57

چترال سیاحوں کی جنت ہے . یہاں قدیم کلچر سمیت اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے.سرتاج احمد خان

چترال ( محکم الدین ) چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانی سرتاج احمد خان نے کہا ہے کہ کلچر,روایتی خوراک,تربیت یافتہ گائیڈ زکے ساتھ خوش اخلاقی اور دوستانہ ماحول پیدا کرکے سیاحت کو ترقی دی جاسکتی ہے . ہوٹل منیجرز کیلئے ضروری ہے . کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہوٹلوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دیں . اور دیر پا آمدنی حاصل کرنے کیلئے سیاحوں کو مناسب ریٹ پر سہولیات مہیا کریں . چترال سیاحوں کی جنت ہے . یہاں قدیم کلچر سمیت اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے . اور سیاح ان ہی قدرتی نظاروں کو پسند کرتے ہیں . ہوٹلوں کے منیجر چترال کے سفیر ہیں . آپ کے اچھے رویے سیاحوں کوچترال کی طرف راغب کرنے میں آہم کردار ادا کر سکتے ہیں . ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال کے ایک معروف ہوٹل میں چترال ہوٹل ایسوسی ایشن کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتےہوئےکیا . جس میں صدر ہوٹل ایسوسی ایشن ادریس خان , سید حریر شاہ , جمشید احمد منیر احمد اور سہیل احمد سمیت بڑی تعداد میں ہوٹل منیجرزموجود تھے . انہوں نے کہا . کہ سیاحت کیلئے پروفیشنلزم کی انتہائی ضرورت ہے . جو سیاحت کے رموز کو نہیں جانتا . وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتا . انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں میں کلچر سے وابستہ مواد ڈسپلےکئے جائیں . روایتی کھانوں کو فروغ دیا جائے . تاکہ بھرپور طریقے سے آمدنی حاصل کی جاسکے . اور سیاح بھی ان منفرد کھانوں سے لطف اندوز ہوں . انہوں نے کہا . کہ چترال چیمبر آف کامرس ہوٹل منیجمنٹ میں دس افراد کو تربیت فراہم کرنے میں مد د کرے گی . جو بعد از ٹریننگ دیگر نوجوانوں کو ہوٹلنگ سیکھانے کا سبب بنیں گے . انہوں ایسوسی ایشن کو یقین دھانی کرائی . کہ درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر چترال سے ملاقات کریں گے . اور انہیں ہوٹل ایسوسی ایشن کی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کل کا چترال آج سے بہت مختلف ہوگا . کیونکہ چترال میں انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کے ہوٹل اور میگا مارٹ تعمیر ہونے جا رہے ہںیں . ایسے کاروباری افراد کا مقابلہ کرنا ہر گز آسان نہیں ہے .اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید حریرشاہ نے کہا. کہ سیاحت کا فروغ تھیوری سے نہیں بلکہ عملی کام سے ہوتا ہے . حکومت سیاحت کی بہتری اور ہوٹلوں کو ریگولیرائز کرنے کی بات کرتا ہے . لیکن سیاحوں کوسہولتیں دینے سے قاصرہے . انہوں نے کہا . کہ حکومت کی طرف سے سہولیات دیے بغیر ہوٹل ریگولیرائز کرنے کی بات بے معنی ہے . اجلاس میں بتایا گیا . کہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیور غلط طریقےسے سیاحوں سے پیسہ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں . جو کہ فروغ سیاحت کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے . اور بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے . انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا . کہ وہ فروغ سیاحت کیلئے اگر مخلص ہے . تو سڑکو ں کی حالت بہتر بنائے . آج حال یہ ہے . کہ ایک مرتبہ چترال آنے والا سیاح دوبارہ آنے کی غلطی نہیں کرتا . اجلاس میں صدر ہوٹل ایسوسی ایشن ادریس خان نے کہا . کہ ہوٹل والوں کو انتظامیہ کی طرف سے بے جا تنگ کیا جاتا ہے . اور مختلف بہانوں سے رہی سہی آمدنی جرمانے کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے . جبکہ چترال میں ہوٹلنگ کا سیزن صرف تین مہینے ہے . اس تین مہینے کے دوران نو مہینوں کا ہو ٹل کرایہ اور ملازمین کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں . انہوں نے کہا . کہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے . کہ وہ سہولیات مہیا کرے . اجلاس سے دوسرے شرکا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا .

Facebook Comments