دادبیداد... ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ...عدالت کا انقلابی قدم | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / دادبیداد… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی …عدالت کا انقلابی قدم

دادبیداد… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی …عدالت کا انقلابی قدم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ 302کے مقدمات کی فوری سماعت اور چار دنوں کے اندر فیصلہ صادر کرنے کے لئے ہر ضلع میں ماڈل عدالت قائم کرنے کا حکم جاری کیا ہے ساتھ ہی جھوٹی گواہی اور جھوٹے دعویداری کے مرتکب شہر یوں کیلئے سزائے موت کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے ان میں سے ہر ایک انقلابی قدم ہے اور سچی بات یہ ہے کہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اس طرح کے انقلابی اقدامات کی ضرورت تھی نئے حکمنامے کی روشنی میں اگر اگلے دو سالوں میں ہر ضلع کے اندر ماڈل عدالتیں قائم کی گئیں تو قتل کا جرم ثابت ہونے پر 4دنو ں میں سزائے موت سنائی جائیگی اور قانونی طور پر اگر 4دنوں میں جرم ثابت نہ ہو ا تو 25سالوں میں بھی ثابت نہیں ہوگا مگر اس سلسلے میں استغاثہ کو بھی مضبوط کرنا ضروری ہے موجودہ حالا ت میں استغاثہ کے سامنے 4 بڑی رکاوٹیں ہیں پہلی رکاوٹ تفتیش کے نظام کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے لیکر دوسرے شعبے کو دینا ہے انوسٹی گیشن کا الگ شعبہ آنے سے پہلے استغاثہ کا نظام بہت بہتر تھا ایک ہی افیسر کی ماتحتی میں سارا کا م ہوتا تھا دوسری رکاوٹ پر اسیکیوشن کا کام پولیس سے لیکر محکمہ قانون کو دینے کا غلط اقدام ہے پراسیکیو شن پولیس کے پاس نہ ہو تو مقدمہ کس طرح مضبوط ہوسکتاہے؟ تیسری رکاوٹ فارنسک اور دیگر لیبارٹریوں کا نہ ہونا ہے خون ، کا رتوس ، کپڑوں اور دیگر چیزوں کے نمونے جائے واردات سے حاصل کرکے مقتول کے ورثاء سے خرچہ لیکر لاہور میں واقع لیبارٹری کو بھیجا جاتا ہے پولیس کے پاس نہ لیبارٹری ہے نہ ٹیسٹ کا خرچہ ہے اس طرح ٹیسٹ کی رپورٹ سال یا ڈیڑھ سال بعد آتی ہے وہ بھی اس صورت میں اگر مقتول کے ورثا دولت مند با اثر اور طاقتور لوگ ہوں اگر وہ غریب ہوں تو کچھ بھی نہیں ہوتا چو تھی رکاؤٹ یہ ہے کہ قاتل 10 لاکھ روپے فیس دیکر وکیل کر تا ہے یا وکلا ء کا پینل مقر ر کر تا ہے جبکہ مقتول کے ورثا ء کی طرف سے 80 ہزار روپے ما ہا نہ تنخوا ہ لینے والا سرکاری وکیل عدالت میں آجاتا ہے دونوں طرف کے وکلا ء کا کو ئی مو ازنہ بھی بر ابر نہیں ہوتا اس لئے مقد مے کی کاروائی میں شک پیدا ہو جاتا ہے اور شک کی بنیاد پر ملزم آسانی سے بر ی ہو جا تا ہے 4 دنوں میں اس عمل کا پورا ہو نا مو جو دہ حالات میں بہت مشکل بلکہ نا ممکن نظر آتا ہے اگر ایسا ہو تا تو دسمبر 2014 ؁ء میں فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ عدالتی کاروائی میں مختار خاص کی سہولت کا غلط اور نا جائز فائد ہ اُٹھا نا ہے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دیہات اور شہروں میں کچھ لوگ پیشہ ور بن چکے ہیں جو چراگاہوں سے لیکر میرٹ لسٹ اور ملازمتوں تک ہر معاملے میں مختار نامہ لے کر مقد مہ دائر کرتے ہیں اور عدالت سے حکم امتنا عی لیکر بر سو ں تک مقدمہ بازی کر تے ہیں اس کی بھی حوصلہ شکنی ہو نی چاہیے تاکہ عدالتوں پر غیر ضروری اور نا جا ئز مقد مات کا بوجھ نہ ہو اور جا ئز مقد مات کے فوری فیصلے میں آسانی ہو اگر چہ ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کے ریکارڈ میں پیشہ ور مقد مہ بازوں کی فہرستیں موجو د ہیں اس کے با و جود کسی بھی پیشہ ور مختار خاص یا مختار عام کے خلاف کبھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی اس لئے عدالتوں میں مقد مات کی بھر مار جاری ہے اور مقدموں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے عوامی سطح پرعدالتوں کا وقا ر بلند کر نے کے لئے اپیل اور نظر ثانی کے پورے نظام کو بھی ایک بار پھر دیکھنے کی ضرورت ہے طاقتور قاتل کے پیچھے دولت مند طبقہ ہو تا ہے ماتحت عدالت سے قاتل کو سز ا ملتی ہے مگر دولت مند طبقہ اپیل کے حق سے نا جا ئز فائد ہ اُٹھا کر ملزم کو بری کر کے جیل سے با ہر لا تا ہے مقتول کے ورثا ء کو پھر دھمکی ملتی ہے وہ یا تو جان سے ہا تھ دھو بیٹھتے ہیںیا گاؤں چھوڑ کر فرار ہوجا تے ہیں جن ملزما ن کے قبضے سے خو د کش جیکٹ، راکٹ لا نچر اور دیگر مہلک ہتھیار پکڑے گئے ہیںیا جن ملزمان کو بھر ے مجمع میں 6 گواہوں کے سامنے ہتھیار سمیت رنگے ہا تھوں پکڑا گیا ہے وہ بھی اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کر کے بری ہو جاتے ہیں اس لئے غر یب یا مقتول کے ورثا ء عدالتوں پر اعتماد نہیں کر تے عدالت کا موجو دہ انقلا بی قدم بہت خوش آئیند ہے اگر اگلے دوسالوں میں تفتیش اور استغا ثہ کے سسٹم کو بہتر بنا کر 4 دنوں میں قتل کے مقدمے کا فیصلہ جا ری کر نے کی راہ ہموار کی گئی تو پاکستان کے غریب عوام اور مظلو م شہر ی عدالتوں کو اپنا حا می تصور کر ینگے عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو گا پھر ملک میں فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

error: Content is protected !!