68

وزیراعظم کی وزیر اعلیٰ محمود خان کو خصوصی ہدایات

پشاور  (آوازچترال نیوز) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو سابقہ فاٹا کو قومی ترقی کے دہارے کے پورے عمل کو خو دمانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سابقہ قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے قلیل المدت اور طویل المدت پلان کیلئے وسائل فراہم کرے گی اور صوبے کو وسائل کی فراہمی کیلئے وفاقی ٹرانسفرز کا سلسلہ جلد شروع ہو گا۔ وزیراعلیٰ بی آر ٹی پشاور کے منصوبے کی تیز تر تکمیل پر نظر رکھیں تا کہ پشاور شہر کے عوام کو آمدورفت کے مسائل کا سدباب ہو ۔ عمران خان نے کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں گیس کے اضافی بلوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی جا چکی ہے ،عوام کو ریلیف دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم پاکستان نے وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد میں ملاقات کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو قبائلی اضلاع میں اداروں کی توسیع ، ترقیاتی و فلاحی سکیموں ، تعلیم و صحت سمیت چھوٹے ڈیموں ، زرعی اور سیاحتی ترقی سے متعلق قبائلی اضلاع میں وضع شدہ پلان پر تفصیلی بریفینگ دی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع کے صوبے میں شامل ہونے سے ہمارے چیلنجز بڑھ گئے ہیں ۔ دن رات قبائل کے مسائل اور نئے اضلاع کے قومی ترقی کے دہارے میں لانے کے پورے عمل کو خود مانیٹر کر رہا ہوں۔ صوبائی اداروں نے نئے اضلاع میں کام شروع کر دیا ہے ۔ صوبائی وزراء کو اپنے محکموں کی کارکردگی پرنظر رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اُنہیں نئے اضلاع میں اپنے محکموں کی مکمل آپریشنلائزیشن اور کام کو مانیٹر کرنے کا پلان دیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع میں عدالتی اور محکمہ پولیس کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بی آر ٹی کی خود نگرانی کر رہا ہوں کئی بار اکیلے نکل کر اس منصوبے پر ہونے والے کام کا جائزہ لیتا ہوں کیونکہ اس پراجیکٹ کے حوالے سے عوامی حساسیت اور عوامی جذبات کا احساس ہے ۔ ہم نے اس پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن دی ہے اور یہ ٹائم لائن متعلقہ اداروں کی باہمی رضامندی سے طے پائی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح اور غریب طبقے کیلئے بہت کچھ پلان کیا جا چکا ہے ۔ خواہش ہے کہ غریب کو ریلیف ملے ۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں نئے شامل ہونے والے اضلاع کیلئے کل وقتی کام کریں ۔ سابقہ فاٹا کے عوام نے بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔ ان علاقوں کو ترقی کے قومی دہارے میں لانا قومی کاز ہے ۔ وہاں تعلیم اور صحت کے جدید نظام پر ترجیحی بنیادوں پر کام ہونا چاہیئے۔ وہاں اداروں کو فعال کرنا ،چیلنج سمجھ کر کرنا چاہیئے ۔ ہمارے سامنے کئی ایک چیلنجز ہیں لیکن سب سے اہم ان اضلاع کی تعمیر نو اور بحالی اور یہاں کے لوگوں کو سہولیات کی فراہمی اور ریلیف دینا ہے تاکہ یہاں کے لوگوں کی احساس محرومی ختم ہو اور اُنہیں یہ احساس ہونے لگے کہ وہ ملک کے دیگر شہریوں کی طرح ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبے کو اس ہمہ گیر کام میں مکمل سپورٹ فراہم کرے گی کیونکہ یہ قومی کاز کا تقاضا ہے اور اس میں ہم سب کے اجتماعی مفادات پنہاں ہیں۔ وزیراعظم نے بی آر ٹی منصوبے میں پائی جانے والی مشکلات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی اور کہاکہ اس پراجیکٹ کا بروقت مکمل نہ ہونا قابل تشویش ہے اسے جلد مکمل کرکے عوام کے لئے کھولا جائے ۔ پشاور کے شہریوں کو ٹریفک کا معقول نظام دینے کیلئے پوری توجہ دی جائے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہاکہ وہ بی آرٹی منصوبے کی خو د نگرانی کریں کیونکہ اس کا مقصد عوام کوریلیف دینا ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اضافی گیس بل کا از سر نو جائزہ لینے اور جائز بلوں کیلئے وہ پہلے ہی ہدایات دے چکے ہیں۔ وہ متعلقہ فورم سے اس بارے میں پوچھ گچھ کریں گے تاکہ غریب عوام کو اضافی بوجھ اور تکالیف سے بچایا جا سکے ۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں عدالتی اور محکمہ پولیس کا نظام قائم کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

Facebook Comments