صوبے میں موجود کینسر ہسپتال ارنم پشاور اور کینسر ہسپتال سائنور سوات کی اپ گریڈیشن کو اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / صوبے میں موجود کینسر ہسپتال ارنم پشاور اور کینسر ہسپتال سائنور سوات کی اپ گریڈیشن کو اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل

صوبے میں موجود کینسر ہسپتال ارنم پشاور اور کینسر ہسپتال سائنور سوات کی اپ گریڈیشن کو اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں موجود کینسر ہسپتال ارنم پشاور اور کینسر ہسپتال سائنور سوات کی اپ گریڈیشن کو اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سوات میں کینسر ہسپتال کی اپ گریڈیشن پر 491 ملین روپے خرچ ہوں گے جبکہ پشاور کینسر ہسپتال ارنم کی اپ گریڈیشن پر 1270 ملین روپے کی لاگت آئے گی وزیراعلیٰ نے صوبے میں موجود پانچ کینسر ہسپتالوں کو سالانہ 125ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ دینے کی بھی منظوری دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ سوات میں ایگرکلچر ریسرچ سنٹر اور سب سٹیشن نیفا کو سوات میں موجودہ سیٹ اپ میں ہی اپ گریڈ کیا جائے۔ محمود خان نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سوات کینسر ہسپتال (سائنور) اور ارنم ہسپتال پشاور کی اپ گریڈیشن اور سوات میں نیفا(نیوکلیئر انسٹیٹوٹ آف فوڈ اینڈ ایگلرکلچر) سب سٹیشن کے قیام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیرزراعت محب اللہ خان، ڈاکٹر مسعود الحسن ممبرپاکستان اٹامک انرجی کمیشن، میجر جنرل عابد ممتاز، ڈی جی سٹرٹیٹجک پلان ڈویژن، سیکرٹری ہیلتھ، سیکرٹری ایگرکلچر، ڈی سی ایم او ارنم ہسپتال ڈاکٹر عاکف اللہ خان، ڈائریکٹر سائنو رسوات، ڈپٹی کمشنر سوات و دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا شعبہ صحت میں کردار، صوبہ خیبرپختونخوا میں نیوکلیئر میڈیسن سنٹرز اور سوات کینسر ہسپتال سائنور، ارنم ہسپتال پشاور کی مجوزہ اپ گریڈیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو پورے پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں نیوکلیئر میڈیسن سنٹرز کے قیام اور کردار پر بریفینگ دی گئی۔اجلاس کو صوبہ خیبرپختونخوا میں موجود پانچ کینسر ہسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کے ٹرن آؤٹ، اُن کے علاج اور دیگر سروسز کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس کو سوات میں کینسر ہسپتال سائنور کی موجودہ حالت اور اپ گریڈیشن اور اُس پر لاگت کے بارے میں بھی تفصیلاً بتایا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سائنور ہسپتال میں دستیاب آلات کے ساتھ ساتھ جدید آلات کی فراہمی پر 491 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔سائنور ہسپتال سوات 40.91 کنال پر بنا ہوا ہے جبکہ 2.43 کنال زمین کی مزید توسیع سے ہسپتال کا کل رقبہ 43.34 کنال ہوجائے گا۔ ہسپتال میں 19 آفیسرز اور 114 مزید سٹاف موجود ہے۔ یہ ہسپتال 70 بیڈز پر مشتمل ہیں 2017-18 میں مریضوں کی تعداد 18 ہزار 854 ریکارڈ کی گئی تھی۔اجلاس کو ارنم ہسپتال پشاورکے بارے میں بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی یہ ہسپتال 20 کنال زمین پر مشتمل ہے اور تین کنال زمین کی توسیع سے ہسپتال کا کل رقبہ 23 کنال ہوجائے گا۔ ہسپتال میں 33 آفیسرز کے ساتھ ساتھ 150 دیگر سٹاف موجود ہے۔ ارنم ہسپتال 75 بیڈز پر مشتمل ہے اور2017-18 میں مریضوں کی تعداد28 ہزار 968 ریکارڈ کی گئی تھی۔ ارنم ہسپتال کی اپ گریڈیشن پر ٹوٹل 1270 ملین روپے لاگت آئے گی۔محکمہ زراعت خیبرپختونخوا نے بھی اجلاس کو صوبے میں زراعت کے حوالے سے کارکردگی اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی صوبے کی زراعت اور خوراک میں کردار پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو ایگلر کلچر ریسرچ سنٹر میں الیکٹرانک بیم سہولیات کی فراہمی جس سے پھلوں، سبزیوں اور جیم سٹونز کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح سوات میں نیفا(نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایگرکلچر) کے قیام اور اس کی افادیت کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی مدد سے حاصل کردہ 111 مختلف اقسام کی فصلوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ نیفاکے ریسرچ اقدامات،سروسزاور خوراک و زراعت کے شعبے میں کارکردگی پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اسی طرح نیفاکی زراعت کے شعبے میں بہتر پیداوارکیلئے اقدامات، پھلوں اور سبزیوں کی دُگنی پیداوار، ضلع سوات میں اہم اور خصوصی سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار، سوات اور ملحقہ علاقوں میں سبزیوں اور پھلوں کی پیدوار میں حائل رکاوٹوں اور اُن کے حل کے بارے میں بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات میں مشروم کو گھریلوصنعت کے طور پر متعارف کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نیفا کے ان اقدامات میں پوری پوری مدد کرے گی۔اُنہوں نے سوات میں موجودہ سیٹ اپ میں ریسرچ سنٹر کے قیام کو ممکن بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے کہاہے کہ کینسر کی بیماری کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت تمام ممکن اقدامات اُٹھائے گی۔ صوبے کے عوام کیلئے اس موذی مرض کے بہتر علاج کیلئے سوات کینسر ہسپتال، سائنور اور پشاور ارنم ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کیلئے ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

error: Content is protected !!