54

سٹی پٹرولنگ فورس کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ

پشاور( آوازچترال رپورٹ) ۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان نے کہا ہے کہ سٹی پیٹرولنگ فورس کی جرائم کو کنٹر ول کرنے اور عوامی خدمت کی بہترین کارکردگی کے پیش نظر پشاور میں اسکی تعداد دُگنی کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا دائرہ کار صوبے کے دیگر اضلاع تک بڑھادیا جائیگا۔
یہ بات انہوں نے پیر کے روز ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں سٹی پٹرولنگ فورس کے قیام کی دوسری سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی تقریب میں تنازعات کے حل کے کونسلوں کے ممبران، معززین شہر، میڈیا کے نمائندوں ،سول سوسائٹی اور اعلیٰ پولیس حکام نے کثیر تعداد میں تقریب میں شرکت کی کہ سٹی پیٹرولنگ فورس نے جرائم کو کم کرنے اور عوامی خدمت کے حوالے سے شاندار نمایاں کامیابی کیساتھ ایک ساتھ مکمل کرلیا ہے۔
آئی جی پی نے کہا کہ سٹی پیٹرولنگ فورس نے اپنے ابتدائی دو سال عوام کی خدمت اور جرائم کے خاتمے کے سلسلے میں پولیس فورس کے ساتھ شانہ بشانہ کردار ادا کرکے کامیابی سے مکمل کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ ان کی شاندار کارکردگی کے پیش نظر پشاور میں نہ صرف اس کی تعداد دْگنی کردی جائیگی بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی بہت جلد یہ نظام شروع کردیا جائیگا اور کسی بھی وقوعہ کی صورت میں بغیر کسی رکاوٹ کے فوراً موقع پر پہنچ کر کاروائی عمل میں لائے گی۔
سٹی پیٹرول ایک تجرباتی کانسیپٹ کے طور پرمتعارف کروایا گیااور اس میں 22 گاڑیاں کام کر رہی ہیں جس نے چار ہزار لوگوں کو کم سے کم وقت میں رسپانس دیا ہے2 منٹ سے 7 منٹ تک جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہیباہر ملکوں میں جیسا رسپانس پولیس دیتے ہے ویسا ہم نے بھی متعارف کروایا ہے اس کے ساتھ ساتھ 4 جی ہیلمٹ ا ی پولیسنگ کا حصہ ہے4 جی ہیلمٹ تمام پویس آپریشنزمیں استعمال ہو گی اور ان کی لائیو مانیٹرینگ کرنے کی جو بھی کاروائی ہوگی۔
وہ پولیس کی دیکھی جائے گی پولیس میں شفافیت پر توجہ ہے ا ی پولیسنگ کے تحت ہر موبائل جب باہر جائیگی تو آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے سہولیات سے لیس ہوگی اور پولیس کے تمام کاروئیوں کی لائیو مانیٹرنگ ہوگی۔آنے والے وقت میں پولیس کا پورا نظام ا ی پولیسنگ پر مبنی ہوگا۔ا ی پولیسنگ میں عوام اور پولیس کے حقوق محفوظ ہونگے پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا کرائم ڈیٹا بیس خیبر پختونخوا پولیس کے پاس ہے پاکستان میں کے پی پولیس پہلا محکمہ ہے جو تھانوں کا بجٹ بنائے گی رائٹ ٹو سروس پولیس نظام کا حصہ ہوگا۔
صوبے کے پولیس کا 95% نظام کمپیوٹرائزڈہو گیا ہے جبکہ دہشت گردی کی ظاہری جنگ جیت چکے ہیں اورسابقہ قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کے لئے ہم نے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کی سمری صوبائی حکومت کو ارسال کردی گئی ہے اور پولیس ایکٹ 2017 کے تحت بہت جلد تمام سیفٹی کمیشن قائم ہو کر اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردیں گے ۔
آئی جی پی نے کہا کہ جرائم اوردہشت گردی کے خلاف بے انتہا نمایاں کامیابیوں کے باوجود پولیس اپنے فرائض اور اہداف سے غافل نہیں پبلک سروس ڈیلیوری اور پویس میں مزید بہتری لانے کے لیے دن رات مسلسل کوششیں جاری و ساری ہیں اور پولیس کرائم فری سوسائٹی کے قیام کی جانب تیزی سے گامزن ہے اوراس کے لیے تن من دھن کی بازی لگارہاہے۔
سٹی پیٹرولنگ فورس نے رواں سال کے دوران تعلیمی اداروں کی سیکورٹی31,152 حساس اور غیر محفوظ مقامات، کریمنل ریکارڈ ویری فیکیشن کے تحت 7,717,412افراد، وہیکل ویری فیکیشن سسٹم کے تحت 5,510,688گاڑیوں، کرایہ کے عمارتوں کے قانون کے تحت 38,849مقامات کو چیک کیا۔کئی جگہوں پرٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنایا اورسنگین جرائم کے سلسلے میں 4,958 جگہوں کی جیوٹیکنگ کی گئی۔
اس موقع پر آئی جی پی نے بہترین نمایاں کارکردگی پر سٹی پیٹرولنگ فورس کے اہلکاروں ڈی ایس پی عثمان خان، اے ایس آئی فیاض گل ،عمر فاروق ،افسراور جہانگیر کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازااور پشاور پولیس اور سٹی پیٹرول کے افسران اور اہلکاروں کو شاباش دی بعد ازاں آئی جی پی نے سٹی پیٹرولنگ فورس کا کامیابی سے دوسال مکمل ہونے پر کیک بھی کاٹا۔

Facebook Comments