تھا اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔ یہ مقام عبرت ہے کہ نہ صرف آئی ایم ایف کے کہنے پر وزیر خزانہ کو تبدیل کیا گیا بلکہ آئی ایم ایف کو ملک کے اداروں کا قبضہ دے دیا گیاہے۔ایک سال میں بیرونی قرضہ 97.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 105ارب ڈالر کیا جارہاہے۔تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو48روپے فی لیٹر پیٹرول دیں گےلیکن آج 113روپے میں فروخت کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کہتی ہے کہ امریکہ نے ایف 16 جہازوں کے پرزوں کے لیے ہمیں 12کروڑ اور بھارت کو 67کروڑ دیئے ہیں اور دعویٰ ہے کہ یہ ان کی کامیاب خارجہ پالیسی ہے، حالانکہ یہ ہماری قوم کا پیسہ ہے جو امریکہ نے ایڈوانس لیا تھا اور دبا رکھا تھااب جب ان کے مطالبے پورے ہوگئے ہیں تو ہماری رقم کے عوض جہازوں کے پرزے دے ڈالے۔ انہوں نے کہاکہ ایک سال کے اندر پتہ چل گیاہے کہ یہ نا کام ترین حکومت ہے۔ انہوں نے کہاکہجماعت اسلامی پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کسی کی سیاست کی تتمہ نہیں بنے گی وہ ا پنے پلیٹ فارم سے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے کرتوتوں کو بے نقاب کرے گی۔انہوں نے کہاکہ قومی و بین الاقوامی اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جمہوری اوردیانت دار جماعت ہے اس لیے عوام کو جماعت اسلامی کا ساتھ دیناچاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہیں ان کے منہ میں مزید دودھ نہیں ڈالیں گے کہ کل پھر توانا ہو کر قوم کو لوٹیں۔پاکستان میں حکومت کون کرے گااس کافیصلہ عوام کوکرنا چاہیے۔ دو جماعتی نظام جمہوریت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا ہے ایسی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے ایک کے بعد دوسرا مافیا ملک پر مسلط ہوجائے۔ ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ گذشتہ چند دنوں سے قادیانی لابی بہت متحرک ہوگئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پرایک لابی تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم سے بیرونی دورے پر پہلا سوال تحفظ ناموس رسالت ؐقانون کو ختم کرنے کا کیاجاتاہے عوام کو خود اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ قانون اور میرٹ پر حل ہونا چاہیے۔ سینیٹرسراج الحق نے بلوچستان، وزیرستان اور طیارہ حادثہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔ پریس کانفرنس میں سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے۔

Facebook Comments