69

نئی حج پالیسی پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)وفاقی حکومت کی جانب سے حج سبسڈی کے خاتمے اورحج اخراجات میں اضافے کوپشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے رٹ پٹیشن میں حج پالیسی 2019ء کو معطل کرکے عازمین حج کے لئے سبسڈی بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ جبکہ عدالت عالیہ پشاور کے جسٹس سید افسر شاہ اور جسٹس محمدایوب خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے وزارت حج و مذہبی امورٗ وفاقی حکومت اور وزارت خزانہ سے جواب مانگ لیا اورسماعت12مارچ تک ملتوی کردی عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے نورعالم خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرحاجی شمشیرکی رٹ پٹیشن کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ وفاقی حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کیاہے جس میں شہریوں کو حج کیلئے مزید سہولیات کی فراہمی کی بجائے ان سے سبسڈی واپس لے لی ہے جس کے باعث حج اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ تمام شہریوں کوآئین کے آرٹیکل31نے یہ حق دیاہے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گذاریں اورحکومت کافرض ہے کہ وہ اس مقصدکے لئے سہولیات فراہم کرے ۔ حکومت کا یہ کہناغلط ہے کہ ڈالرکی قیمت میں اضافہ ہواہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت برقرارہے اورحکومت نے پاکستانی کرنسی کی قیمت کم کی ہے اورحکومت نے سبسڈی واپس لی ہے جوکئی سالوں سے چلی آرہی تھی اس طرح حکومت نے متوسط طبقے پرحج کاراستہ بھی بند کردیاہے لہذاحج پالیسی 2019ء کوکالعدم قرار دیا جائے اورعوام کوریلیف دینے کیلئے رٹ کی حتمی سماعت تک حج پالیسی معطل کی جائے اورسبسڈی بحال کی جائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد خزانہ ٗ حج و مذہبی امورکی وزارتوں اوروفاقی حکومت کونوٹس جاری کرتے ہوئے12مارچ تک جواب مانگ لیاہے ۔

Facebook Comments