حکمرانوں کو آبادی میں کمی کے بجائے آبادی میں اضافے کے ایجنڈے پر چلنا چاہیے۔سینیٹر سراج الحق | Awaz-e-Chitral

Breaking News

Home / تازہ ترین / حکمرانوں کو آبادی میں کمی کے بجائے آبادی میں اضافے کے ایجنڈے پر چلنا چاہیے۔سینیٹر سراج الحق

حکمرانوں کو آبادی میں کمی کے بجائے آبادی میں اضافے کے ایجنڈے پر چلنا چاہیے۔سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد(آوازچترال نیوز) جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ’’ کنٹرول آبادی ، مسائل کا حل یا خود ایک مسئلہ ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار میں شریک ملک کے نامور علمائے کرام ، دانشوروں ، سیاسی قائدین اور خواتین راہنماؤں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنالیا اور کرپشن اور بے روزگاری کو ختم کردیا جائے تو آبادی میں اضافہ باعث رحمت ہوگا ، زحمت نہیں ۔ آبادی ہمیشہ سے دنیا میں قوت و طاقت اور معاشی و سیاسی استحکام کاذریعہ سمجھی گئی ہے اور آج بھی مغرب اور یورپ میں زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کو وظائف، انعامات اور اعزازات سے نوازا جارہاہے ۔ آبادی میں کمی کا ایجنڈا اسلام کا نہیں ، اسلام اور مسلم دشمن قوتوں کا ہے ۔ حکمرانوں کو آبادی میں کمی کے بجائے آبادی میں اضافے کے ایجنڈے پر چلنا چاہیے اور ملک سے کرپشن کے خاتمہ ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کی طرف دھیان دینا ہوگا۔سیمینار کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کی ۔ اجلاس میں لیاقت بلوچ ، میاں محمد اسلم ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، اسداللہ بھٹو ، صاحبزادہ طارق اللہ، ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی، ڈاکٹر حماد لکھوی ، سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود ، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر کوثر فردوس ، رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی ، ڈاکٹر شگفتہ ، عائشہ سید ، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ ، عطاء الرحمن ، علامہ ثاقب اکبر ،سپریم کورٹ کے سینئر وکیل افضل خان ، سینئر کالم نویس عامر خاکوانی ، آصف محمود و دیگر نے خطاب کیا ۔ سیمینار کا مشترکہ اعلامیہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے پیش کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ کنٹرول آباد ی ایک مفاد پرستی پر مشتمل عالمی دہشتگردوں کا نظریہ ہے ۔ مغرب خوفزدہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور آنے والے وقت میں دنیا پر وہی قوم حکومت کرے گی جس کی آبادی زیادہ ہوگی ۔ ایک طرف ریاست کہتی ہے کہ انسان کے انفرادی معاملات میں دخل نہ دو ، دوسری طرف اسے بچوں کی پیدائش سے روکتی ہے ۔ برتھ کنٹرول کا اصل مقصد مسلمانوں کی آبادی کم کرنا ہے ۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان ترقی کرے تو اسے ساٹھ فیصد سے زائد بنجر پڑی زمین کو قابل کاشت بناناہوگا ۔ پاکستان کے 95 فیصد وسائل دو فیصد اشرافیہ کے پاس ہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے ۔ ملک کا بنیادی مسئلہ انصاف ، تعلیم اور علاج کی سہولتوں کی عدم فراہمی ، ملاوٹ اور کرپشن ہے ۔یہاں ریاست معصوم بچوں اور لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیتی ہے ۔ تعلیم اور علاج کی فراہمی حکومت کے کسی پروگرام میں نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے احاطہ میں آبادی پر کنٹرول کے لیے سیمینار کیا تھا ، ہمیں بھی موقع دیں تاکہ ان کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کیا جاسکے ۔ ہم حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ غیر ترقیاتی اخراجات کم کرو ، سادگی اختیار کرو اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرلو تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے مگر حکمران عالمی استعمار کے خوف سے اس طرف قدم نہیں اٹھاتے اور آبادی زیادہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں ۔

error: Content is protected !!