52

"لواری ٹنل سے سفر اور این۔ایچ۔اے کا شیڈول "تحریر ؛۔محمد کوثر ایڈوکیٹ

یوں تو چترال کے لواری ٹاپ سے دردناک واقعات وابستہ ہیں جب چارسو چترال برف کے پہرے میں ہوتا تو چترال واحد پاکستان کا علاقہ ہوا کرتا تھا جو صرف دنیا ہی سے نہیں خود اپنے ہی ملک سے چھ چھ مہینے کٹا رہتا تھا۔یہ خونی ڈریکولا پہاڑی ٹاپ کٸی معصوموں کا خوں چوس کر ہڈیوں کا قیمہ بنا چکا ہے۔ اللہ غریق رحمت کرے بھٹو مرحوم کو جو اس پر کام کا آغاز کیا مگر معاشی کمزوری یا کچھ اور وجوھات کی وجہ سے مزید کام نہی کرپاٸے۔جنرل مشرف چنکہ ” logestic support” فراھم کرنے میں "ید طولی ” رکھتے تھے نجانے کہاں سے رقم آگیے کہ ایک دم سے کام شروع کردیا گیا۔مشرف کے بعد پانچ سال ٹنل پر کام بند پڑا رہا 2013 میں نوازشریف صاحب نے حلف اٹھانے کے فورا بعد اعلان کیا کہ چترال کے عوام مجھے ووٹ نہ بھی دٸے تو بھی چترال کی خدمت کرونگا”۔یوں تاریخ میں تیزتریں کام لواری ٹنل میں شروع ہوا اور 90% کام مکمل کرکے قاید محترم نے ٹنل عام آمدورفت کے لیے کھول دیا۔اس دوران میاں صاحب کو حسب سابق سازشوں کے تحت وزارت سے معزول کیا گیا اور ساتھ ہی لواری ٹنل پہ "خوف کے پہرے "ڈال دیے گیے۔ٹنل کے اندر کام کے بہانے مسافروں کو تنگ کیا جانا شروع کردیا گیا آخر کار ممبر قومی اسمبلی مولانا چترالی صاحب کے ساتھ دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ھم مطمین ھوگیے تھے کہ شاید اب یہ کھٹ پٹ آیندہ نہیں ہوگا مگر پچھلے دنوں کے سفر نے ہمارے ارمانوں کی دنیا کو بھی لوٹ لیا۔
لواری ٹنل میں قریبا ڈھیڑ بجے پہنچے تو گاڑیوں کے قطار اندر قطار دیکھ کر طبیعت بوجھل ہوگٸی۔ہمارا دوست جو کہ ڈرایونگ سیٹ پر بیٹھا تھا کہنے لگا کہ وہ "جوان” جو کہ بیچوں بیچ کھڑا ھے ان سے اگر بات چیت کیا جایے تو کام ہوجاٸے گا۔میں دل ہی دل میں ھنستے ہویے ماحول کا جایزہ لینے کی غرض سے وہان گیا تو "جوان” مجھے دیکھ کر منہ ٹیڑھا کیا۔”وجہ رکاوٹ” پوچھا تو ٹنل میں کام کا بہانہ کیا اچانک ایک شخص آیا اور "اعلی حضرت”صوبیدار کا پتہ پوچھا تو "جوان” دور پہاڑ کے دامن میں انکے "تخت و تاج”کی جگہ کی نشاندھی کی۔چند منٹ بعد نجانے کیا ہوا جوان کے اشارے پہ ایک کوچ "کوُچ” کرگیا۔میں نے ڈرتے ڈرتے کہ( کہیں جوان ھمارے ساتھ بھی وہ بےعزتی نہ کردے جو ان کا دستور رہا ہے) سے پوچھا کہ "اندر تو کام ہورہا”۔۔تو جواب میں NHA کا "شاہی فرمان یعنی شیڈول ” کی جانب اشارہ کیا جو کہ اسکے کیبن پہ چسپان ھم سب کا منہ چڑا رہا تھا۔ البتہ قریب ایک شخص نے کہا کہ "جناب صوبیدار سے رابطہ کرنے سے کام ہوسکتا ہے”میں حیران کہ کہان این ایچ اے کا شیڈول کہان۔۔۔۔۔۔! یعنی تو کجا من کجا۔۔۔ سوچ رہا تھا کہ صوبیدار کے پاس جانے سے بہتر ہے یہاں ٹھٹہرتے رہیں کہ اسی اثنا دوست نے کال کیا کہ ایک پشتو اسپیکنگ "جوان”پشاور جارہا ہے ان کی شرط یہ ہے کہ اسے ساتھ لین تو اس شیڈول کو روندتے ہویے ھمیں ٹنل سے بحفاظت نکال لے گا۔
میں نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اس "جوان” کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھاٸیں کہ فی الوقت وہی ہمارے "اعلحضرت "ہیں۔یوں وہ جوان ہمیں لیکر "لاین آف کنٹرول”پار کی۔ٹنل میں ھو کا عالم تھا۔ کام کہان ہورہا تھا یہ تو معلوم نہیں ہوسکا البتہ ھم منزل پر وقت پر پہنچے۔
واپسی کا سفر بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھی۔دیر میں رات دو بجے پہنچے تو پھر روکا گیا۔وہان بھی پولیس کا جوان کھڑا تھا۔ان سے بات کی تو کہنے لگا کہ اگر کوٸی مریض ہے تو میڈیکل ٹسٹ دیکھاٸیں ورنہ انتظار کریں یا ٹنل کے ذمہ دار سے بات کریں ۔اسی دوران اسے کسی نے فوں تھما دیا تو جوان "جی صوبیدار صاب۔جی۔جی۔جی۔۔۔کہتے ہویے فوں بند کی اور ایک گاڑی کو اشارہ کیا یوں وہ کوچ جس میں نہ مریض تھے نہ ہی کچھ اور ہمارا منہ چڑاتے ہویے یہ جا وہ جا۔۔۔۔ کوٸی آدھ گھنٹے بعد گاڑی رکا۔ ڈرایور اپنا انٹری کرنے گیا واپس آکر کہا کہ وہاں کے "جوان” دیر پر گاڑیان روکنے کو غیر "قانونی” قرار دیا ہے۔ مجھے خود سمیت تمام مسافروں پر ترس آرھا تھا۔ایک طرف تماشا ہےجو نہتے لوگوں سے کیا جارھا ہے بہرحال اس جگے کوٸی بیس منٹ روکا گیا پھر ہم بھی سامنے ” slippery when wet” کے بورڈ پر طنزیہ نظرین ڈال کے ھنستے ہویے چل دیے۔

Facebook Comments