حکومت نےسی پیک فنڈز پر ’’خاموش کلہاڑا‘‘ چلا دیا، اپوزیشن خاموش رہنے پر مجبور | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / حکومت نےسی پیک فنڈز پر ’’خاموش کلہاڑا‘‘ چلا دیا، اپوزیشن خاموش رہنے پر مجبور

حکومت نےسی پیک فنڈز پر ’’خاموش کلہاڑا‘‘ چلا دیا، اپوزیشن خاموش رہنے پر مجبور

اسلام آباد( آوازچترال رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف بھی آخرکار لوٹ مار کے اسی راستے پر چل پڑی ہے جس راستے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے چل کر پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تحریک انصاف نے قومی اقتصادی راہداری(سی پیک) کی تعمیر وترقی اور دیگر امور کیلئے مختص 24 ارب روپے نکال کر اپنے اراکین اسمبلی پر لٹانے کی منظوری دیدی ہے۔ سی پیک کیلئے مختص24 ارب روپے کی منتقلی کی سرکاری دستاویزات ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت پیروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہی ہے اور فنڈز کی منتقلی کی تردید کر رہی ہے تاہم اس تردید میں حکومت کے نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کی ہیں۔ سی پیک منصوبے کے فنڈز میں کٹوتی کے معاملے پر ابھی تک چین کا مئوقف سامنے نہیں آیا ہے۔ معروف انگلش اخبار کے مطابق24ارب روپے سی پیک کیلئے مختص گرانٹ نمبر137 سے نکالے گئے ہیں اور کیبنٹ  ڈویژن کی گرانٹ نمبر 108 میں منتقل کئے گئے ہیں جہاں پہلے ہی 5 ارب روپے کے فنڈز موجود ہیں۔ اخبار کے مطابق سی پیک سے رقم کی کٹوتی کے بعد رواں سال تحریک انصاف کے اور اس کے اتحادی اراکین اسمبلی کوان کے حلقوں کی سکیموں کیلئے مجموعی طور پر 29 ارب روپے بطور ’’سیاسی رشوت‘‘ کے دیئے جائیں گے۔ گزشتہ برس مسلم لیگ ن نے بھی عام انتخابات میں کامیابی کیلئے اراکین اسمبلی کو ان کے حلقوں میں ترقیاتی سکیموں کیلئےساڑھے 32 ارب روپے کی ’’سیاسی رشوت‘‘ دی تھی لیکن وہ پھر بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتوں نے سی پیک کے فنڈز پر کلہاڑا چلانے کیلئے وزیر اعظم کی ایس ڈی جی اچیومنٹ فنڈز کا سہارا لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فنڈز کی کٹوتی سے سی پیک کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچے گاجبکہ فنڈز کی کٹوتی سے اس خطرے کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سی پیک منصوبے کو ترجیح نہیں دے رہی ہے اور اس کی ساری توجہ اپنے اراکین اسمبلی کی سیاسی وفاداریاں خریدنے اور انہیں برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جس کیلئے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اپنے انتخابی جلسوں میں دعوئے کئے تھے کہ وہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ایم پی ایز اور ایم این ایز کی ترقیاتی سکیموں کے نام پر ہونے والی سیاسی رشوت کے طور پر استعمال نہیں کریں گے لیکن دیگر یوٹرنز کی طرح انہوں نے اپنے اس دعوی سے بھی یوٹرن لے لیاہے۔ اخبار کے مطابق وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈز کا استعمال سپریم کورٹ کے راجہ پرویز اشرف صوابدیدی فنڈز کیس کی خلاف ورزی ہے جبکہ سی پیک منصوبے کے فنڈز میں کٹوتی کیلئے وفاقی کابینہ کی بھی کوئی منظوری نہیں لی گئی۔ واضح رہے کہ حلقوں کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ تحریک انصاف اراکین اسمبلی کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کے نام پر ’’سیاسی رشوت‘‘ دینے کا بالکل وہی میکانزم فالو کر رہی ہے جو مسلم لیگ ن نے ایجاد کیا تھا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سی پیک منصوبے کے فنڈز سے کوئی کٹوتی کی گئی ہے۔ 24 ارب روپے کے حوالے وفاقی حکومت نے مئوقف جاری کیا ہے کہ بجٹ میں سی پیک کیلئے مختص فنڈز کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سی پیک کے فنڈز میں24 ارب روپے کی کٹوتی کی خبر کو لے کر تحریک انصاف کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
error: Content is protected !!