حکومت چھ ماہ میں سوائے وعدوں اور نعروں کے کچھ نہیں کر سکی ۔ حکومت کا سب سے پہلا وعدہ یہ تھاکہ وہ پاکستان کومدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنائے گی .سینیٹر مشتاق احمد خان | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / حکومت چھ ماہ میں سوائے وعدوں اور نعروں کے کچھ نہیں کر سکی ۔ حکومت کا سب سے پہلا وعدہ یہ تھاکہ وہ پاکستان کومدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنائے گی .سینیٹر مشتاق احمد خان

حکومت چھ ماہ میں سوائے وعدوں اور نعروں کے کچھ نہیں کر سکی ۔ حکومت کا سب سے پہلا وعدہ یہ تھاکہ وہ پاکستان کومدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنائے گی .سینیٹر مشتاق احمد خان

پشاور (آوازچترال رپورٹ)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اندھیر نگری اور چوپٹ راج سے قوم بے زارہوچکی ہے، جس طرح سابقہ حکومتوں نے ملک و قوم کا وقت ضائع کیا ، اسی طرح یہ حکومت چھ ماہ میں سوائے وعدوں اور نعروں کے کچھ نہیں کر سکی ۔ حکومت کا سب سے پہلا وعدہ یہ تھاکہ وہ پاکستان کومدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنائے گی مگر اب تک حکومت نے اس طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھایا ۔ حکومت اور اپوزیشن ذاتی مفادات کے لئے تو ایک ہو جاتے ہیں لیکن اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف اپوزیشن بھی حکومت کی ہمنوا بن جاتی ہے ۔ قرضوں اور خیرات سے ملک نہیں چلتے ۔ معاشی اصلاحاتی پیکج کے نام پر غریبوں کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست تسلیم کرنا پڑی اور اس کا کریڈٹ افغانستان کے عوام کو جاتاہے جنہوں نے دنیا کی تین سپر پاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی امراء اضلاع، سیکرٹری جنرلز اور ناظمین تربیت کے دو روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ سے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع ، نائب امیر مولانا محمد اسماعیل، مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت ﷺ پاکستان کے صدر مفتی محمد امتیاز مروت نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امراء ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان، نورالحق، مولانا تسلیم اقبال ، محبوب الٰہی اور اضلاع کے امراء ، سیکرٹری جنرلز اور ناظمین تربیت بڑی تعداد میں شریک تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدینہ کی طرز کی ریاست کا اعلان کر کے عمران خان حکومت نے لندن ، واشنگٹن اور دہلی کی طرز کا ماڈل اختیار کرلیاہے ۔ ریاست مدینہ کے نظام کا تقاضا ہے کہ تہذیب و اخلاق ، صلوۃ و زکوۃ ، سود کا خاتمہ، اپنے لوگوں پر اعتماد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کو مدینہ کی طرز پر اسلامی و فلاحی ریاست دینی و نظریاتی جماعتیں ہی بناسکتی ہیں ۔ سیکولر سیاسی جماعتیں عوام کو دھوکہ دینے کے لیے تویہ پر فریب نعرہ لگا سکتی ہیں ، عملاً وہ اس کے خلاف ہی ہیں ۔ اگر پاکستان واقعی ایک اسلامی ملک بنتا ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ پکڑے جائیں گے ، جنہوں نے سال ہا سال تک پاکستان کے نظریے سے بے وفائی کرتے ہوئے اس کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپٹ اور بددیانت ٹولہ پاکستان کے عوا م کی اسلام سے محبت اور اسلامی نظام حکومت اور خلافت کی آرزوؤں کو دیکھتے ہوئے مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کے نعرے لگانے پر مجبور ہوا تاکہ دینی جماعتوں کا راستہ روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دینی جماعتوں کے نظریاتی کارکن اقامت دین کی جدوجہد کاکما حقہ حصہ نہیں بنیں گے ، ملک میں اسلامی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔دینی جماعتوں کو سیکولر اور لبرل جماعتوں اور سوچ کے لوگوں کے مقابلے میں کھل کر سامنے آنا اور غلبہ دین کا فرض نبھانا ہوگا ۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی ، ان کو اسلامی طرز حکومت اور عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں لیکن دینی جماعتیں اور ان کے کارکنان ملک کی اسلامی شناخت کے خلاف سازشوں کو برداشت نہیں کر سکتے ۔

error: Content is protected !!