68

خیبر پختونخوا میں عورتوں پر تشدد کیخلاف قانون سازی

پشاور۔ ( آوازچترال رپورٹ )خیبر پختونخو ا حکومت نے عورتوں پر تشدد کی سزائیں سخت سے سخت بنانے کیلئے قانون سازی کا عندیہ دیتے ہوئے تیزاب ڈالنے کو ناقابل معافی جرم قراردلوانے کے لیے قانون لانے کااعلان کیاہے اورکہاہے کوشش کرینگے تیزاب ڈالنے کو دہشت گردی کے زمرے میں لا یا جائے
اس سلسلہ میں خصوصی ٹاسک فورس کااجلاس گذشتہ روز وزیر اطلاعات وتعلقات عامہ شوکت علی یوسف زئی کی صدارت میں ہو اجلاس میں تجویز دی گئی کہ ا ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت کام کے مقامات پر حراسمنٹ کیلئے علیحدہ کمیشن بنایا جائے کیونکہ اکثر اعلی مینجمنٹ کے خلاف ہراسمنٹ کمپلینٹ جمع نہیں ہوتیں کیونکہ انکوائری میں اعلی مینجمنٹ کے اثر ورسوخ کا خدشہ رہتاہے خواتین کو اس میں اپنے کیسز لانے میں آسانی ہوگی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہراسمنٹ کیسز حل ہونگے۔ مقامی سطح پر عورتوں کو اپنے مسائل کے حل میں مزید اختیار بنانے کیلئے ضلع کی سطح پروومن کمیٹی بنائے جائیں جوکمیونٹی میں عورتوں کے مسائل کو بروقت حل کرسکے ابتدائی طور پراجلاس میں بیس اضلاع میں یہ کمیٹیاں بنانے پر غور کیا گیا ان وومن ضلعی کمیٹیوں کے منظوری کے لئے بعد میں کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ اور جنوب میں ڈویژنل سطح پر وومن یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی طرز پر خواتین کو میڈیکل کے شعبے میں باصلاحیت بنانے کیلئے نئے قبائلی اضلاع اورہزارہ، نارتھ ریجن اور ساوتھ ریجن میں وومن میڈیکل یونیورسٹیاں بنانے کیلئے کام جلد شروع کیا جائیگا۔ معاشرے میں ان پڑھ خواتین کیلئے وومن ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بنائے جا ئیں گے جہاں پر ہنر سیکھنے کے بعد کا روبار کیلئے خواتین کوآسان قرضے دیے جائیں گے
ٹاسک فورس میں فیصلہ کیاگیا کہ گداگری کی عادی خواتین کی تعداد میں کمی لانے کے لئے قانون سازی پر عمل جاری ہے تاکہ اس عمل کا تدارک کیا جائے گداگری کی عادی خواتین کی کونسلنگ کی جائے گی اور ان کو معاشرے میں باعزت اور بااختیار مقام دیا جائے گا بے گھر خواتین کے مسئلے کو دیکھتے ہوئے ہر ڈویژن کی سطح پر خواتین کے لئے علیحدہ دارالامان بنائے جائیں گے جہاں پر عوتوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی وراثت میں خواتین کے حصے کو یقینی بنانے کے لئے وراثت کے قانون کو مزید بااثر بنایا جائے تاکہ خواتین کو وراثت میں حصے ملنے میں آسانی ہو۔

Facebook Comments