54

شہید ایس پی طاہرداوڑکی 23سالہ ملازمت پر ایک نظر

پشاور( آوازچترال رپورٹ) اسلام آباد سے اغواء اور بعدازاں افغانستان میں قتل ہونیوالے ایس پی رورل پشاور طاہر خان داوڑ نے 23سال تک پولیس میں خدمات انجام دیں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) بھرتی ہونے کے بعد اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ ترقی پاکر ایس پی کے عہدے تک پہنچے طاہر داوڑ 4 دسمبر1968ء کو شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی میں پیدا ہوئے ۔
1982 ء میں میٹرک، 1984 ء میں بی اے اور 1989 ء میں پشتو ادب میں ایم اے پاس کیاپبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی کے بعد اے ایس آئی کی حیثیت سے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی،1998ء میں ایس ایچ او ٹاؤن بنوں، 2002 ء میں سب انسپکٹر اور 2007 ء میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پائی انہیں قائد اعظم پولیس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
2009 ء سے 2012 ء تک ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا2014ء میں ڈی ایس پی کرائمز پشاور سرکل اور ڈی ایس پی فقیر آباد رہے طاہر داوڑ 2003ء میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر مراکش اور 2005 ء میں سوڈان میں تعینات رہے 2005 ء میں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں ان کی بائیں ٹانگ اور بازو میں گولیاں لگی تھیں۔
دو ماہ قبل انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی دیکر رورل پشاور میں تعینات کیا گیاان کے ساتھی پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ ایک فرض شناس افسر کے علاوہ بااخلاق اور بہادرانسان بھی تھے قریبی حلقوں کے مطابق طاہر داوڑ ادبی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتے تھے اور پشتو زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔

Facebook Comments