69

خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کیلئے مفت فنی تعلیم کا اعلان

پشاور ۔(آوازچترال رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع کے چار ہزارنوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے فری ٹیکنیکل ایجوکیشن مارچ سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پرٹیوٹانے خواتین روزگار سروسز اورخیبرپختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کیساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو ایک ہنرمندلیبر کی اشد ضرورت ہے۔ ہم صوبے میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دینگے اور اس کو مزید پروموٹ کرینگے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز بھی ہنرمندلیبر کا فروغ ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشنل وقت کی ضرورت ہے اور ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہے مستقبل قریب میں سی پیک اور رشکئی اکنامک زون کے تناظر میں صوبے کو ہنرمند لیبر کی مزید ضرورت درپیش ہوگی۔ ہماری کوشش ہے کہ کے پی ٹیوٹا سے فارغ ہنرمند نوجوانان و خواتین کو تمام فعال انڈسٹریل سٹیٹس اور دوسرے اکنامک زونز میں روزگار کے بہترین مواقع فراہم کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے انڈسٹریل سٹیٹ حیات آباد میں کے پی ٹیوٹا کی جانب سے گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وویمن (GTVC-W )میں موجودسہولیات کی بحالی و بہتری اور پیٹرپ فاؤنڈیشن جرمنی کے تعاون سے سنٹر آف رینیویبل انرجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ اور دوسرے عہدداران بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کو ایڈوانس ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر جو کہ 2003 میں حکومت عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے تعمیر ہوا وہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے، پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کو سنٹر آف رینیوبل انرجی پر بھی بریفنگ دی گئی، جو کہ ایڈوانس ٹیکنیکل سنٹر کا ایک توسیعی منصوبہ ہے جو شمسی توانائی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریگا ۔ اس منصوبے کو پیٹرپ فاؤنڈیشن جرمنی کی مالی معاونت سے وِ ش انٹرنیشنل نے مکمل کیا ہے جس کے تحت شمسی توانائی سے متعلق فنی تربیت کے تمام تر وسائل فراہم کریگی ۔ اس منصوبے میں ایک خوبصورت عمارت کی تعمیر ، لیبارٹری کیلئے سازوسامان ، فرنیچر ، طلبا کیلئے نصابی کتب، یونیفارم اور 560 ٹول کٹس شامل ہیں۔ پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کے بعد وِش انٹرنیشنل نے اس سے متصل خواتین وکیشنل سنٹر کی مرمت و توسیع کا پراجیکٹ شروع کیا۔ ان منصوبوں کا باضابطہ افتتاح آج وزیراعلیٰ نے کیا۔مذکورہ بالا دونوں منصوبے فنی تعلیم و تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرینگے۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا بنیادی وژن ہے کہ صوبے میں غربت کے خاتمے اور معاشی استحکام کیلئے نوجوانوں کی تربیت اور روزگار پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے ۔ خیبرپختونخوا حکومت نوجوانوں کی فنی تربیت اور روزگارکی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے مفت فنی تربیت کا اہتمام کیا ہے وزیراعلیٰ نے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع میں چار ہزار طلبا کیلئے مفت فنی تربیت فراہم کرنے کی منظوری دی جس کو مارچ 2019 میں باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فنی تربیت مارکیٹ کی ضرورت ہے جس کیلئے ویمن وکیشنل ٹریننگ سنٹر میں تربیتی سہولیات کو توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان پروگرامز کو مزید وسعت دینے کیلئے صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کریگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مذکورہ منصوبے روزگار کے مسئلے کو حل کرنے میں معاون ہوں گے ، لوگ سرکاری نوکری کی درخواست کرتے ہیں حالانکہ سرکاری شعبے میں نوکریا ں بے روزگاری کے خاتمے کیلئے کافی نہیں ہوتی اس لئے صوبائی حکومت نجی شعبے کو اٹھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ توانائی بحران کو مد نظر رکھ کر شمسی پیداوار بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے توانائی بحران پر قا بو پانے کیلئے شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ ملنا چاہئے۔ خیبرپختونخوا میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی بہت صلاحیت موجود ہے۔جس کو اگر بروئے کار لایا جائے تو نہ صرف توانائی کی قلت پر قابوپایا جاسکتا ہے بلکہ ماحول کی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سنٹر آف رینیوبل انرجی منصوبے کا افتتاح خوش آئند ہے۔وزیراعلیٰ نے وِش انٹرنیشنل اورGIZ کا فنی تعلیم و تربیت کے میدان میں صوبائی حکومت کا ساتھ دینے پرشکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وِش انٹرنیشنل اور GIZ مزید اچھے منصوبوں کے ساتھ فنی تعلیم و تربیت میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔وزیراعلیٰ نے صوبے کے صنعتکاروں اور تجارت پیشہ برادری سے درخواست کی کہ ٹیوٹا کے ساتھ اپنے روابط مضبوط تر کریں تاکہ فنی تربیت مزید مؤثر ہو اور فارغ شدہ طلباء وطالبات کی مارکیٹ میں کھپت آسان ہوسکے۔ ٹیوٹا کی انتظامیہ بھی ڈونرز اور صنعتکاروں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرے تاکہ فنی تعلیم و تربیت کا دائرہ کار وسیع ہو اور صوبے میں بے روزگاری اور غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کے پی ٹیوٹا کو مستحکم اور مزید مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھائے گی اور ادارے کو ہر ممکن تعاون فراہم کریگی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صوبے میں شجرکاری مہم 2019 کے فروغ کیلئے پودا بھی لگایا۔

Facebook Comments