69

مستقبل کی بہتر سہولت کیلئے کچھ قربانیاں دینی ہونگی ٗ محمود خان

پشاور ۔(آوازچترال رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے یقین دلایا ہے کہ پشاور کے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ۔ بی آرٹی کی پہلے سے طے شدہ وقت پر تکمیل سے بجلی اور گیس کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا اُن کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ وہ ایم پی اے پیر فدا کی زیر قیادت خلیل مومند پشاور کے 100 ممبرجرگہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورسے خطاب کررہے تھے ۔
اس موقع پر صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر ، منتخب ایم پی ایز ، وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی و دیگر نے شر کت کی ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو پشاور کے گردو نواج میں رہائش پذیر لوگوں کی بی آر ٹی سے پید ا شدہ تکالیف سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے مختلف گیٹوں کو لوگوں کے آمدورفت کیلئے کھولا جائے ، بی آر ٹی سے پیدا شدہ مسائل جلد سے جلد حل کئے جائیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کے کم پریشر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔
جرگہ نے تعلیم اور صحت سے جڑے مسائل کے حل کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارا صوبہ 10 فیصد اپنے وسائل اور90 فیصد وفاقی وسائل پر انحصار ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ ہماری کو شش ہے کہ صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ اپنے وسائل پیدا کرکے صوبے کو خود کفیل بنایا جائے اور یہ وسائل صوبے کے لوگوں کے فلاح و بہبود پر خر چ کئے جائیں۔ اُنہوں نے کہاکہ وہ پشاور میں گیس کے کم پریشر کے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں اس بارے اُنہوں نے متعلقہ محکمے کو پہلے سے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو جلد حل کریں تاکہ پشاور کے لوگوں کو گیس کے پریشر میں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوں ۔
اُنہوں نے یقین دلایا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی تکمیل کے بعد پشاور میں گیس کے کم پریشر کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ جرگہ کے ممبر اور پشاور کے لوگوں کو بی آر ٹی پراجیکٹ میں تعاون پر اُنہیں سراہتے ہیں اور مزید کہاکہ وہ بی آرٹی پراجیکٹ سے پشاور کے لوگوں کے تکالیف اور اذیت سے مکمل باخبر ہیں لیکن مستقبل کی بہتر سہولت اور پشاور کے عوام کیلئے اس نئے منصوبے کی تکمیل کیلئے تھوڑ ی سی قربانی دینا میرے خیال میں بہت کم قیمت رکھتی ہے ۔
بی آر ٹی پراجیکٹ جو اپنی نوعیت کا ایک بہترین اور صوبے میں پہلا تھر ڈ جنریشن منصوبہ ہے اور سنگ میل کا مقام رکھتی ہے ۔ اور یہ کہ یہ منصوبہ پشاور شہر کے ٹریفک کے گھمبیر مسئلے کا واحد اور کل وقتی حل ثابت ہو گاجس سے پشاور شہر ایک منفرد اور بدلا ہوا نظارہ پیش کرے گا۔ اس کی تکمیل کیلئے ہمیں اجتماعی طور پر تعاون کرنا ہو گا۔ اُنہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اُنہوں نے ذاتی طور پر بی آر ٹی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اس کو ایکنک سے منظور کروایااور اس کیلئے معاشی اورعملی لحاظ سے ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کیا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پشاور کے اسی علاقے میں گورنمنٹ گرلز کالج کا اعلان بھی کیاجس کیلئے سرکاری زمین کو بروئے کار لایا جائے گا۔
اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ معاشرے میں کنڈاکلچر کی بیخ کنی اور بجلی کی چوری کو ختم کرنے کیلئے تعاون کریں کیونکہ وفاقی حکومت نے اُس کے ساتھ اجلاس اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ممکنہ حد تک ختم کیا جائے گااور وفاقی حکومت وہ ہرمدد صوبے کو فراہم کرے گی جس کا وفاقی حکومت نے وعدہ کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ وہ پشاور کے مختلف پراجیکٹس میں کلا س فور کی آسامیوں پر پابندی بھی جلد اُٹھائیں گے ۔
اُنہوں نے مزید کہاکہ انہوں نے پہلے سے پشاور میں تمام ہسپتالوں کا دورہ بھی کیا ہے اور وہاں پر مریضوں کے بوجھ اور رش سے باخبر ہیں اور یہ بھی یقین دلایا کہ وہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سنٹر ز کو مزید وسعت اور فعال بنائیں گے تاکہ مریضوں کا بوجھ اُن تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں کم کیا جائے ۔ خیبرٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے متعلق مسائل پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس کے حل کیلئے وہ ایک الگ اجلاس بلائیں گے تاکہ ان ہسپتالوں کے مسائل کو جلد سے جلد حل کیا جائے ۔

Facebook Comments