مقامی حکومتوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی ٗ شوکت یوسفزئی | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / مقامی حکومتوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی ٗ شوکت یوسفزئی

مقامی حکومتوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی ٗ شوکت یوسفزئی

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)خیبرپختونخواحکومت نے واضح کیاہے کہ موجودہ مقامی حکومتوں کی مدت میں کوئی توسیع نہیں کی جائیگی مقامی حکومتیں 28اگست کوتحلیل ہورہی ہیں رواں سال کے آخرتک پورے صوبے اور قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کاانعقادکیاجائیگا جس میں ضلعی حکومتیں شامل نہیں ہونگی اپوزیشن کاکہناہے کہ حکومت ترامیم کی آڑمیں اقتدارکی نچلی سطح پر منتقلی کی بجائے بیوروکریسی کومضبوط کرکے بلدیاتی نظام کے حقیقی پرکاٹ رہی ہے۔ خیبرپختونخوااسمبلی میں بلدیاتی نظام پر بحث کاآغازکرتے ہوئے اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے کہاکہ چارسال بعدبھی پشاورکے ضلعی کونسلرزاس ایوان کے باہر اختیارات کیلئے اپنی قمیصیں پھاڑرہے ہیں اقتدارکی نچلی سطح تک منتقلی کی بجائے آج بھی ڈپٹی کمشنر اختیارات کا سرچشمہ ہے افواہیں آرہی ہیں کہ حکومت موجودہ مقامی حکومتوں کی مدت میں ایک سال کی توسیع کررہی ہے اسی طرح خبریں آتی ہیں کہ صوبائی وزیربلدیات روزانہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوتے ہیں اور قانونی مسودے عمران خان کے پاؤں میں رکھتے ہیں ۔ اے این پی کے سرداربابک نے کہاکہ2015کے بلدیاتی انتخابات تحریک انصاف نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کئے گئے ہیں قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کو 30فیصدفنڈنہیں دیاگیا بلدیاتی نظام آدھاتیترآدھابٹیرکے متراد ف ہے کہیں سیاسی توکہیں غیرسیاسی ہے ضلع کی سطح پر حکومتوں کوختم کرنااس نظام کے رو کے خلاف ہے حکومت ضلعی حکومتوں کو بحال کرے اور تمام انتخابات جماعتی طرزپرکرے ، ایم ایم اے کے عنایت اللہ نے کہاکہ موجودہ بلدیاتی نظام بھی غلطیوں سے پاک نہیں لیکن اس میں ترامیم کے ذریعے مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ضلع حکومتوں کو اگرختم کیاگیا تو اپوزیشن سمیت خود تحریک انصاف کے لوگ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرینگے ۔ مقامی حکومتوں کیلئے تعلیم کی شرط لگاناغلط ہے آئین کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 30فیصد مقامی حکومتوں کو جانا تھا لیکن 30فیصدکی بجائے صرف پندرہ فیصد ہی مقامی حکومتوں کو دیاگیا رواں سال 29ارب میں سے14ارب روپے اب تک جاری کئے جاچکے ہیں انہوں نے کہاکہ مجوزہ ترامیم کو دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ مقامی حکومتوں اور بلدیاتی نظام کے پرکاٹے جارہے ہیں اقتدارکی نچلی سطح پر منتقلی نہیں کی جارہی ، صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہاکہ28اگست کوختم ہونیوالی مقامی حکومتوں کی مد میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جارہی مدت ختم ہوتے ہی دوسے تین ماہ کے اندرانتخابات کاانعقادکیاجائیگا۔ مجوزہ ترامیم میں ڈسٹرکٹ کونسل شامل نہیں ویلج کونسل میں اقلیت سمیت سات کونسلرزہونگے اس نظام میں بھی خامیاں ہونگی لیکن اس کو ٹھیک کرناہوگا۔حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے آئی ٹی کامران بنگش نے کہاکہ ہمیں تبدیلی سرکار کے طعنے دینے والے یاد رکھیں ہم ایزی لوڈسرکارنہیں ہے تحریک انصاف نے پارٹی نصب العین پرعمل درآمدکرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کاانعقاد کیا لیکن لوکل گورنمنٹ ایکٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں جس میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ۔ وقت اورحالات کے مطابق تحریک انصاف نے اس میں تبدیلیاں کی ہیں جب تک کوئی بھی کونسل60فیصدفنڈخرچ نہیں کریگااس کو مزید فنڈجاری نہیں کیاجائیگاعمران خان کے قدموں میں ایکٹ توکیا ان کیلئے ہماری جان اورہماری سیاست سب کچھ حاضرہے مقامی حکومتوں سے اختیارات کی نہ صرف نچلی سطح منتقلی ہوگی بلکہ عوامی نمائندوں کے ذریعے نظام کو مزید فعال بنایاجائیگا۔

error: Content is protected !!