دادبیداد ....ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ....ترقیاتی فنڈ کا مسئلہ | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / دادبیداد ….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ….ترقیاتی فنڈ کا مسئلہ

دادبیداد ….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ….ترقیاتی فنڈ کا مسئلہ

خیبر پختونخوا کی حکومت نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے عوامی ، سماجی اور کاروباری حلقوں نے اس اعلان کو سراہا ہے کیڑے نکالنے والے مائیکرو سکوپ لیکر بیٹھے ہیں اس میں بھی کیڑے نکال رہے ہیں اُدھر پنجاب اسمبلی میں سچ مچ کیڑے نکل آئے ہیں گذشتہ ہفتے پنجاب اسمبلی میں سرکاری پارٹی اور حزب اختلاف نے اتفاق رائے سے اراکین اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں 310 فیصد اضافے کا بل پاس کیا سیاسی افراتفری ، انتشار اور گومگو کے اس پُر آشوب دور میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا کسی بل پر متفق ہونا غنیمت سے کم نہیں تھا اس پر ہم سب کو اللہ کا شکر ادا کر نا چاہئیے تھا مگر سیاست میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے بعض سیاستدانوں نے اس پر سوالات اُٹھا ئے اور سوالات کے ساتھ سابقہ ادوار کا ریکارڈ نکا لا پرانی تقریروں کے ٹیب اور ویڈیو کلپ لاکرسوشل میڈیا پر وائرل کردیا یہاں تک کہ متفقہ بل کو متنازعہ بل بنا دیا گیا اب صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم نے بل کو واپس لینے کا حکم دیا ہے مگر قانونی طور پر بل واپس نہیں لیا جاسکتا گورنر اگر اس کو دستخط کے بغیر واپس کرے تو بل غیر موثر ہوسکتا ہے مگر اس صور ت میں گورنر ہاؤس اور سپیکر کے چیمبر کے درمیان تلخی پیدا ہو جائیگی وزیر اعلیٰ کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوجائینگی سرکاری بنچوں کے ساتھ حزب اختلاف کی ہم آہنگی مزید بگاڑ کی طرف جائے گی ہمارے دوست سید شمس النظر فاطمی نے ایسے مواقع کے لئے انگریزی اور عربی کو ملاکر ’’یو ٹرنیات‘‘ کی نئی اصطلاح وضع کی ہے وہ اس قول کو سند مانتے ہیں کہ تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا بہتر ہوتا ہے جس کہانی کو انجام تک پہنچانا ممکن نہ ہو ، ایک خوبصورت موڑ دے کر کہانی کا رُخ موڑ نا چاہیئے اسمبلی میں اگر اتفاق رائے سے بل پاس ہوا تو کیا ہوا ایک خوبصورت یوٹرن پر جاکر تھوڑا سا ٹرن لیا جائے تو ’’بل‘‘ جامد ہو جائے گا ، غیر موثر ہوجائے گااشتہاری زبان میں کہا جاتا ہے ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘‘ سیاسی اور اخباری زبان میں کہا جاتا ہے کہ ’’ یوٹرن بھی ایک نعمت ہے‘‘ اس طرح اراکین اسمبلی کی ماہانہ تنخوا ہیں 83ہزار روپے سے بڑھ کر 2لاکھ روپے نہیں ہونگی وزرا ء کی تنخواہیں 2لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے چار لاکھ ماہانہ کی حد کو نہیں چھو سکینگی یاد رہے سفر خرچ ،الاونس اور دیگر واجبات کو ملاکر سابقہ تنخواہ 6لاکھ روپے اور موجودہ تنخوا ہ 9لاکھ روپے پنجاب اسمبلی کے ہر ممبر کے نام پر آتی ہے وزراء کا حساب 10لاکھ روپے سے لیکر 18لاکھ روپے ماہانہ تک جاسکتا ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے پِنڈورا باکس نہیں کھولا سیدھے سادھے طریقے سے روٹین کے مطابق ضلع پشاور کے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا فنڈ کی مالیت سابقہ شرح کے مطابق 4 کروڑ روپے ہے تاہم ڈالر کے مو جو دہ شرح مبا دلہ کو دیکھ کر اس میں اضا فہ کیا جاسکتا ہے موجو دہ حالات میں پبلک سیکٹر ڈیو لپمنٹ پر وگرام (PSDP) کے ترقیا تی منصو بے بند ہو چکے ہیں صو بائی سطح پر سا لا نہ ترقیا تی پر وگرام (ADP) کے منصو بے بھی زیر التو ا ہیں لوکل گورنمنٹ کا فنڈ بھی بند کیا گیا ہے شہر وں سے لیکر دیہا ت اور میدانی علا قوں سے لیکر پہاڑی علاقوں تک عوام کے چھوٹے مو ٹے مسائل کو حل کر نے کے لئے فنڈ مہیا کر نے کی کوئی کھڑ کی دستیاب نہیں غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کو فنڈ مہیا کر نے والے بین الاقوامی ڈونرز (Donors) پر پا بند یا ں لگا نے کے بعد صو بے کے طو ل و عرض میں 85 بڑے ترقیا تی پر اجیکٹ بند ہو چکے ہیں 55 ہزار ملا زمین کو گھر بھیجد یا گیا ہے ان حالات میں اراکین اسمبلی کا ترقیاتی فنڈ بتدریج تمام اضلاع کے اندر صو بائی اسمبلی کے حلقوں کو جاری کیا گیا تو عوامی سطح پر پائی جا نے والی بے چینی دور ہو جائیگی دیہی سڑکوں ، پلوں ، نہروں ،اور نلکوں کی مرمت کے لئے وسائل دسیتاب ہو نگے مگر اس میں ایک قانون رکاؤٹ ہے اس کو دور کیا جائے تو اس کے فوائد مقامی لوگوں کو ملینگے مثلاً یکہ تو ت کے کسی محلے کی رابطہ سڑک کا کام ’’ ای ٹینڈر‘‘ کے ذریعے ڈیر ہ اسمعیل خان بنوں یا کر ک کے ٹھیکہ دار کو دیا جاتاہے یا چترال اور دیر کے کسی پہاڑی مقام پر پل کی مرمت کا کام مانسہر ہ ، ہر ی پور، مردان یا صو ابی کے ٹھیکہ دار کو دیا جا تا ہے وہ کا م کسی اور کو سب لٹ (Sub-let ) کرتا ہے وہ مقامی بند ہ ڈھو نڈ لینے کے بعد مزید آگے سب لٹ (Sub let) کر تا ہے اس طرح کا م اور فنڈ کا بیڑہ غر ق ہو جاتا ہے کمپیوٹر کو خا موش کر کے اراکین اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ کا ٹھیکہ مقامی سطح پر کام کر نے والے رجسٹر ڈ فرموں کو ویلج کونسل کی سطح پر دید یا جا ئے تو کام جلد بھی ہوگا معیا ری بھی ہو گا اور مقامی آبادی کو اس کے فوائد بھی ملینگے یکہ تو ت ۔ متھر ا ، سوڑیزی اور چترال کے لوگ پیر س ، لندن اور نیو یارک کے شہروں کی طرح کمپیوٹر کے ذریعے ٹینڈر دیکر کام لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے دُور پار سے آنے والا کوئی بڑا سر ما یہ دار اُن کے منہ کا نوالہ کمپیوٹر کے ذریعے چھین لیتا ہے اور ترقیاتی کام کا ستیا ناس کر دیتا ہے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ جاری کر نے کا اعلان قابل ستائش ہے اس پر عوامی مفاد میں جلد سے جلد عمل ہو نا چاہیے

error: Content is protected !!