60

لوگ تبدیلی کیلئے ووٹ دیتے ہیں مگرپہلے سے بھی زیادہ نااہل لوگ مسلط ہوجاتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق

لاہور(آوازچترال نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحقنے نئے چیف جسٹس کی قومی ڈائیلاگ کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونے چاہئیں۔لوگ تبدیلی کیلئے ووٹ دیتے ہیں مگرپہلے سے بھی زیادہ نااہل لوگ مسلط ہوجاتے ہیں۔ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں میں نام کا فرق ہے کام کا نہیں ۔سابقہ حکمران جتنے قرضے پانچ سال میں لیتے تھے موجودہ حکومت نے چھ ماہ میں لے لئے ہیں ۔ملک پر فی منٹ ایک کروڑ تین لاکھ اور فی گھنٹہ 62کروڑ کا قرضہ چڑھ رہا ہے ۔جس سے ہماری آنے والی نسلیں بھی قرضوں کے کوہ ہمالیہ کے نیچے دب گئی ہیں ۔معاشی کشتی ڈوبنے والی ہے ۔چند لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بعد واپس لینے کا اعلان ثابت کرتا ہے کہ حکومت ایکشن پہلے لیتی ہے سوچتی بعد میں ہے ۔ پانامہ کیس میں سابق وزیر اعظم کے سوا کسی کونہیں پوچھا گیا۔احتساب کا نعرہ لگانے والوں نے احتساب کے پورے عمل کو مشکوک کردیا ہے ۔قوم سیاستدانوں کی لفظی لڑائی سے تنگ آچکی ہے ۔سابقہ اور نئی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں مگر شراب پر پابندی کے خلاف اور آسیہ کی رہائی کیلئے سب ایک ہوجاتے ہیں ۔ حکومت چھ ماہ میں بھی ٹریک پر نہیں آسکی ۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی حکومتی کارکردگی افسوسناک ہے ۔چھ ماہ کے دوران کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی ۔ہم سیاسی نہیں حقیقی احتساب کے حق میں ہیں۔حقیقی احتساب ہوگیا تو ملک میں نئی جیلیں بنوانی پڑیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نئی حکومت سے لوگوں کو جو توقعات تھیں وہ مایوسی اور ناامیدی میں بدل گئی ہیں ۔اقتدا رمیں آنے سے پہلے حکمرانوں نے عوام کو بڑے سبز باغ دکھائے اور عام آدمی کی خوشحالی کے نعرے لگائے تھے۔لوگوں کو ترقی اور خوشحالی کے جو سہانے خواب دکھائے گئے تھے وہ چکناچور ہوچکے ہیں اور ان کی تعبیرمہنگائی اوربے روز گاری میں اضافے کی شکل میں سامنے آرہی ہے ۔گالیوں اور بدزبانی کا کلچرعام ہوا ہے ۔ سود اور قرضوں کی وجہ سے معیشت زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ حکمران دھڑا دھڑ قرضے لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سات کروڑ 77لاکھ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔دوکروڑ پینتیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار سے محروم اور ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چہرے بدل بدل کرآنے والے حکمران ہی غربت پسماندگی اور جہالت کے اندھیروں کے اصل مجرم ہیں ۔جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان اور احتساب سب کا تحریک جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی قوم کو ان مجرموں کے خلاف متحد اور منظم کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے نظام مصطفی ﷺ کا نفاذہی واحد راستہ ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں ہماری ناکامی کی وجوہات سے قوم اچھی طرح آگاہ ہے ،ہم نے الیکشن ہارا ہے حوصلہ نہیں ہارا اور نہ اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کیا ہے۔ قوم کرپٹ ،بدیانت اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی غلام قیادت سے نجات اور ملک میں شاندار اسلامی انقلاب کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں اپنے جھنڈے اور نشان پر الیکشن میں حصہ لے گی۔

Facebook Comments