58

احتساب کے نام پر انتقام بند کیا جائے :پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر جے آئی ٹی ارکان سے ملنے کاالزام عائدکردیا

کراچی( آوازچترال رپورٹ) پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی احتساب کے نام پر انتقام بند کیا جائے :پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر جے آئی ٹی ارکان سے ملنے کاالزام عائدکردیااحتساب کے نام پر انتقام بند کیا جائے :پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر جے آئی ٹی ارکان سے ملنے کاالزام عائدکردیاارکان سے ملاقاتیں کیں، احتساب کے نام پر انتقام بند کیا جائے۔

دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حکومت بتائے اسے عدالت اور جے آئی ٹی کے فیصلے پہلے سے کیسے معلوم ہیں؟ جبکہ نفیسہ شاہ نے کہا کہ شہزاد اکبر کو وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے پاس بھیجا، چیف جسٹس اس بات کا نوٹس لیناچاہئے ۔

مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حکومت صرف الزام تراشی کر رہی ہے کام نہیں، وزرا صرف انتشار کی باتیں کرتے ہیں، حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائے، جو دوسروں کو اڈیالہ بھیج رہے ہیں خود بھی جائیں گے، ہم بھاگنے والے نہیں بلکہ مقابلہ کریں گے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ کہاں ہیں؟ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عوام کی زندگی میں کیا تبدیلی لائے؟ حکومت کو عدالت اور جے آئی ٹی کے فیصلے پہلے کیسے معلوم ہیں؟ احتساب کا نعرہ لگانے والوں کا بھی احتساب ضرور کیا جائے گا۔

رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب کے عمل میں شامل ہے، وزرا اور مشیروں کو جے آئی ٹی کی رپوٹ کا پہلے کیسے پتہ ہے؟ چیف جسٹس اس معاملے کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر کا قانون میں کوئی خاص عہدہ نہیں، وزیراعظم نے انھیں جے آئی ٹی کے پاس بھیجا ۔ سعید غنی نے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی فرد کے خلاف کچھ نہیں ہو رہا، پیپلز پارٹی کے لوگوں کے خلاف گرفتاریاں اور انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان کے معاملے میں کبھی نیب کو ہمت اور جرات نہیں ہوئی، پاک لین کے معاملے میں کرپشن کا کیس ہی نہیں ہے، احتساب کے نام پر پیپلزپارٹی کی قیادت سے انتقام لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہزاد اکبر کی ڈی جی ایف آئی اے کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 48 گھنٹے میں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے کہ شہزاد اکبر کہاں کہاں گئے اور کس کس سے ملتے رہے ہیں؟

Facebook Comments