61

ہیلی کاپٹر کیس ختم کرنا چاہئے ،نیب وزیر اعظم پاکستان کی توہین کررہاہے :وزیر اطلاعات فواد چودھری

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ عمران خان کیخلاف ہیلی کاپٹر کیس ختم ہونا چاہئے ، نیب نے وزیر اعظم پاکستان کی توہین کر رہاہے ، گائے کھلنے پر ایک وزیر نے استعفیٰ دیدیا اور کیا کریں؟اصولی طور پر فوجی عدالتیں نہیں ہونی چاہئے تھی ۔

جیونیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ نیب نے ہیلی کاپٹر کیس میں وزیر اعظم اورپاکستان کی توہین کی، نیب کو وزیر اعظم کے خلاف کیس ختم کرناچاہئے ، نیب کی جانب سے یہ کیس رکھنا وزیر اعظم اور پاکستان کی توہین ہے ، اس کیس میں عمران خان پر باقاعدہ الزام نہیں لگایا گیا ، نیب کو وزیر اعظم کے خلاف یہ کیس ختم کرنا چاہئے ، وزیر اعظم پر بنائے گئے کیس پر دنیا ہنس رہی ہے ، نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کی توہین اس لئے نہیں کہ ان پر درست مقدمات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گائے کھلنے پر ایک وزیر نے استعفیٰ دیدیا اور کیا کریں؟ اعظم سواتی کیس کو نوازشریف اور ماڈل ٹاﺅن کیسز کے ساتھ ملانا زیادتی ہے ، ماڈل ٹاﺅن میں ظلم کرنے والوں کو جیل میں ہونا چاہئے ، علیمہ خان کا کاٹن بر آمد کرنے کا کاروبار ہے اور وہ یہ بیس سال سے کررہی ہیں، علیمہ خان نے جن پیسوں سے وہ اپارٹمنٹ خریدا تھا ، اس کی بینکنگ ٹرانزکشنز پیش کی ہیں لیکن جب یہ مزاج بنا لیا جائے کہ جھوٹ ایسے بولو کے لوگوں کو سمجھ نہ آئے لیکن اب لوگ ان کوسمجھ گئے ہیں، ان کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف پر ہم نے الزام نہیں لگایا تھا ، یہ جرمنی کااخبار تھا جس میں پانامہ کا الزام لگا تھا ، بی بی سی اور گارڈین نے اس پر رپورٹنگ کی تھی ، ہم نے تو تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری جدوجہد نہ ہو اور ہم اداروں کے پیچھے کھڑے نہ ہوں تو یہ جتنا بڑا مافیا تھا ، اس کو جیل پہنچانا آسان کام نہیں تھا ، تحریک انصاف کی تحریک سے اداروں کو تقویت ملی، ہل میٹل ، العزیزیہ اور فلیگ شپ کیسز سب کے سامنے ہیں، حسن اورحسین نواز آج کہاں رہ رہے ہیں؟ جس عمر میں بچوں کے شناختی کارڈ نہیں بنتے ، اس عمر میں حسن اورحسین نواز ارب پتی ہوگئے ، این آراو کی ایک تاریخ ہے ، اس حوالے سے ن لیگ کے بڑے بات چیت کررہے ہیں، اس حوالے سے ہر بات ٹی وی پر بتانے والی نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ میں شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب اور محمد زبیر کی جرات پر حیران ہوں کہ یہ لوگ معیشت کابیڑاغرق کرکے چلے گئے ہیں اور ہم کو آکر لیکچر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر فوجی عدالتیں نہیں ہونے کی چاہئے تھی لیکن ہم مخصوص حالات سے گزرے ہیں۔

Facebook Comments