ڈپٹی کمشنر چترال نے چترال شہر کے قریبی گاؤں کوغذی میں کھلی کچہری منعقد کرکے عوامی مسائل معلوم کئے جن میں سے بعض کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کردئیے | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / ڈپٹی کمشنر چترال نے چترال شہر کے قریبی گاؤں کوغذی میں کھلی کچہری منعقد کرکے عوامی مسائل معلوم کئے جن میں سے بعض کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کردئیے

ڈپٹی کمشنر چترال نے چترال شہر کے قریبی گاؤں کوغذی میں کھلی کچہری منعقد کرکے عوامی مسائل معلوم کئے جن میں سے بعض کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کردئیے

چترال(نمائندہ آوازچترال) ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود نے چترال شہر کے قریبی گاؤں کوغذی میں کھلی کچہری منعقد کرکے عوامی مسائل معلوم کئے جن میں سے بعض کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کردئیے جبکہ بعض مسائل کو متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لانے کی یقین دہانی کرادی۔ ویلج کونسل کوغذی کے دفتر میں منعقد ہ اس کچہری میں ذیادہ تر مسائل گولین گول ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کے متاثر یں کی طرف سے پیش کئے گئے جن کو معاوضہ جات کی ادائیگی سے تعلق رکھتے تھے جبکہ حال ہی میں ریذیڈنٹ انجینئر کی طرف سے کلاس فور اسامیوں پر غیر مقامی بھرتیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اس موقع پر پیش کردہ مسائل میں کوغذی کے رورل ہیلتھ سنٹر میں ڈاکٹروں کی کمی ، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ابنوشی کے لئے صاف پانی کی عدم دستیابی کے مسائل پیش کئے گئے۔ اس موقع پر ڈی۔ سی نے کہاکہ ان کچہریوں کا مقصد دوردراز دیہات میں ان عوام تک پہنچنا ہے جوکہ کسی وجہ سے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں آکر متعلقہ دفاتر میں اپنے مسائل بیان نہیں کرسکتے۔ انہوں نے موقع پر موجود اسسٹنٹ کمشنر چترال عالمگیر کو ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ وہ واپڈا اور سامبو کمپنی کے ذمہ داران کے ساتھ مل کر اہالیان کوغذی کے مسائل کے بارے میں ان کی پوزیشن واضح کریں اور انہیں حل کروادیں۔ اس سے قبل ویلج ناظم خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ نے ڈپٹی کمشنر کو خوش آمدید کہا اور علاقے کے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی جبکہ شریف حسین اور دوسروں نے بھی کئی مسائل بیان کئے جن میں چترال بونی روڈ کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکل کا ذکر کی گیا۔ کچہری میں اے سی چترال کے علاوہ ٹی ایم او قادر ناصر، ڈی ایف سی فضل باری، ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو طار ق احمد، اسسٹنٹ وارڈن فشریز اختر رومی، ڈی ای او مردانہ احسان الحق، ایکسین پبلک ہیلتھ، ڈی ایف او وائلڈ لائف اور دوسرے افسران شامل تھے۔

error: Content is protected !!