52

ٹرانسپورٹ اڈوں کی منتقلی؟

وزیراعلیٰ محمود خان نے چمکنی میں نئے بس ٹرمینل سمیت متعدد دیگر منصوبوں کی امکاناتی رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق ٹرانسپورٹ اڈے آبادی سے دور کرنے کیساتھ ٹرکوں کیلئے علیحدہ ٹرمینل قائم کرنے کا بھی کہا گیا ہے‘ صوبائی حکومت نے رنگ روڈ اور نمک منڈی فلائی اوورز کی فیزیبلٹی بھی فوری تیار کرنے کا کہا ہے‘وزیراعلیٰ کی جانب سے تازہ ہدایات صوبائی دارالحکومت میں بے ہنگم ٹریفک کے حوالے سے انکے احساس کی عکاس ہیں وزیراعلیٰ کے احکامات اسی صورت ثمرآور ثابت ہوسکتے ہیں جب ان پر عملدرآمد کیلئے ایک ٹائم فریم کا تعین ہو‘ عملدرآمد کے مراحل میں تمام سٹیک ہولڈر محکموں کے درمیان ہم آہنگی ہو‘ ماضی کے برعکس نئے منصوبوں کی امکاناتی رپورٹ میں سائٹس کا انتخاب کسی کی ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو‘اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ آج کی صورتحال میں بننے والا منصوبہ کتنے عرصہ تک ریلیف کا ذریعہ بن سکتا ہے جہاں تک ٹرانسپورٹ اڈوں کا تعلق ہے تو پشاور میں ٹریفک کی مین آرٹری پر ان کا سفر آگے کی جانب جاری ہے‘ ہشتنگری میں جی ٹی ایس اور جناح پارک کے قریب دیگر ٹرانسپورٹ ٹرمینل سفر کرتے ہوئے موجودہ مقامات تک پہنچے ہیں ۔
اندرون شہر کے گنجان علاقوں سے ٹرک سٹینڈ موجودہ اڈے پر آئے اور اب سب کچھ مزید آگے بڑھانے کیلئے منصوبہ بندی جاری ہے حکومتی منصوبہ سازوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ صوبائی دارالحکومت میں کوئی فول پروف ٹریفک پلاننگ نہیں تجاوزات اور ٹرانسپورٹ کے ذمہ دار محکموں کی جانب سے ٹریفک پولیس کو سپورٹ اس رنگ میں نہیں مل رہی جسے آئیڈیل قرار دیا جاسکے تعمیرات کے ضمن میں ہماری پلاننگ ٹریفک انجینئرنگ کی مہارت سے عاری رہی ہے‘وزیراعلیٰ کے احکامات پر عملدرآمد اور منصوبوں کا عملی صورت میں سامنے آنا ایک طویل المدتی کام ہے اسوقت تک صرف اس امید پر کہ پراجیکٹس مکمل ہونگے تو لوگوں کو ریلیف ملے گا صورتحال کو جوں کا توں نہیں چھوڑا جاسکتا‘ بہتر یہ ہوگا کہ اسوقت موجودہ حالات میں اصلاح احوال کیساتھ عوام کو ریلیف دیا جائے ایسا صرف سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ماہرین کی آراء کیساتھ تمام ذمہ دار محکموں کی مشترکہ منصوبہ بندی سے ممکن ہے ۔
تجربات ثمرآور ہونے چاہئیں
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے طبی تدریسی اداروں کا درجہ رکھنے والے ہسپتالوں کے معاملات درست سمت میں لانے کیلئے صوبائی سطح پر پالیسی بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ‘پالیسی بورڈ ایم ٹی آئیز کیلئے معیار مقرر کریگا بورڈ کے ممبران پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹروں سے لئے جائیں گے‘ قابل اطمینان ہے کہ حکومت طبی اداروں کی سمت درست کرنے کا احساس رکھتی ہے اپنی پہلی مدت اقتدار میں بھی طبی اداروں کے انتظام و انصرام کیلئے متعدد تجربات کئے گئے تاہم انکا نتیجہ چیف جسٹس آف پاکستان کے گزشتہ دنوں خطاب میں واضح نظر آتا ہے‘حکومت جو چاہے تجربے کرے ایک بات ہمیشہ مدنظر رکھنا ہوگی کہ لوگوں کو ریلیف صرف اسی صورت محسوس ہوگا جب وہ طبی اداروں میں آمد پر معیاری خدمات حاصل کرپائیں گے یہ خدمات پالیسیوں کے تحت ہی دی جاتی ہیں تاہم پالیسی کا عملی نفاذ اسوقت تک ممکن نہیں جب تک ذمہ دار حکام موقع پر پہنچ کر خود اپنی آنکھوں سے نتائج کا جائزہ نہیں لیتے اورتمام پابندیوں کو ہٹا کر عام لوگوں سے فیڈ بیک نہیں لیا جاتا۔

Facebook Comments