60

حکومت کی جانب قرض بھی لیاجارہا ہے، ترقی پروگرام بھی کوئی نہیں تو پھر پیسہ کہاں جارہا ہے؟ ،شہباز شریف نے بڑے سوال اُٹھادیئے

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہاہے کہ حکومت کی جانب قرض بھی لیاجارہا ہے، ترقی پروگرام بھی کوئی نہیں تو پھر پیسہ کہاں جارہا ہے؟ حکومت ہوش کے ناخن لے، معیشت کے چیلنج کو سنجیدہ لیں،حکومت ضد، انا اور تکبر کو ایک طرف رکھ کر میثاق معیشت کی طرف آئے،آئیں مل کر پاکستان اور عوام کو معاشی قوت بنانے کے لئے کام کریں۔پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ پر بیان دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت معیشت کے چیلنج کو سنجیدہ لے،ابھی تک حکومت معاشی پالیسی اور حکمت عملی نہیں دے سکی،مضبوط اور مستحکم معیشت سے ہی قومی سلامتی کو نابل تسخیر بنایاجاسکتا ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت معیشت کے معاملے میں اسی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی، تو صورتحال خراب سے خراب تر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہورں نے کہاکہ افراط زر ایک مرتبہ پھر ڈبل ڈیجٹ کی طرف گامزن ہے، پی ٹی آئی حکومت نے افراط زرمیں اپنا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ اکتوبر میں افراط زر 6.75تھا جواب 8.2 فیصد ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افراط زر کی یہ شرح سٹیٹ بنک کی سہہ ماہی رپورٹ کے اندازوں سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مشکل حالات کے باوجود چالیس سال میں سب سے کم ترین سطح 3.93 فیصد پر افراط زر لائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.8 فیصد ملا تھا جس میں دو فیصد کمی آچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بنک مہنگائی کے بے قابو ہوجانے اور معاشی ترقی ہدف حاصل نہ ہونے کی رپورٹس جاری کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی صنعتی پیداوار میں 1.7 فیصدکمی ہوئی ہے،پی ٹی آئی کے چھ ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاری میں 77 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بنک کی ششماہی رپورٹ کے مطابق سٹاک مارکیٹ سے دسمبر میں 8.92کروڑ ڈالر کا انخلاء ہوا۔انہوں نے کہاکہ بجلی، گیس کے بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں روپے کے اضافے سے گیس کے بل آرہے ہیں،محسوس ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو شاہد خاقان عباسی صاحب کی گیس کے بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کی پیشکش کا مثبت جواب دیتی ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی، گیس کے بعد پڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بم عوام پر گرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت قرض بھی لیتی جارہی ہے اور عوام کو ریلیف بھی نہیں دے رہی۔انہوں نے کہاکہ قرض بھی لیاجارہا ہے، ترقی پروگرام بھی کوئی نہیں تو پھر پیسہ کہاں جارہا ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سے پھر کہتا ہوں کہ ہوش کے ناخن لے، معیشت کے چیلنج کو سنجیدہ لیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ضد، انا اور تکبر کو ایک طرف رکھ کر میثاق معیشت کی طرف آئے۔ انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر پاکستان اور عوام کو معاشی قوت بنانے کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ واقعات سے احساس ہوجانا چاہئے کہ معیشت کو اولین ترجیح دینے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سے کہتا ہوں کریڈٹ کے پیچھے نہ بھاگے، نیک نیتی اور محنت سے کام کریں، اللہ تعالی آپ کو کریڈٹ دے گا۔انہوں نے کہاکہ سیاست سے اوپر اٹھیں، آئیں مل کر ملک وقوم کی معیشت کی بنیادیں مضبوط کریں۔

Facebook Comments