58

خاصہ دارفورس کاپولیس میں ضم نہ کرنے پردھرنے کااعلان

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)قبائلی اضلاع کے خاصہ دارفورس نے قبائلی اضلاع کا انضمام کے بعد خاصہ دار فورس کوخیبرپختونخواپولیس میں ضم کرنے کامطالبہ کیامطالبات نہ ماننے کی صورت میں اسلام آباددھرنادینے کااعلان کیاگزشتہ روز پشاور پریس کلب میں فاٹاخاصہ دارفورس کے نمائندہ تنظیم آل فاٹا خاصہ دار فورس صدرکے سید جلال وزیر نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں خاصہ دار فورس کی 100سالہ خدمات ہیں۔ خاصہ دار فورس فاٹا انضمام کے مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن انضمام کے بعد ہمارے مستقبل کو داؤپر لگایا گیا ہے گزشتہ سال سے ہمارے فورس کے مختلف اہلکاروں کو جبراً ریٹائرڈاورہمیں نوکریوں سے فارغ کیا جارہاہے جسکی وجہ سے بے چینی بڑھ گئی ہے جو ہمارے ساتھ ناانصافی بھی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں لیویز اور خاصہ دار فورس نے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں لیکن ان کو صلہ دینے کے بجائے برطرف کیاجارہا ہیں وزیر اعظم عمران خان خاصہ دار فورس کیساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے۔ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 30ہزارخاصہ دار فورس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خاصہ دار فورس کوپہلے پولیس میں ضم کی جائے اور بعد میں مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ ترخاصہ دار اہلکاروں کو بلاجواز اور وقت سے پہلے جبراًریٹائر کررہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی تنخواہیں بند کردی ہیں اس کو فوری طورپرجاری کی جائے انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد ہمارے سنیارٹی متاثر ہوئی ہیں اور اسے پولیس میں کنورٹ کی جائے ۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا،گورنراوردیگرمتعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خاصہ دارفورس اہلکاروں کووعدوں کے مطابق پولیس میں تبدیل کیاجائے اورپولیس کی تمام مراعات دی جائیں انہوں نے دھمکی دی کہ اگرہمارے مطالبات پورے نہ کئے گئے توقبائلی اضلاع سمیت اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔

Facebook Comments