58

 سینٹ کے فنکشنل کمیٹی بمبوریت ، ایون، کالاش ویلیز روڈ جو سابقہ حکومت میں ٹینڈر ہو چکے ہیں ۔ اُس پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے ،مطالبہ

چترال (نمائندہ آوازچترال ) سینٹ کے فنکشنل کمیٹی برائے کم تر قیافتہ علاقاجات اور مسائل کے چیرمین عثمان کاکڑ نے کہا ہے ۔ کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بلو چستان ، خیبر پختونخوا ، سندھ اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ پسماندہ علاقوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیا ۔ ایک علاقے میں سکول ، کالجز، یونیورسٹی ، صحت کے مراکز سمیت ہر قسم کی سہولیات دستیاب ہیں ۔ جبکہ دوسرے کئی علاقے ان سہولیات سے محروم ہیں ۔ ترقیافتہ علاقے وسائل پسماندہ علاقوں سے حاصل کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوام کی فلا ح و بہبود کیلئے اب نہ صرف تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ بلکہ ہنگامی بنیاوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ اور عوام کو سہولت میسر ہوں گی ۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ چترال کے دوران کالاش ویلی بمبوریت کے بلدیاتی نمایندگان اور عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سنیٹر مومن خان آفریدی ، سنیٹر محمد اعظم خان موسی خیل ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود ، اے ڈی سی منہاس الدین ،ای اے سی فیاض قریشی ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رحمت الہی ، ناظم وی سی بمبوریت محمد رفیع ایڈوکیٹ ، سابق ناظم یونین کونسل ایون عبدالمجید قریشی ،ممتاز کالاش خاتون سید گل کے علاوہ مسلم اور کالاش مردو خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال آبی وسائل ، ماربل ، گرینائٹ اور دیگر قیمتیٓ معدنیات سے مالا مال ہے ، مگر یہاں کی پچاس فیصد آبادی اب بھی بجلی کی نعمت سے محروم ہے ۔ سڑکوں کی حالت انتہائی طور پر خراب ہے ۔ اس لئے چترال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنااُن کی اولین ترجیح ہو گی ۔ یہاں سکول ، کالجز ، ہسپتال اور سڑکیں اپگریڈ کرنا اور ثقافتی اثاثہ جات بشمول زبان کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھانے کے حوالے سے سفارشات پیش کرکے اُنہیں رو بہ عمل کیا جائے گا ۔ انہوں کہا ۔ کہ چترال کی ترقی تب ہی ہو سکتی ہے ۔ کہ یہاں نوجوان نسل کو روزگار کے مواقع ملیں ۔ اور حکومت ان علاقوں میں مختلف صنعتی یونٹس لگائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے ۔ کالاش ویلیز میں مسلم اور کالاش قبیلے کے لوگ امن اور ہم آہنگی کے زرین اصولوں کے تحت اخوت اور بھائی چارے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ سنیٹر اعظم خان موسی خیل نے کہا ۔ کہ یہ افسوس کی بات ہے ۔ کہ جہاں خدا کی نعمتیں ہیں وہاں لوگ مشکل میں ہیں ۔ اور جہاں وسائل نہیں ہیں وہاں کے لوگ سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا ۔ کہ آپ ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجیں ۔ جو آپ کے مسائل کم کرنے میں کردار ادا کر سکیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم طبقات کے خلاف ہیں کیونکہ اسلام برابری کا درس دیتا ہے ۔انہوں نے کہا ، کہ چترال کی سڑکیں انتہائی طور پر خستہ حال ہیں ۔ اور ہماری کوشش ہوگی ۔ کہ ترجیحی بنیادوں پر ان پر کام شروع کیا جائے ۔ جبکہ سنیٹر مومن خان آفریدی نے کہا ۔ کہ سینٹ میں پسماندہ علاقوں کی کمیٹی اس لئے بنایا گیا ہے ۔ کہ ان علاقوں کو ترقی دی جاسکے ۔ قبل ازیں ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت الہی اور سابق ناظم عبدالمجید قریشی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اور علاقے کے مجموعی حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ کالاش قبیلے کے لوگ بر صغیر کے سب سے قدیم باشندے ہیں ۔ لیکن چترال کی وادیوں آج بھی یہ آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر کاربند ہیں ۔ جو کہ اس بات کی عکاس ہے ۔ کہ مسلم اور کالاش ایک دوسرے کے احترام کرتے ہیں ۔ جبکہ ناظم ویلج کونسل بمبوریت محمد رفیع نے سپاسنامہ پیش کیا ۔ جس میں مطالبہ پیش کیا گیا ۔ کہ ایون کالاش ویلیز روڈ جو سابقہ حکومت میں ٹینڈر ہو چکے ہیں ۔ اُس پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے ۔ کالاش ویلیز بمبوریت اور رمبور جو سیلاب کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ اور مزید خطرات درپیش ہیں ۔ کے نالوں کی چینلائزیشن کرنے کے ساتھ ساتھ حفاظتی بند تعمیر کئے جائیں ۔ سید آباد اور ایون کے مابین آر سی سی پُل تعمیر کیا جائے ۔گولین گول کی بجلی کی فراہم کی جائے ۔ کالاش ویلیز کی جغرافیائی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی نوجوانوں کو مختلف فورسز اور اداروں میں ملازمتیں دی جائیں ۔ اور یونین کونسل ایون کیلئے ایک اسپیشل پیکیج وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کیا جائے ۔ رمبور ویلی کی نمایندگی کرتے ہوئے اقبال نے علاقے میں صحت کی سہولیات باہم پہنچانے اور رمبور روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کیا ۔

Facebook Comments