پیسکوچیف اور ایکسین تیمرگرہ کے خلاف نیب کے ذریعے فوری انکوائری کرکے چترال کے 18ہزار صارفین بجلی کو ریلیف دیا جائے۔پیسکو صارفین چترال | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / پیسکوچیف اور ایکسین تیمرگرہ کے خلاف نیب کے ذریعے فوری انکوائری کرکے چترال کے 18ہزار صارفین بجلی کو ریلیف دیا جائے۔پیسکو صارفین چترال

پیسکوچیف اور ایکسین تیمرگرہ کے خلاف نیب کے ذریعے فوری انکوائری کرکے چترال کے 18ہزار صارفین بجلی کو ریلیف دیا جائے۔پیسکو صارفین چترال

چترال(نمائندہ آوازچترال) چترال کے18ہزار صارفین بجلی کو واپڈا پیسکو حکام کی مسلسل غفلت اور عوام دشمنی کے خلاف دھرنا دینے پر مجبورکیا جارہا ہے۔ایک مشترکہ اخباری بیان میں چترال کے سماجی،سیاسی،عوامی اور تجار برادری کے نمائندوں ساجد اللہ ایڈوکیٹ،عالمزیب ایڈوکیٹ،نائبر ہوڈ ناظم منظور احمد ایڈوکیٹ،ماسٹرکریم اللہ،شہزاد احمد،محمد نیاب،محمد ہارون الرشیداوراعجاز احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ پیسکو چیف اور ایگزیکٹیو انجینئر تیمرگرہ کے خلاف نیب کے ذریعے انکوائری کرائی جائے تاکہ صارفین کی شکایات کا ازالہ ہوسکے اور موجودہ حکومت کی مزید بدنامی نہ ہو۔تفصیل بتاتے ہوئے صارفین کے نمائندوں نے الزام لگایا کہ چترال کے پیسکو سٹاف میں لائن مینوں اور میٹر ریڈروں کی76آسامیاں پہلے ہی خالی تھیں۔[پیسکو چیف اور ایکسین تیمرگرہ نے بچے کھچے لوگوں کو چترال کے نام پر پشاوراور تیمرگرہ میں گھریلو مشقت کی ڈیوٹی پر رکھا ہوا ہے چترال کے6کمپلینٹ آفس بند کئے گئے ہیں صرف ایک کمپلینٹ آفس رہ گیا ہے اس میں کمپلینٹ کیا جائے تو مسئلے کوحل کرنے میں ایک ہفتہ لگتا ہے۔بازار میں شارٹ سرکٹ کا خطرہ ہو،تاریں گرچکی ہوں،دکانوں میں آگ لگنے کا خطرہ ہو تو پیسکو حکام کہتے ہیں ہمارے پاس عملہ نہیں ہے۔سٹاف کی کمی ہے،گاڑی نہیں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔یہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ طرز عمل ہے نیز میٹر ریڈنگ کے بغیر تین کمروں والے گھر کے صارف کو ڈیڑھ لاکھ روپے کا بل بھیج دیا جاتا ہے بل کی درستگی کے لئے جانے والے صارفین کی بے عزتی کی جاتی ہے۔اور عمران خان کو فون کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔صارفین کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیسکو کے پشاور اور تیمرگرہ دفاترمیں حکومت مخالف کا موثر گروہ بیٹھا ہوا ہے یہ گروہ موجودہ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے لوگوں کواحتجاج،دھرنوں اور بدامنی کے واقعات پر اُکساتا ہے۔صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ پیسکوچیف اور ایکسین تیمرگرہ کے خلاف نیب کے ذریعے فوری انکوائری کروائی جائے اور چترال کے 18ہزار صارفین بجلی کو ریلیف دیا جائے۔

error: Content is protected !!