42

جنرل راحیل کے متعلق بڑی خبر 2018

شکریہ راحیل شریف کا لفظ نام نے ضرور سنا ہوگا یہ کیا تھا اور کیوں تھا اور کیوں یہ نعرہ لگایا گیا تھا اس کا پس منظر بھی آپ جانتے ہوں گے آپ کو بتاتے چلیں کہ ایک پیر پنجر نام کے ہوتے ہیں کہ جو پیشنگوئیاں کرتے ہیں اور زیادہ تر ان کی پیشنگوئیاں سیاست کے بارے میں ہوتی ہے اگرچہ ان میں سے اکثریت غلط ثابت ہوتی ہے لیکن کچھ ان کی ایسی پیشنگوئیاں بھی ہے جو کہ مکمل ہو رہی ہے لیکن پاکستان کی سیاست سے کوئی بھی شخص اگر واقف ہے تو مستقبل کے بارے میں خود بھی دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے اس لیے آپ ان پیشین گوئیوں کو زیادہ سیریس نہ لے اور نہ ہی اسے اس شخص کی کسی قسم کی بزرگی ثابت ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ نواز شریف اور زرداری سے سیادت لی جائے گی اور ان کی جگہ راحیل شریف کو موقع دیا جائے گا اگر اگر راحیل شریف کی سیاسی خدمات کو دیکھا جائے تو ان کو صدر پاکستان بنانا چاہیے کیونکہ انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ پچھلی حکومت کو نہ چلنے دیا جائے اور اور انہوں نے مشرف جیسے غدار کو بھی ملک سے باہر جانے میں انتہائی مدد کی اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے بھرپور کارروائیاں کیوں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ دہشت گرد دوبارہ ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ آجاتے ہیں اور نقصان کر کے چلے جاتے ہیں پیر پنجر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کی سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور وہ پجارو سے سائیکل پر آجائیں گے اگر دیکھا جائے موجودہ منظر نامے کو وہ بہرحال قومی اسمبلی میں نہیں ہے لیکن پہلے سے زیادہ طاقتور بنتے جا رہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کے جلسے ہیں نوازشریف جیل میں ہے لیکن جس بنیادوں پر ان کو سزا سنائی گئی ہے ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مہینے کا کیس ہے مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ نوازشریف سے نااہل ختم ہوگی اور یہ کیس میں ایک مہینے کے اندر ختم کر سکتا ہوں اسی طرح ان کا ایک اور بھی دعویٰ تھا کہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کا کوئی مستقبل نہیں لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ناصر سیٹ جیتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بن چکے ہیں اور اپنے تایا اور اپنے والد کی جگہ پر خوب سیاست چمکا رہے ہیں شہباز شریف کے بارے میں بھی ان کا یہی کہنا تھا کہ ان کا مستقبل نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے خلاف جو کیسز تو آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے حکومت کو مجبور کیا دباؤ ڈال کر کہ ان کو پبلک کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جائے پھر پنجاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 2024 تک راحیل شریف کو صدر بنا دیا جائے گا اور اس کے بعد پاکستان میں صدارتی نظام ہوگا اب دیکھتے ہیں کہ ان کی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے

Facebook Comments