65

لواری ٹنل اپروچ روڈز، ایون بمبوریت روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ ، چترال شندور روڈ اور بجلی سے محروم تمام علاقوں کو ٹرانسمشن لائن بچھانے کا کا م پی ایس ڈی پی شامل ہیں۔ خسرو بختیار

پشاور(نمائندہ آوازچترال )چترال سی پیک میں شامل ہے ٹرانسمشن لائن بچھا کر گولین گول پراجیکٹ کو مکمل کریں گے ابھی تک32 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں چترال کے ٹوٹل منصوبوں کیلئے 63 ارب روپے مختص ہیں چترال شندور روڈ کو پی ایس ڈی پی 2018-19 میں شامل کر لیا گیا ہے یہ صرف چترال کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خسرو بختیار نے مولانا عبد الاکبر چترالی کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں قومی اسمبلی کے جمعہ کے دن اجلاس میں کیا مولانا عبد الاکبر چترالی نے چترال کے سات اہم منصوبوں کو پی ایس ڈی پی 2018-19 سے نکالنے سے متعلق حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کیا تھا جس کے جواب میں وفاقی وزیر نے مولانا چترالی کو تمام منصوبوں کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ان منصوبوں میں لواری ٹنل اپروچ روڈز، ایون بمبوریت روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ ، چترال شندور روڈ اور بجلی سے محروم تمام علاقوں کو ٹرانسمشن لائن بچھانے کا کا م شامل ہیں۔

Facebook Comments