اب کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑا اعلان کردی | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / اب کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑا اعلان کردی

اب کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑا اعلان کردی

راولپنڈی (  آوازچترال نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ 22۔  کے خاتمے کے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ترمیم کے بعد کوئی ایس پی کسی ایس ایچ او کے خلاف شہری کی درخواست پر 1ہفتے میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی مدعی یا شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا پورا حق اور اختیار حاصل ہو گاحالانکہ یہ فیصلہ عدالتوں پر کام کا دباؤ کم کرنے کے لئے کیا گیا تھالیکن وکلا نے اس فیصلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی انتقال کے بعدوراثت اور جانشینی کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے انتہائی سہل بنایا جائے گا کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا،شفہ کا قانون بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس بلیک میلنگ کو جلد ختم کیا جائے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے نومنتخب عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات کرنے والے وفد میں ہائی کورٹ بار کے صدرملک غلام مصطفےٰ کندوال ، سیکرٹری جنرل محمد فیصل ملک، سینئر نائب صدر سید حسنین علی کاظمی، نائب صدر راجہ منیر احمداور جوائنٹ سیکرٹری فرزانہ عزیز کے علاوہ ایگزیکٹو باڈی کے اراکین بھی شامل تھے چیف جسٹس نے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دلایا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویڑن کے وکلا کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا انہوں نے 22۔Aاور22۔Bکے خاتمے پربار کے تحفظات کے جواب میں کہا کہ اس بات کا فیصلہ عدالتوں پر کام کا دباؤ کم کرنے کے لئے کیا گیا تھا لیکن ملک بھر کے وکلا کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں ترمیم کا کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کوئی ایس پی کسی ایس ایچ او کے خلاف شہری کی درخواست پر 1ہفتے میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی مدعی یا شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا پورا حق اور اختیار حاصل ہو گاانہوں نے کہا کہ وکلا نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو سمجھے بغیر احتجاج کا راستہ اپنا لیا انہوں نے کہا کہ بہت جلد ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا بنچ یہاں بیٹھ کر کسی بھی مقدمہ میں لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے وکلا کے دلائل اور بحث سن سکے گا اسی طرح جوڈیشل اکیڈ می میں جلد وکلا کے لئے ریفرشر کورس شروع کئے جائیں گے تاکہ وکلا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے جبکہ وکلا کی تربیت کے لئے جوڈیشل اینڈ جسٹس کمیشن سے فنڈز فراہم کئے جائیں گےانہوں نے کہا کہ ملک سستے اور فوری انصاف کے لئے عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور عدلیہ کا سربراہ ہونے کے ناطے عدالتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنامیری اولین ترجیح ہے انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ وہ مقدمات کے غیر ضروری التوا کے خاتمے کے لئے ہر سطح پر عدلیہ سے تعاون کریں انہوں نے کہ جلد تمام عدالتی نظام کو آئی ٹی سے منسلک کیا جائے گا انہوں نے بار ایسوسی ایشنوں پر زور دیا کہ وہ وکلا کی فلاح و بہبود کے لئے فلاحی فنڈ قائم یں اس ضمن میں نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ وفاقی حکومت بھی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرے گی لیکن شرط یہ ہے کہ پہلا قدم وکلا اور بار ایسوسی ایشنیں خود اٹھائیں تاکہ عمر رسیدہ وکلا عمر کے آخری حصے میں مجبوری کے تحت وکالت نہ کریں اور بار کی جانب سے انہیں مستقل سہارا میسر ہو سکےانہوں نے کہا کہ کسی شخص کے انتقال کے بعدوراثت اور جانشینی کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے انتہائی سہل بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ نادرا کے پاس99فیصد افراد اور ان کے خاندان کا مکمل ڈیٹا موجود ہے ہماری کوشش ہو گی کہ کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا تاکہ عوام کو اپنے حق کے لئے کئی سال تک دھکے نہ کھانا پڑیں انہوں نے شفہ کے قانون کو بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ قانون صرف بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور کوئی بھی شخص 1فلیٹ پر شفہ دائر کر کے اصل مالک کو بلیک میل کر کے بعد ازاں رقم لے کر دستبردار ہو جاتا ہے میری کوشش ہے کہ اس فرسودہ سسٹم کو مکمل ختم کیا جائے قبل ازیں بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو وکلا کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویڑن کے وکلاکو نظر انداز کیا جارہا ہے اس موقع پر وفد نے چیف جسٹس کو 22۔Aاور22۔Bسمیت دیگر تحفظات سے تفصیلی آگاہ کیا۔

error: Content is protected !!