48

عوام نے نئی حکومت سے جو توقعات لگا رکھی تھیں ، وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ حکومت پانچ ماہ کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق

راولپنڈی(آوازچترال نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ حکومت میں وہی لوگ ہیں جو اس سے قبل حکمران رہنے والی جماعتوں اور مشرف کی کابینہ میں شامل رہے ہیں ۔ عوام نے نئی حکومت سے جو توقعات لگا رکھی تھیں ، وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ حکومت پانچ ماہ کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے ۔ حکومت معاشی اصلاحات کے بجائے باہر سے خیرات اکٹھی کرنے پر لگی ہوئی ہے اور حکمران خیرات ملنے پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ سود ختم کر کے ملکی معیشت کو بہتر بنایا جاسکتاہے ۔ ملک کو موجودہ مسائل کی دلدل سے جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت ہی نکال سکتی ہے ۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے راولپنڈی میں جماعت اسلامی شمالی پنجاب کی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت حکمران رہنے والی سابقہ پارٹیوں کا ہی مجموعہ ہے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی ناکامی کے بعد ان پارٹیوں کے لوگوں کو اکٹھا کر کے نئی حکومت بنائی گئی ہے ۔ جولوگ سابقہ حکومتوں میں کچھ نہیں کر سکے ، ان سے کوئی امید لگانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر ان لوگوں میں کچھ اہلیت ہوتی تو سابقہ حکومتیں ناکامی سے دوچار نہ ہوتیں ۔انہوں نے کہاکہ عوام نے نئی حکومت سے ریلیف کی امید لگا رکھی تھی مگر اس نے لوگوں کو نئی مشکل اور پریشانی میں ڈال دیاہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم جس تبدیلی کے انتظار میں ہے وہ انقلاب صرف جماعت اسلامی لاسکتی ہے ۔ملک و قوم کے مسائل کا حل نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سود کی موجودگی میں معیشت ترقی نہیں کرسکتی ۔ حکمران خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کرنے کی بجائے دوست ممالک سے خیرات اور آئی ایم ایف سے قرضے لے کر معیشت کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ اصل خرابی کی جڑ یہی سوچ ہے مگر حکمران اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب شریعت کا نظام آئے گا تو پاکستان خود بخود بدل جائے گا ۔ سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیاہے ۔ عوامی رابطے سے سیاسی جدوجہد کو تیز کریں گے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھر پور طریقے سے شرکت کریں گے ۔

Facebook Comments