حج اور عمرے میں مشکلات..خلیل احمد نینی تا ل والا | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / حج اور عمرے میں مشکلات..خلیل احمد نینی تا ل والا

حج اور عمرے میں مشکلات..خلیل احمد نینی تا ل والا

آج سے 48سال پہلے 1972ء میں یورپ سے واپسی پر عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ لندن میں سعودی سفارتخانے سے ویزہ حاصل کیا۔ اس زمانے میں پورے یورپی ممالک بشمول برطانیہ، جرمنی، فرانس، سوئیڈن، ڈنمارک غرض ہر بڑے ملک میں علاوہ سوئٹزر لینڈ، کسی ویزے کی ضرورت پاکستانی پاسپورٹ کے لئے نہیں ہوتی تھی۔ 3دن تک جدہ اور مکہ میں قیام کیا، ایک دن مدینہ میں حاضری دی اور واپس پاکستان لوٹ آئے۔ دل کو تشنگی رہی کہ اتنا کم عرصہ کیوں گزارا، چنانچہ اگلے سال 1973ء میں اللہ تعالیٰ نے حج کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ سردیوں کا حج تھا کوئی خاص موسمی دشواری پیش نہیں آئی۔ 45روز کا دورانیہ تھا، مکہ میں حرم سے چند فرلانگ پر مقامی باشندوں کے چھوٹے چھوٹے گھر ہوتے تھے، وہی لوگ حج کے دنوں میں کمرے کرائے پر دے دیتے تھے۔ صرف 400ریال میں حج، عمرہ، منیٰ، مزدلفہ میں قیام معلم کے توسط سے کیا۔ سادہ ترین حج ہوتا تھا، کچے پکے مکانات مکہ اور مدینہ میں صرف حرم کے آس پاس ہوتے تھے۔ وہ بھی 2تین میل کے اندر ہی شروع ہو کر ختم ہو جاتے تھے۔ سڑکیں بھی کچی پکی اور صرف آنے جانے کی حد تک چوڑی ہوتی تھیں۔ حج کا سیزن بھی سعودیوں کی کمائی کا ذریعہ تھا، حرم بھی بہت مختصر، مسجد نبویﷺ بھی بہت پرانی حدود تک ہوتی تھی۔ پھر سعودی عرب میں تیل کے ذخائر کا پیسہ آیا، حاجیوں کی تعداد بھی بڑھی۔ الغرض 20سال تک دوبارہ سعودی عرب آنے کی سعادت نہ ہوئی۔ پھر 1992ء میں دوبارہ جانا ہوا تو شہروں کی حالتیں بدل چکی تھیں۔ ہر طرف ترقی ہی ترقی تھی، حدودِ حرم میں بھی توسیع ہو رہی تھی۔

اب سارا سال سعودی عرب میں پوری دنیا سے مسلمان حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے آ جا رہے تھے۔ معمولی ہوٹلوں کی جگہ بڑے بڑے 5 اسٹار ہوٹلز بنتے گئے البتہ چھوٹے چھوٹے ہوٹلز بھی ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ راقم 1992ء سے پچھلے سال یعنی 2018ء تک الحمدللہ ہر سال عمرے کی سعادت سے مستفیض ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت نے ہر دور میں خصوصاً شاہ فہد مرحوم کے دور میں حرمین شریفین کی بہت توسیع کی۔ موجودہ شاہ عبداللہ نے تو دونوں حرمین کی توسیع کے ساتھ ساتھ سڑک کے ساتھ ریلوے ٹریک بناکر حاجیوں کے لئے بڑی خدمات انجام دیں۔ یہاں تک تو عوام کو بہت سہولتیں مل گئیں مگر ایک دوسرے اہم پہلو پر میں حرمین شریفین انتظامیہ کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ اب حج اور عمرہ ایک عام مسلمان کی دسترس سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے، خصوصاً رمضان المبارک اور حج کے ایام میں ہوٹلوں کے کرائے اب 10دس گنا تک وصول کئے جانے لگے ہیں۔ ٹیکسی اور بسوں کے کرائے بھی بڑھتے جارہے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء حرم کے اطراف میں شہر کی بہ نسبت دگنی اور چوگنی قیمتوں میں فروخت کر کے حج اور عمرہ کرنے والوں کی جیبوں پر بہت افسوسناک حد تک بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر حکومت پہلے کی طرح قیمتوں پر کنٹرول کرے تو حج اور عمرہ کرنے والوں کی دعائیں سمیٹ سکتی ہے۔مقامی انتظامیہ پہلے ان تمام چیزوں کا خصوصی خیال رکھتی تھی جس کی وجہ سے دکاندار بھی پابند تھے۔ اب تمام کنٹرول منافع خوروں کے ہاتھ میں ہے۔ چند سال قبل پاکستان میں تو عمرہ، ویزہ 20بیس ہزار سے لیکر 50پچاس ہزار تک ٹریول ایجنٹ صاحبان نے سفارتخانے والوں کے تعاون سے فروخت کیا۔ اس کی وجہ خود سعودی حکومت نے آخری وقت میں زائرین کی تعداد بوجہ مجبوری کم کر دی تھی اس سے فائدہ اٹھایا گیا اور وزٹ ویزے بھی ماہ رمضان میں 50پچاس ہزار روپے لیکر فروخت ہوئے۔ میری سعودی حکومت سے گزارش ہے کہ ان چیزوں پر نظر رکھیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ٹریول ایجنٹس اس سے بھی آگے بڑھ کر عوام کو لوٹیں گے۔ ویسے بھی اب حج لاکھوں روپے کی کمائی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں دیگر مذاہب کے حکام ایسے مواقع پر خصوصی پروازیں سستے داموں اپنی عوام کو فراہم کرتے ہیں مگر ہم مسلمان ممالک خصوصیت کے ساتھ حج اور عمرے کے مواقع پر ٹکٹوں کی قیمتوں کو دگنے تگنے داموں میں فروخت کر کے عوام کو لوٹتے ہیں۔ اگر سعودی حکومت اور متعلقہ حکومتیں مل کر اس مہنگائی کو اور لوٹنے والے اداروں کو روکنا چاہیں تو وہ اس میں کامیاب ہو کر مسلمانوں کی دعائیں لے سکتی ہیں۔ جس طرح سعودی حکومت نے حال ہی میں معذوروں کے لئے حرم میں خصوصی سہولتیں دی ہیں اگر اس کے ساتھ ساتھ خود غرضوں سے مسلمانوں کو مہنگائی کی آڑ میں لوٹنے والوں سے بچانے کی کوششیں کی جائیں تو بار آور ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ علمائے کرام نے بھی اس دوران مہنگے ہوٹلوں کے کرائے، مہنگائی اور لوٹنے کے تمام ذرائع کو فتویٰ دے کر حرام قرار دیا ہے اور اس کے علاوہ اقاموں کی آڑ میں غریب مزدوروں سے منہ مانگا معاوضہ بھی حرام قرار دیا ہے تو برادر حکومت کو چاہئے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ویزہ فیس وصول کرے، زبردستی کی یکطرفہ پارٹنر شپ بغیر پیسے اور محنت کے اقاموں کی فروخت کو روک کر مزدوروں سے ہمدردی کا ثبوت دے۔ اب حج کا سیزن شروع ہونے والا ہے، اس کی پیش بندی کی ابھی سے ضرورت ہے۔2013ء میں پی پی پی کے دور میں حج 2لاکھ 93ہزار میں ہوتا تھا پھر نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس نے 2لاکھ 64ہزار کر دیئے۔ بعد میں 2لاکھ 72ہزار کئے اور آخری سال 2لاکھ 80ہزار کر دیئے۔ عمران خان کی حکومت آئی تو ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا گیا لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب حج اور عمرے کے اخراجات کم ہو جائیں گے اور غریب یہ سعادت حاصل کر سکیں گے مگر کیا کیجئے کہ عمران خان صاحب نے بھی 2لاکھ 80ہزار سے سرکاری خرچ بغیر قربانی کے 4لاکھ 37ہزار اور قربانی کے ساتھ 4لاکھ 47ہزار روپے کا کر دیا۔ یعنی 1لاکھ 57ہزار روپے اضافہ کر دیا گیا۔ فکر نہ کیجئے مدینے کی ریاست میں سکھ بغیر ویزے کے کرتارپور آ سکتے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ اضافہ واپس لے اور سبسڈی بحال کرے تاکہ غریب آدمی بھی حج کر سکے۔ بھارت 30فیصد، ایران50 فیصد، انڈونیشیا صرف کرایہ اور بنگلہ دیش 20فیصد رعایت دیتا ہے جبکہ پاکستان 7ماہ پہلے رقم لے کر سود بھی کماتا ہے

error: Content is protected !!