45

پن بجلی منافع ٗ وفاق سے فوری ادائیگی کا مطالبہ

پشاور (آوازچترال رپورٹ)۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کی مالی ضروریات کے پیش نظر پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے شیئر اور بقایا جات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے جو تقریبا65 ارب روپے بنتے ہیں۔انہوں نے نئے ضم شدہ اضلاع میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے فنڈز کی جلد فراہمی یقینی بنانے کیلئے معاملے کو وفاقی سطح پر اُٹھانے کا عندیہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں بزنس کو آسان ترین بنانے ، نئے اضلاع کی ترقی ، مالی بنیاد کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ متعدد اقدامات کر رہی ہے ۔ ترقی اور اصلاح کے اس مجموعی عمل میں وفاقی حکومت سے وابستہ بنیادی نوعیت کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ بارڈر پر مسائل حل کرنے اور وہاں کاروباری سرگرمیوں کوسہولت دینے سے تجارت و صنعت سمیت سیاحت کو بھی فروغ ملے گا جو صوبے اور نئے قبائلی اضلاع کے دیر پا مفاد میں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد سمیت سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان، وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا ،صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش ، مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش متعلقہ محکمو ں کے انتظامی سیکرٹریزاور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صوبے میں بزنس کو آسان بنانے ، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے حصے اور بقایا جات کی ادائیگی ، ضم شدہ اضلاع میں تعمیر نو اور تجارتی سرگرمیوں کے احیاء، داسو ڈیم کیلئے زمین کے حصول ، لینڈ کمپیوٹرائزیشن ، ٹیکس میں اصلاحات ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ، بجلی چوری کے سدباب اور صوبے کی معاشی بنیاد بہتر بنانے کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی اجلاس میں صوبے کی مالی حالت اور اس سلسلے میں مطلوبہ اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاوزیراعلیٰ نے کہا کہ اُنکی حکومت عوام کی ترقی خوشحالی کے مجموعی اہداف کے حصول کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق نظر آنے والے اقدامات کر رہی ہے ۔
صوبے کی مالی بنیاد کو مستحکم بنانے کا عمل بھی جاری ہے تاہم صوبے کی فوری مالی ضروریا ت کا تقاضہ ہے کہ صوبے کو بجلی کے خالص منافع میں شئیر بمعہ بقایا جات کی فوری ادائیگی کی جائے ،ارباب شہزاد نے بقایاجات کی ادائیگی کے مسئلے کو وفاقی سطح پرحل کرنے کی یقین دہانی کرائی اجلاس میں نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے فنڈز کی جلد فراہمی کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا گیا اور عندیہ دیا گیا کہ مسئلے کو وفاقی سطح پر اُٹھایا جائے گا،اجلاس میں طورخم ، غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مسائل حل کرنے ، ٹریڈنگ روٹس پر چوکیاں ختم کرنے کی تجاویزپیش کی گئی اور غیر ملکی تاجروں / سرمایہ کاروں کو بینک اکاونٹ کھولنے کے اُصولی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں آئندہ ہفتے وفاقی سطح پر اعلیٰ سطح اجلاس بلانے کا فیصلہ کیاگیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کومزید سہل بنانے اور وہاں پر درپیش مسائل حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کیلئے بارڈر زپر سہولیا ت کی فراہمی سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔اجلاس میں داسو ڈیم کیلئے اراضی کے حصول کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔
اور عندیہ دیا گیا کہ اس سلسے میں آئندہ ہفتے وفاقی سطح پر اجلاس بلا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ داسو ڈیم بہترین ہائیڈل پاور پراجیکٹ ہو گا جس سے 4 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی ،اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں بزنس آسان بنانے کیلئے بزنس ای رجسٹریشن اور ای پیمنٹس شروع کرنے جارہے ہیں ، لینڈ کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کو پورے صوبے تک توسیع دینے کی ہدایت کی جا چکی ہے، کمرشل تنازعات کے تیزرفتار حل کیلئے مخصوص ججز کی تعیناتی اور ججوں کی تعداد بڑھانے کا پلان ہے، اس مقصدکے لئے وفاقی حکومت سے وابستہ بنیادی نوعیت کے مسائل حل کرنے کی فوری ضرورت ہے ، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر نظر ثانی اور اخراجات کو حقیقت پسندانہ بنایا جا رہا ہے ، ہیومین ریسورس آڈٹ اور نان سیلری اخراجات کم کرکے تین سے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے، اجلاس میں پنشن رولز پر نظر ثانی کی تجویز بھی پیش کی گئی ،اس عمل سے اربوں روپے کی بچت متوقع ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں پنشن کی ڈیجیٹا ئزیشین کی جاچکی ہے، ٹیکس ۔ای پیمنٹس کے ذریعے ایک پلیٹ فارم پر ادائیگی یقینی بنائی جارہی ہے ، اس موقع پر صوبے میں ٹوکن ٹیکس ختم کرکے سہولت کیلئے متبادل طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی تجویز پیش کی گئی ، اجلاس میں صوبے میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت پرزور دیا گیا اور بجلی صارفین سے ریکور شدہ وسائل صوبے کے بجلی کے نظام کوبہتر کرنے پر خرچ کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا اور اس سلسلے میں طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
اجلاس میں صوبے میں بجلی چوری کے خلاف کامیاب مہم کو سراہا گیا ، بجلی چوری کے نقصانات میں چار فیصد کمی آئی ہے ، ریونیو جنریشن کو مزید بہتر کرنے کیلئے کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ۔ اس موقع پر صوبے کو این ٹی ڈی سی ، او جی ڈی سی ایل اور دیگر اداروں میں نمائندگی دینے کیلئے آئندہ ہفتے اجلاس کا عندیہ دیا گیا ، اجلاس کو بتایا گیا کہ پیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی جارہی ہے جس سے انتظامی مسائل حل کرنے میں سرعت پیدا ہو گی۔

Facebook Comments