53

سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی لڑائی سے لوگوں کو کوئی سروکار نہیں، عوام اس کو ٹوپی ڈرامہ سمجھ رہے ہیں۔ لوگ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق

گجرخان(آوازچترال رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی لڑائی سے لوگوں کو کوئی سروکار نہیں، عوام اس کو ٹوپی ڈرامہ سمجھ رہے ہیں۔ لوگ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور وزیراعظم ہر خطاب میں کہتے ہیں کہ ”نہیں چھوڑیں گے، پکڑ لیں گے، بھاگنے نہیں دیں گے“۔ عوام کو وزیراعظم کا خطاب از بر ہوچکاہے۔ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں اور حکومت طفل تسلیوں سے انہیں بہلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے آج تک پانامہ کے 436 ملزموں کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی جس سے یہ تاثر مضبوط ہورہاہے کہ حکومت صرف چند لوگوں کا احتساب چاہتی ہے۔ حکومت نے ڈالروں کے لیے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ذلت آمیز شرائط تسلیم کر لی ہیں مگر بیرونی بنکوں میں پڑے ہوئے پاکستان کے 375 ارب ڈالر واپس لانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ حکومت عوام کو تعلیم، صحت، روزگار کی سہولتیں دینے کی بجائے چھین رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجر خان میں الخدمت فاؤنڈیشن میڈیکل کمپلیکس کے بوائز کیمپس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب، ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ضلع راولپنڈی راجہ محمد جواد و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام حکمرانوں کے نعرے اور آنیاں جانیاں نہیں، اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ معاشی زبوں حالی اور مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دو بھر کردیاہے۔ قرضوں اور خیرات سے معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ اگر لوٹے گئے 375 ارب ڈالر واپس آ جائیں تو حکومت کو کسی سے خیرات اور قرضہ لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہاکہ عوام لٹیروں کا بے لاگ احتساب چاہتے ہیں۔ ہم کسی ایک فر د یا جماعت کا نہیں، سب کا احتساب چاہتے ہیں۔ ملک لوٹنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں مگر پھر بھی روزانہ مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے۔ عوام نے جس تبدیلی کی امیدیں اور توقعات لگا رکھی تھیں، اس کا کہیں دور دور نام و نشان نظر نہیں آرہاہے۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ رمضان المبارک میں مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے اشیائے خوردو نوش آٹا، چاول، چینی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور قیمتوں کی نگرانی کرنے کے لیے ایک موثر اور مربوط نظام بنایا جائے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر ان اشیاء کی قیمتوں میں کم از کم پچاس فیصد کمی کی جائے تاکہ غریب بھی آسانی اور سہولت کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔
دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (اپیکا)کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے پیش نظر درجہ چہارم کے ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا جائے اور اس سے اوپر کے گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ چھوٹے ملازمین اور کلرکس حالات کی سنگینی کا مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ بوڑھے پنشنرز جنہوں نے پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت کی ہے، وہ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر حکومت ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا برتاؤ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بوڑھے پنشنرز کی پنشن کم از کم دس ہزار روپے مقرر کی جائے اور رمضان میں ایک اضافی پنشن دی جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے ملازمین کی سہولتوں کا خیال رکھے اور کلرکوں کے جائز مطالبات فوری تسلیم کیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی عام آدمی اور پسے ہوئے طبقات کی ترجمان جماعت ہے۔

Facebook Comments