48

پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کا احتجاج کا اعلان

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے لئے 29 جنوری کو احتجاج کا اعلان کردیا۔ ایسوسی ایشن کی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز صوبائی صدر سید روئیدار شاہ کی زیر صدارت میں منعقد ہوا، جسمیں صوبائی کابینہ کے تمام عہدیداروں ، ڈویژنل صدور نے شرکت کی۔اجلاس میں کابینہ کی رائے اور تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلے کئے گئے کہ پیرامیڈیکس کے جائز مطالبات و مسائل کے بارے میں صوبائی حکومت و ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران بالا کے نوٹس میں بار بار لانے کے باوجود حل نہیں ہورہے اور روز بروز پیرامیڈیکل سٹاف کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لہذا اگر خکومت اور محکمہ صحت نے 15جنواری تک ان مسائل کو حل کرنے میں پیش رفت ظاہر نہیں کیا تو صوبہ بھر کے پیرامیڈیکل سٹاف مورخہ 29جنوری صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے افسران بالا پر ہونگی۔ مطا لبات میں ون ٹائم پروموشن ؍کوالیفائیڈ پیرامیڈیکس؍ڈگری ہولڈر ز پیرامیڈکس کی Initialریکروٹمنٹ پر عمل درآمد نہ کرنا اور مختلف حیلے بہانے تلاش کرنا۔ جس کی وجہ سے پیرامیڈکل سٹاف میں شدید بے چینی پھیلتی جارہی ہے۔
صوبہ بھر کے پیرامیڈیکس کا واحد تعلیمی ادارہ پوسٹ گریجویٹ پیرامیڈیکل انسٹیٹوٹ پشاور میں تاحال بی ایس کے کلاسز شروع کرنے کے لئے اقدامات نہ کرنے اور بعض سازشی عناصر کی طرف سے اس ادارے کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور صوبائی حکومت کو غلط معلومات فراہم کئے جارہے ہیں۔ ایم ٹی آئی ایکٹ میں یکطرفہ ترامیم سے ملازمین میں انتہائی بے چینی پھیلی ہوئی ہے حالانکہ پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر ملازمین حکومت کے اصلاحات کے خلاف نہیں لیکن مذکورہ ایکٹ میں ملازمین کو انکے بنیادی حقوق بھی چھین لی گئی ہیں۔ لہذا حکومت فوری طور پر ایکٹ میں ترمیم کرکے ملازمین کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کی جائے۔ پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن نے صوبائی ہیلتھ پالیسی کو یکسر مسترد کرتی ہے کیونکہ محکمہ صحت میں ریڈ کی ہڈی کا حیثیت رکنے والے محکمہ صحت میں سب سے بڑے کیڈرپیرامیڈیکل سٹاف سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا ہے۔
لہذا حکومت پیرامیڈکل سٹاف کو صوبائی ہیلتھ ٹاسک کمیٹی میں مناسب نمائندگی دیکر ہیلتھ پالیسی بانی جائے ‘ ہیلتھ کیئر کمشن کی جانب سے کوالیفائیڈ پیرامیڈیکس کو بے جا طور پر ہراسان کر نے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے ،کیونکہ یہی پیرامیڈیکس ہسپتالوں میں اپنے عملی تجربے اور تعلیمی قابلیت کے مطابق جو خدمات فراہم کر ہے ہیں وہی فسٹ ایڈ سروسز اپنے فسٹ ایڈ سنٹرز اور لیبارٹریز وغیرہ میں بھی فراہم کر رہے ہیں، اسلئے اگر ان کوالیفائیڈ پیرامیڈیکس کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا اور پیرامیڈیکل سٹاف نے ہسپتالوں میں بھی خدمات کی فراہمی سے انکار کیا اور اس سے مریضوں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو متعلقہ ادارے تمام تر نقصانات کے ذمہ دار ہونگے۔

Facebook Comments