میاں بیوی سمیت تین پاکستانیوں کے سر قلم | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / میاں بیوی سمیت تین پاکستانیوں کے سر قلم

میاں بیوی سمیت تین پاکستانیوں کے سر قلم

اسلام آباد (آوازچترال نیوز)سعودی عرب میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار میاں بیوی سمیت تین پاکستانیوں کو سزائے موت دیتے ہوئے ان کے سر قلم کر دیئے گئے ہیں۔بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ’’جسٹس پراجیکٹ پاکستان‘‘ کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان خاتون فاطمہ اعجاز سعودی عرب کے شہر جدہ کی دھابن جیل میں قید تھی۔تنظیم کے مطابق 2014 کے بعد سعودی عرب میں یہ پہلی پاکستانی خاتون ہیںجن کاسر قلم کیا گیا ہے۔تنظیم کے مطابق فاطمہ کے شوہر محمد مصطفیٰ اور عبدالمالک کا بھی سر قلم کر دیا گیا ہے۔تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 100 سے زائد پاکستانیوں کو سزا موت دیتے ہوئے ان کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں کسی بھی ملک کے شہریوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ پاکستانیوں کو سزائے موت دی جاتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2014 میں22، 2015میں 22، 2016 میں7، 2017 میں17 ، 2018 میں30 اور 2019 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 14پاکستانیوں کو سزائے موت سناتے ہوئے ان کے سر قلم کر دیئے گئے ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دوسرے ممالک سعودی عرب کے ساتھ اپنے شہریوں کی واپسی کے معاہدے کر رہے ہیں اس وقت پاکستانی حکومت ایک مرتبہ پھر اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔تنظیم کے مطابق میاں بیوی سمیت تین پاکستانیوں کو سزائے موت دینا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ترقی یافتہ سوچ کی بھی نفی کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان کے دوران 2107پاکستانیوں کو رہا کر کے واپس ان کے ملک بھجوانے کا دعویٰ بھی سچ ثابت نہیں ہوا کیونکہ ابھی تک صرف 250پاکستانی ہی اپنے وطن پہنچ چکے ہیں، ان میں سے بیشتر وہ پاکستانی ہیں جن کو پہلے ہی ڈیپورٹ کئے جانے کے اقدامات سعودی عرب میں کئے جا رہے تھے۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو کسی قسم کے وکیل کی مدد، پاکستانی سفارت خانہ تک رسائی کی اجازت نہیں دی جاتی جو غیرانسانی اور انصاف کے بنیادوں تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی سربراہ بیرسٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی خاتون فاطمہ اعجاز کا سرقلم کرنا انتہائی غیرانسانی اقدام ہے ۔ فاطمہ اعجاز کا سرقلم کرنے واقعہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتے خانے کی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوائے۔

error: Content is protected !!