110

100روزہ پلان ٗ خیبر پختونخوا بازی لے گیا

پشاور۔( آوازچترال رپورٹ)خیبر پختونخوا حکومت نے دیگر صوبوں سے سبقت حاصل کرتے ہوئے100روزہ پلان مرتب کر لیا ہے ٗ وزیراعظم عمران خان 14دسمبر کو پشاور آئیں گے اور 100روزہ پلان کی تقریب سے خطاب کرینگے ٗ مرکزی حکومت نے صوبے کو 13شعبوں کا ٹاسک دیا تھا تاہم خیبر پختونخواحکومت نے مجموعی طور پر 26شعبوں کیلئے 5سالہ پالیسی مرتب کی ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے منگل کے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ تیار ہے جس کے تحت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات کرائے جائینگے صوبے کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کو سو روزہ پلان کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا، قبائلی اضلاع میں واقع سکولوں کا معیار آئندہ پانچ سالوں میں بہتر بنایا جائے گاان کا مزید کہنا تھا کہ کے پی کابینہ کے سو دن چھ دسمبر کو مکمل ہورہے ہیں اور سوروزہ پلان کی لانچنگ چودہ دسمبر کو پشاور میں ہوگی جس میں وزیراعظم عمران خان خود سوروزہ پلان کا افتتاح کرینگے ۔
تیمور سلیم جھگڑہ کا مزید کہنا تھا کہ سوروزہ پلان میں صحت، تعلیم، بلدیات اور سیاحت میں انقلابی اقدامات اٹھایے جارہے ہیں اور اس کی لانچنگ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ پروگراموں کا ایک سلسلہ ہے جو کہ ہر محکمہ اپنے طور پر بھی منعقد کریگا۔ اس موقع پر وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کبھی بھی الیکشن کے بعد پارٹی منشور پر بات نہیں ہوتی، ہم آج اپنے منشور کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور یہی وجہ کہ صحت، تعلیم، سیاحت اور بلدیات کے شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ سو روزہ پلان کے چھبیس نکاتی ایجنڈہ پر بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ فاٹا مرجر کے حوالے سے بنایے گئے ٹاسک فورس نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے اور اس مد میں پہلے ہی کئی شعبے صوبے میں ضم ہوچکے ہیں اور صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کو فاٹا تک توسیع دی جائیگی اورآئندہ بجٹ پورے صوبے کیلئے یکساں ہوگا۔
فائل کلچر کو ختم کرنے کیلئے آئی ٹی پلان کے زریعے ای گورننس کا اجرا کیا جائیگا جبکہ صوبہ بھر میں صاف پانی کی فراہمی کا ا?غاز پشاور سے ہی کیا جاچکا ہے ۔بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے سوروزہ پلان میں مجوزہ منصوبے بارے بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ قبائلی نوجوانوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بلا سود قرضوں کیلئے پانچ بلین روپے مختص کیے جاچکے ہیں اور اس مد میں نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے تکنیکی مہارت کو عام کرنے کیلئے تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
سو روزہ پلان کے تحت سیاحت کے فروغ کیلئے پالیسی پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے جس کے تحت اب تک بیس ایسے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی ترقی سے صوبے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔
سرمایہ کاری کو سہل بنانے کیلئے صوبے کو کاروبار کے لحاظ سے آئیڈیل بنانے اور بزنس شروع کرنے کے مراحل کو آسان بنانے کیلئے بھی کام جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین سے رشکء انڈسٹرئیل زون قیام بارے بات چیت ہوئی ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر آئینگے بلکہ صوبے کے ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔

Facebook Comments