اسد قیصر او ر مشتاق غنی کی نااہلی کیلئے رٹ دائر | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / اسد قیصر او ر مشتاق غنی کی نااہلی کیلئے رٹ دائر

اسد قیصر او ر مشتاق غنی کی نااہلی کیلئے رٹ دائر

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)سپیکر قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی کی نا اہلی کے لئے پشاور ہائیکورٹ میڈ رٹ دائر کی گئی ہے رٹ پیٹشن علی عظیم ایڈوکیٹ نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق اسپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی اور موجودہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی،صوبائی وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی اور رکن صوبائی اسمبلی رنگیز خان نے عدالتی احکامات کے باوجود سیکرٹری صوبائی اسمبلی نصراللہ کو انکے عہدے سے نہیں ہٹایا حالانکہ سروسز ٹریبونل اس کو عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر چکی ہے۔
رٹ میں یہ بھی موقف اپنایا گیا ہے کہ نصراللہ کی تقرری ائین اور قانون کے منافی کی گئی ہے جسے سروسز ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا اور سروسز ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یہ تقرری غیر قانونی ہے لیہذا جو سب سے سینئر ایڈیشنل سیکرٹری ہوگا وہ ہی سیکرٹری کے عہدے کے لئے اہل ہے مگر عدالتی احکامات کے باوجود موجودہ اسپیکر مشتاق غنی نے نہ عدالتی احکامات پر عمل درامد کیا اور نہ ہی نصراللہ کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا اسکے ساتھ ساتھ سروسز ٹریبونل کے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور نصراللہ کو غیر قانونی طریقے سے سیکرٹری صوبائی اسمبلی تعینات کیا جو کہ اس کے حلف کی بھی خلاف ورزی ہے۔
رٹ پٹیشن میں صوبائی وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی اور رکن صوبائی اسمبلی رنگیز خان کی بھی نا اہلی کی درخواست کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں ممبران ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے ارکان تھے اور باقاعدہ سے اجلاسوں میں شرکت کر رہے تھے رٹ کے مطابق سروسز ٹریبونل نے اسپیشل سیکرٹری وقار شاہ اور ڈائریکٹر ائی ٹی عطااللہ کی تقرری کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا تاہم موجود اسپیکر نے جان بوجھ کر اس حوالے سے اعلامیہ 17 دن بعد تاخیر سے جاری کیا جس کا مقصد تھا کہ یہ ملازمین اپنی تنخواہ لیں جوکہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں اتا ہے لیپذہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی، صوبائی وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی اور رکن صوبائی اسمبلی رنگیز خان کو نا اہل قرار دیا جائے رٹ میں صوبائی اسمبلی کے دو افسران کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کی استدعا کی گئی ہے

error: Content is protected !!