64

دھرنوں کے دوران توڑ پھوڑکرنیوالے 2000 افراد گرفتار ، ملزمان نے سرکاری ونجی املاک کونقصان پہنچایا

اسلام آباد(  آوازچترال نیوز)تحریک لبیک کے دھرنوں کے دوران تشدد مظاہروں میں املاک کو نقصان پہنچانے والے سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج جبکہ 2000کے قریب افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ان افراد کیخلاف درج مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ؒؒنجی ٹی وی چینل’’دنیا نیو ز‘‘ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 700 معلوم اور نامعلوم افراد کو مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے اور اب تک 75 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ڈی سی اسلام آباد کے مطابق ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنے والے 33 افراد کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائی جاری ہے۔کراچی میں 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک ہونے والے دھرنے اور ہنگامہ آرائی پر مختلف تھانوں میں مزید 34 مقدمات درج کئے جاچکے ہیں جن میں دفعہ 144 اور روڈ بندش کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے ضلع جنوبی میں 4، شرقی میں 3، ملیر میں 6 اور کورنگی میں 15، غربی میں ایک اور ضلع وسطی میں 5 مقدمات درج کئے گئے۔ کراچی سمیت سندھ بھر سے 61 افراد کو مقدمات میں نامزد کیاگیا ہے جن میں سے اب تک کورنگی 2 اور ضلع وسطی سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ شہید بے نظیر آباد سے بھی 2 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔

شیخوپورہ سے 70 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے،پولیس کے مطابق گرفتاریاں فیکٹری ایریا، خانقاہ ڈوگراں اور صدر شیخوپورہ سے کی گئیں اور تمام افراد کو ویڈیوز کی مدد سے نشاندہی کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ شیخوپورہ میں ہنگاموں کے دوران ایک بس، کاروں اور موٹر سائیکلوں کو جلایا گیا، مظاہرین نے 34 پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا۔

فیصل آباد پولیس نے احتجاجی تحریک کے دوران توڑ پھوڑ، جلاو گھیراو، خوف و ہراس پھیلانے، زبردستی راستے اور دکانیں بند کرانے کے الزام میں 34 مقدمات درج کر کے مطلوب 94 ملزمان کو گرفتار کرلیاجبکہ نوشہرہ پولیس نے رشکئی انٹرچینج کو آگ لگانے والے مظاہرین میں سے 17 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ مظاہرین کیخلاف تھانہ رسالپور میں 2 مقدمات درج کئے گئے ہیں، قصور میں روڈ جمبر میں مظاہرین نے یکم نومبر کو احتجاج کے دوران ڈی ایس پی سمیت 7 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیاتھا ،فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے 48 نامزد اور 252 نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلئے ہیں۔

Facebook Comments