44

سرکاری ملازمین کو یکساں مراعات دینے کیلئے کمیٹی قائم

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔صوبائی کابینہ نے بھارتی طیاروں کے مظفر آباد سیکٹر میں فضائی حملے کے خلاف قرار داد منظور کرتے ہوئے پاک فضائیہ اور فوج کو فوری اور بھرپور جوابی کاروائی کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے ٗ کابینہ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو ) پراجیکٹ کو مستقل کرکے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی بل ٗ سرکاری ملازمین کو یکساں الاؤنسز دینے کیلئے وزارتی کمیٹی ٗ قبائلی اضلاع کو چھ ریجنز میں تقسیم کرنے ٗ ان اضلاع میں 25پولیس اسٹیشنز کے قیام اور رولز آف بزنس مجریہ 1985ء کے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے ۔ صوبائی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا بعدازاں صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شوکت علی یوسفزئی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں بھارتی طیاروں کے مظفرآباد سیکٹر میں فضائی حملے کے خلاف قرارداد پیش کی جو منظور ہوئی قرارداد میں کہا گیا کہ صوبائی کابینہ پاک فضائیہ اور پاک آرمی کو فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے جس کی وجہ سے بھارتی فضائیہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوئی اور حملہ پسپا ہوا۔ یہ اجلاس اس عزم کا بھی اظہار کرتا ہے کہ موجودہ حکومت اور پاکستان کی عوام اپنی غیرت مند بھادر اور ایمانی جذبے سے سرشار فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ٗ قرارداد میں مزید کہا کیا کہ اجلاس سمجھتا ہے کہ رات کی تاریکی میں بھارتی حملہ انتہائی بزدلانہ حرکت ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کئی عشروں سے برسر پیکار ہے لاکھوں فوج کے جوان اور نہتی عوام نے قربانیاں دیں پاکستان بھارت سمیت پوری دنیا کو باور کرا چکا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم مودی سرکار الیکشن جیتنے کے لئے اس طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جس سے خطے کے امن کو زبردست خطرہ لاحق ہے اس لیے عالمی برادری کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سمیت بھارت کے عزائم کا نوٹس لے اور دنیا کو خطرناک ایٹمی جنگ سے بچائے ٗ میڈیا کو کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہو ئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل2019ء کی منظوری دیدی ہے۔ صوبائی کابینہ نے سینئر سٹیزن کونسل ٹریثرری اور اپوزیشن سے دو ممبران اسمبلی اور ایک نان آفیشل ممبر کی نامزدگی کی منظوری د ی کابینہ نے ای سٹامپ پیپرشروع کرنے کیلئے بھی متعلقہ محکمے کو تیاری کرنے کی ہدایت کی جس سے ریونیو میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگااسی طرح صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی بل2019ء کی منظوری دیدی ہے اس سے قبل انڈیپنڈنگ مانیٹرنگ یونٹ ایک پراجیکٹ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ تاہم اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور اچھی کارکردگی کی بناء پر کابینہ نے ایک باقاعدہ اتھارٹی کا درجہ دینے کی منظوری دی جو ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں محکمہ تعلیم کی مانیٹرنگ کا کام سرانجام دے گاکابینہ نے تمام محکموں اور تمام قسم کے سرکاری ملازمین کو یکساں بنیادوں پر الاؤنسز دیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ31ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سابقہ قبائلی علاقوں کی صوبے کے ساتھ انضمام کے بعد صوبے کے تمام قوانین کو ان سابقہ قبائلی علاقوں تک توسیع دی گئی ہے اور سابقہ قبائلی ایجنسیوں کو صوبے کے اضلاع کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان ضم شدہ اضلاع میں قوانین پر صحیح معنوں میں عمل درآمدکو یقینی بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ان علاقوں تک وسعت دینے کی ضرورت تھی جس کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے پولیس ایکٹ2017ء کے تحت ضم شدہ اضلاع کو صوبے کے پولیس رینجز کا حصہ بنانے کا نوٹیفیکیشن منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کی جس کی کابینہ نے منظوری دیدی۔نوٹیفیکیشن کے تحت جنوبی وزیرستان کو ڈی آئی خان ریجن ،شمالی وزیرستان کو بنوں ریجن،اورکزئی اور کرم کوکوہاٹ ریجن، خیبر کو پشاور ریجن، مہمند کو مردان ریجن جبکہ باجوڑ کو ملاکنڈ ریجن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا پولیس نے نئے ضم شدہ اضلاع کے ہر سب ڈویژن میں ایک پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی بھی تجویز دی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دیدی جس کے نتیجے میں نئے ضم شدہ اضلاع میں مجموعی طور پر 25پولیس اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے صوبائی حکومت نے پہلی دفعہ یوتھ پالیسی2016ء بھی نافذ کر رکھا ہے۔ اس پالیسی کی روشنی میں صوبے کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اور نوجوانوں سے متعلق دیگر سرگرمیوں کو مربوط بنانے کیلئے محکمہ کھیل اور امور نوجوانان نے یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن بنانے کیلئے قانون کا مسودہ اسمبلی کی منظوری کیلئے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے احکامات جاری کئے کہ تمام محکموں کی سمریز 15دنوں کے اندر کابینہ کے سامنے پیش کئے جائیں ۔بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔کابینہ نے سینئر منسٹر عاطف خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو صوبائی حکومت کے رولز آف بزنس مجریہ1985ء کاجائزہ لے گی اور کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔دیگر ممبرا ن میں وزیر خزانہ، وزیر قانون اور وزیر اطلاعات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام ناکارہ گاڑیوں کی فوری نیلامی کی جائے۔ اسی طرح کابینہ نے فیصلہ کیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے جو سیشن ججز تعینات کئے گئے ہیں انہیں اپنے متعلقہ اضلاع میں منتقل کرنے کیلئے معاملہ پشاور ہائی کورٹ کے ساتھ اٹھایا جائے۔وزیراعلیٰ نے کابینہ کو واضح کیا کہ نو ضم شدہ اضلاع میں وزراء کے دوروں کیلئے شیڈول بنائی جا رہی ہے جس کے تحت وزراء قبائلی اضلاع کے دوروں کے پابند ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے وزراء کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ دفتروں میں حاضری یقینی بنائیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔ڈاکٹروں کی موجودگی یقینی بنانے کیلئے تبادلے کی نئی پالیسی بنائی جائے گی ۔

Facebook Comments